محبت در حقیقت حق شناسی سے عبارت ہے

ابن رضا — جنوری 31، 2014 1:36 شام
تازہ کلام برائے اصلاح حاضرِ خدمت ہے
خدا کے پارسا بندے خدا سے دل لگاتے ہیں
گناہوں کی کثافت سے سدا دامن بچاتے ہیں
محبت در حقیقت حق شناسی سے عبارت ہے
ہدایت یافتہ دل ہی اسے پہچان پاتے ہیں
کہاں تک بھاگ سکتے ہیں اجل سے بھاگنے والے
یہ ہر دم ساتھ رہتی ہے جہاں بھی لوگ جاتے ہیں
خطا کرتے ہوئے کیوں کر نظر سے دور ہوتا ہے
دعا کرتے ہوئے اکثر جسے نزدیک پاتے ہیں
سرِ محشر تری قسمت کو بخشیں گے یہ تابانی
جو آنکھوں میں ندامت کے ستارے جھلملاتے ہیں

:cry:

ٹیگ: اساتذہ کرام و برادران
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 31، 2014 1:43 شام
بہت پرنور کلام ہے۔۔۔ ماشاءاللہ۔
اللہم زد فزد۔۔۔
ابن رضا — جنوری 31، 2014 1:44 شام
بہت پرنور کلام ہے۔۔۔ ماشاءاللہ۔
اللہم زد فزد۔۔۔
بس آپ کی صحبت کا اثر ہے :)۔
پسند آوری کا شکریہ
جزاک اللہ خیر
محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 31، 2014 1:48 شام
مقطع پر حملہ۔۔۔۔
مقدر تیرا چمکائیں گے محشر میں رضا یہ ہی
جو آنکھوں میں ندامت کے ستارے جھلملاتے ہیں
ابن رضا — جنوری 31، 2014 1:50 شام
مقطع پر حملہ۔۔۔ ۔
مقدر تیرا چمکائیں گے محشر میں رضا یہ ہی
جو آنکھوں میں ندامت کے ستارے جھلملاتے ہیں

خوبصورت اور جان لیوا حملہ ہے:)۔ جزاک اللہ
ابن رضا — جنوری 31، 2014 7:04 شام
محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 31، 2014 7:08 شام
دامن کو بچاتے ہیں
یہ کو ٹھیک ہے؟
محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 31، 2014 7:09 شام
خطا کرتے ہوئے کیوں کر نظر سے دور ہوتا ہے
دعا کرتے ہوئے اکثر جسے نزدیک پاتے ہیں
یہ شعر پسند آیا۔۔۔۔
ابن رضا — جنوری 31، 2014 7:14 شام
دامن کو بچاتے ہیں
یہ کو ٹھیک ہے؟
غور طلب ہےیہ کہ یہاں تخصیص تو ہے ، "خدا کے پارسا بندے؟"
عظیم — جنوری 31، 2014 9:03 شام
خطا کرتے ہوئے کیونکر وہ ہم سے دور ہوتا ہے
دعا کرتے ہوئے جس کو بہت نزدیک پاتے ہیں
نایاب — فروری 1، 2014 7:08 صبح
بلاشبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سچ کہا
محبت در حقیقت حق شناسی سے عبارت ہے
ہدایت یافتہ دل ہی اسے پہچان پاتے ہیں
بہت دعائیں
ابن رضا — فروری 1، 2014 7:23 صبح
بلاشبہ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ سچ کہا
محبت در حقیقت حق شناسی سے عبارت ہے
ہدایت یافتہ دل ہی اسے پہچان پاتے ہیں
بہت دعائیں
پسند آوری کا شکریہ جناب۔ شاد و آباد رہیں۔:)
محمد یعقوب آسی — فروری 1، 2014 9:47 صبح
عمدہ ہے۔
اس شعر کو دیکھ لیجئے ۔۔
اجل سے بھاگنے والے کہاں تک بھاگ سکتے ہیں
یہ ہر دم ساتھ رہتی ہے جہاں چاہے وہ جاتے ہیں
ایک تو یہ ہے کہ تقابل ردیف العین سے بچنے کے لئے اس کا پہلا مصرع اگر یوں کر لیا
جائے۔۔
کہاں تک بھاگ سکتے ہیں اجل سے بھاگنے والے
دوسرے یہ کہ مصرع ثانی میں "جہاں چاہے" کی بجائے "جہاں بھی" کا مقام ہے۔ اس کو کسی طور بہتر کر لیجئے۔
محمد یعقوب آسی — فروری 1، 2014 9:50 صبح
دامن کو بچاتے ہیں
یہ کو ٹھیک ہے؟
جی، سوال توجہ طلب ہے۔ دامن بچانا محاورہ ہے، "کو" زائد ہے۔
خالد محمود چوہدری — فروری 1، 2014 9:54 صبح
جزا کے دن رضا تجھ کو یہی آ کر بچائیں گے
جو آنکھوں میں ندامت کے ستارے جھلملاتے ہیں

اللہ کرے اور بھی زورِسخن زیادہ
محمد یعقوب آسی — فروری 1، 2014 9:56 صبح
مقطع پر حملہ۔۔۔ ۔
مقدر تیرا چمکائیں گے محشر میں رضا یہ ہی
جو آنکھوں میں ندامت کے ستارے جھلملاتے ہیں
"یہ ہی" کچھ ثقالت پیدا نہیں کر رہا کیا؟
جزا کے دن رضا تجھ کو یہی آ کر بچائیں گے
جو آنکھوں میں ندامت کے ستارے جھلملاتے ہیں
دوسرا مصرع بہت مضبوط ہے۔ پلے مصرعے میں اشکوں کی رعایت سے رحمت کا مذکور ہو جائے تو شعر بہت بلند ہو سکتا ہے۔ مزید اگر "چمکائیں" کی جگہ "جگمگائیں" ہو سکے تو سونے پر سہاگا۔ جھلملاتے سے صوتی رعایت بھی بنتی ہے۔
ابن رضا — فروری 1، 2014 10:01 صبح
"یہ ہی" کچھ ثقالت پیدا نہیں کر رہا کیا؟
جزا کے دن رضا تجھ کو یہی آ کر بچائیں گے
جو آنکھوں میں ندامت کے ستارے جھلملاتے ہیں
دوسرا مصرع بہت مضبوط ہے۔ پلے مصرعے میں اشکوں کی رعایت سے رحمت کا مذکور ہو جائے تو شعر بہت بلند ہو سکتا ہے۔ مزید اگر "چمکائیں" کی جگہ "جگمگائیں" ہو سکے تو سونے پر سہاگا۔ جھلملاتے سے صوتی رعایت بھی بنتی ہے۔

جی فوری تو یہ تجویز ہے اگر مناسب لگے
"مقدر جگمگائیں گے رضا تیرا یہ محشر میں"
مزید بھی میں غور کرتا ہوں۔ آپ مطلع بھی اوپر دوبارہ ملاحظہ فرمائیں
سید شہزاد ناصر — فروری 1، 2014 10:03 صبح
بہت خوب :)
دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا کلام
داد حاضر ہے
شراکت کا شکریہ
اللہ کرے زور قلم زیادہ
سید عاطف علی — فروری 1، 2014 10:36 صبح
جی فوری تو یہ تجویز ہے اگر مناسب لگے
"مقدر جگمگائیں گے رضا تیرا یہ محشر میں"
مزید بھی میں غور کرتا ہوں۔ آپ مطلع بھی اوپر دوبارہ ملاحظہ فرمائیں
رضا بھائی۔
جگمگا نا ۔۔ لازم مستعمل ہے۔۔ اس کا متعدی استعمال معیاری نہیں۔مثلا ً ۔۔۔انہی سے جگمگائے گا مقدر حشر میں تیرا۔۔۔۔ وغیرہا
ابن رضا — فروری 1، 2014 1:04 شام
بہت خوب :)
دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا کلام
داد حاضر ہے
شراکت کا شکریہ
اللہ کرے زور قلم زیادہ
جزاک اللہ جناب۔ شاد و آباد رہیں
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA-%D8%AF%D8%B1-%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA-%D8%AD%D9%82-%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D8%B3%DB%92-%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%DB%81%DB%92.71714/