مجھے پیار کرنا سکھایا کسی نے

ارشد چوہدری — دسمبر 25، 2022 3:57 صبح
الف عین
کاشف اسرار احمد
محمد عبدالرؤوف
شاہد شاہنواز
-------------
مجھے پیار کرنا سکھایا کسی نے
محبّت سے اپنا بنایا کسی نے
--------
نہیں لوگ سارے بھروسے کے قابل
یہ جینے کا نسخہ بتایا کسی نے
----------
کیا مجھ کو مانوس چاہت سے اپنی
محبّت کا نغمہ سنایا کسی نے
----------یا
محبّت سے واقف نہیں تھا میں ہرگز
----------متبادل
مجھے پیار کرنا جو آتا نہیں تھا
وفا کرنا مجھ کو سکھایا کسی نے
----------
مرے دل میں ہر سو اندھیرا تھا چھایا
چراغ،محبّت جلایا کسی نے
---------
نہیں پیار کرتا میں دنیا سے ڈر کر
ہے الزام مجھ پر لگایا کسی نے
------
وہ سمجھا مرا پیار ہے ایک دھوکہ
مرے دل کو ایسے دکھایا کسی نے
----------
انوکھا یہ انداز محبّت کا دیکھا
مرا نام لکھ کر مٹایا کسی نے
-------
کیا مجھ سے نفرت کا اظہار ایسے
مرے خط کو پڑھ کر جلایا کسی نے
----------------
وہ اپنی جفاؤں پہ نادم ہوا یوں
کہ اشکوں سے دریا بہایا کسی نے
---------
کسی نے جو ارشد سے وعدہ کیا تھا
-----یا
وفا کا جو ارشد سے وعدہ کیا تھا
سدا عہد اپنا نبھایا کسی نے
----------
الف عین — دسمبر 25، 2022 11:21 صبح
جب کسی کہہ کر فاعل کو پوشیدہ رکھا جائے تو اسے دوسرے مصرعے میں بھی پوشیدہ ہی رکھا جائے
الف عین
کاشف اسرار احمد
محمد عبدالرؤوف
شاہد شاہنواز
-------------
مجھے پیار کرنا سکھایا کسی نے
محبّت سے اپنا بنایا کسی نے
--------
نہیں لوگ سارے بھروسے کے قابل
یہ جینے کا نسخہ بتایا کسی نے
----------
کیا مجھ کو مانوس چاہت سے اپنی
محبّت کا نغمہ سنایا کسی نے
----------
سب ٹھیک ہی ہیں، آخری شعر بھی یہی بہتر ہے بہ نسبت متبادلات کے
یا
محبّت سے واقف نہیں تھا میں ہرگز
----------متبادل
مجھے پیار کرنا جو آتا نہیں تھا
وفا کرنا مجھ کو سکھایا کسی نے
----------
اوپر کہہ دیا گیا ہے
مرے دل میں ہر سو اندھیرا تھا چھایا
چراغ،محبّت جلایا کسی نے
---------
پہلا مصرع بدلیں 'تھا چھایا' اچھا نہیں
نہیں پیار کرتا میں دنیا سے ڈر کر
ہے الزام مجھ پر لگایا کسی نے
------
یہ الزام... کی ضرورت ہے
وہ سمجھا مرا پیار ہے ایک دھوکہ
مرے دل کو ایسے دکھایا کسی نے
----------
واضح نہیں
انوکھا یہ انداز محبّت کا دیکھا
مرا نام لکھ کر مٹایا کسی نے
-------
بحر؟ الفت کہیں محبت کی جگہ
کیا مجھ سے نفرت کا اظہار ایسے
مرے خط کو پڑھ کر جلایا کسی نے
----------------
درست
وہ اپنی جفاؤں پہ نادم ہوا یوں
کہ اشکوں سے دریا بہایا کسی نے
---------
وہ فاعل کے طور پر ضرورت نہیں، اس کے بغیر کہنے کی کوشش کریں
کسی نے جو ارشد سے وعدہ کیا تھا
-----یا
وفا کا جو ارشد سے وعدہ کیا تھا
سدا عہد اپنا نبھایا کسی نے
----------
پہلا متبادل بہتر ہے
ارشد چوہدری — دسمبر 25، 2022 8:33 شام
الف عین
(اصلاح)
-----------
مرا من اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا
چراغِ محبّت جلایا کسی نے
---------
مجھے اس نے الفت کے قابل نہ سمجھا
مرے دل کو اتنا جلایا کسی نے
----------
انوکھا یہ انداز الفت کا دیکھا
مرا نام لکھ کر مٹایا کسی نے
-----------
جفاؤں پہ اپنی ہوا یوں ہے نادم
کہ اشکوں سے دریا بہایا کسی نے
-----------
الف عین — دسمبر 26، 2022 2:27 صبح
الف عین
(اصلاح)
-----------
مرا من اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا
چراغِ محبّت جلایا کسی نے
---------
مرا دل.... کہنے میں کوئی حرج؟
مجھے اس نے الفت کے قابل نہ سمجھا
مرے دل کو اتنا جلایا کسی نے
---------
پہلے مصرع میں "اس نے" کی جگہ "اپنی" کر کے فاعل کو مبہم رکھنا بہتر ہو گا
انوکھا یہ انداز الفت کا دیکھا
مرا نام لکھ کر مٹایا کسی نے
-----------
درست
جفاؤں پہ اپنی ہوا یوں ہے نادم
کہ اشکوں سے دریا بہایا کسی نے
-----------
جفا پر کچھ اس درجہ نادم ہوا ہے
میرے مجوزہ مصرعوں پر غور کریں کہ کس وجہ سے بہتر ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7-%D8%B3%DA%A9%DA%BE%D8%A7%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%D8%B3%DB%8C-%D9%86%DB%92.119138/