مجنوں نظر آئے کوئی تو پتھروں سے ماریے (مستفعلن مستفعلن مستفعلن مستفعلن)

نوید ناظم — مئی 20، 2017 2:04 شام
لو دیکھ لو وہ روشنی سے لطف اٹھانے کے لیے
کس طرح آ جاتے ہیں میرا گھر جلانے کے لیے
مجنوں نظر آئے کوئی تو پتھروں سے ماریے
گویا یہ بھی اک کھیل ہے اب تو زمانے کے لیے
اس بات پر تو اور بھی ناراض ہو جاتے ہیں وہ
جو ہم چلے جائیں کبھی اُن کو منانے کے لیے
آواز مت دیجے کسی کو ڈوب جائیں بس یہاں
آتا نہیں اب نا خدا کوئی بچانے کے لیے
دل کے کسی بھی تار کو دیکھیں کسی دن چھیڑ کر
اس میں کئی نغمے ابھی تک ہیں سنانے کے لیے
اب آپ تو مت آئیے میری ہنسی کے جھانسے میں
یہ قہقہے تو ہیں فقط غم کو چھپانے کے لیے
پھر اس کا ہر کردار ہی ہم کو سرابوں سا لگا
ہم نے حقیقت چھوڑ دی تھی جس فسانے کے لیے
نوید ناظم — مئی 20، 2017 2:11 شام
محترم سر الف عین
دیگر اساتذہء کرام
الف عین — مئی 22، 2017 6:41 صبح
گویا یہ بھی..... میں وہی 'یبی' آ رہا ہے جس کی سمت پہلے ہی اشارہ کر چکا ہوں. 'یہ کھیل ہے گویا کوئی' کر دیں
الف عین — مئی 22، 2017 6:42 صبح
جھانسے کی َے' بھی ساقط ہو رہی ہے. اس کا بھی کچھ کرو
نوید ناظم — مئی 24، 2017 12:35 شام
گویا یہ بھی..... میں وہی 'یبی' آ رہا ہے جس کی سمت پہلے ہی اشارہ کر چکا ہوں. 'یہ کھیل ہے گویا کوئی' کر دیں
بہت شکریہ سر۔۔۔۔
مصرع بدل دیا' اسے آپ دیکھیے گا۔
مجنوں نظر آئے کوئی تو پتھروں سے ماریے
'گویا کہ یہ بھی کھیل ہے اب تو زمانے کے لیے'
نوید ناظم — مئی 24، 2017 12:37 شام
جھانسے کی َے' بھی ساقط ہو رہی ہے. اس کا بھی کچھ کرو
یہ مصرع بھی بدل دیا سر۔۔۔ آپ دیکھیے۔
شاید کہ میری اس ہنسی سے آپ دھوکا کھا گئے
یہ قہقہے تو ہیں فقط غم کو چھپانے کے لیے
الف عین — مئی 25، 2017 6:27 صبح
درست ہے غزل اب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AC%D9%86%D9%88%DA%BA-%D9%86%D8%B8%D8%B1-%D8%A2%D8%A6%DB%92-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%AA%D9%88-%D9%BE%D8%AA%DA%BE%D8%B1%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%8C%DB%92-%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%81%D8%B9%D9%84%D9%86-%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%81%D8%B9%D9%84%D9%86-%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%81%D8%B9%D9%84%D9%86-%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%81%D8%B9%D9%84%D9%86.96592/