ذرا تعقید لفظی و معنوی کے بارے میں بھی کچھ ارشاد ہو۔
تعقید بھی عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ 'عَقَد' ہے۔ عقد کا مطلب ہے 'گرہ یا گانٹھ لگانا' یا 'آپس میںباندھنا'۔ 'نکاح' کے لیے بھی عقد کا لفظ اسی رعایت سے استعمال کیا جاتا ہے کہ اس میں فریقین کو ایک رشتے میں باندھ دیا جاتا ہے۔
شاعری کی بحث میں بھی 'تعقید' کی اصطلاح انہی معنوں میں مستعمل ہے لیکن یہاں 'تعقید' صرف 'بے محل و موقع' الفاظ کو آپس میں باندھنے کے عیب کا نام ہے اور یہ بھی معائب سخن میں سے ایک ہے۔
کسی بھی شعر کے الفاظ کی ترتیب جس قدر روز مرہ و محاورہ کے قریب تر ہو گی اسی قدر وہ شعر سہولت کے ساتھ سمجھ آ سکے گا۔ گو قافیہ، ردیف اور وزن نباہنے کی خاطر شعرا کو آزادی حاصل ہے کہ وہ روز مرہ یا محاورہ کی عمومی ترتیب سے ہٹ کر الفاظ کو کسی حد تک الٹ پلٹ سکتے ہیں لیکن اس الٹ پلٹ سے معنوی اعتبار سے شعر میں تبدیلی نہ آئے۔ بطور مثال غالب کا یہ مصرع دیکھیے:
"تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا"
اگر اسے روزمرہ کے مطابق نثر میں لکھا جاتا تو یوں ہوتا:
زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا تھا
لیکن وزن نباہنے کی خاطر 'تھا' کو آخری کی بجائے پہلا لفظ بنا دیا گیا۔
اس حد تک تو جائز ہے۔ لیکن یہ آزادی ایک حد سے تجاوز کر جائے تو 'تعقید' کے زمرہ میں آتی ہے۔ یعنی اگر اسے 'ہوا تھا مرگ کا زندگی میں لگا کھٹکا' کر دیا جائے تو اس کا مفہوم یا تو بمشکل تمام سمجھ آئے گا اور یا معنوی اعتبار سے اس مفہوم سے مختلف ہو گا جو شاعر نے ادا کرنا چاہا اور یہی 'تعقید' ہے۔
نظامی صاحب! میرے خیال میں اب اس دھاگے کا نام 'تنافر حروف' سے بدل کر 'معائبِ سخن' کر دیں۔