محبت میں تو جتنے بھی خسارے تھے ہمارے تھے

نوید ناظم — اپریل 7، 2018 10:36 شام
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت میں تو جتنے بھی خسارے تھے ہمارے تھے
خدا نے اس میں جو بھی غم اتارے تھے ہمارے تھے
یہ بھی ممکن ہے اندازہ نہ ہو اس بات کا اس کو
وگرنہ درد اس نے جو نکھارے تھے ہمارے تھے
دعا دیتے ہیں طوفانوں کو جب بھی دیکھتے ہیں ہم
نہ ہوتے یہ اگر، وہ جو کنارے تھے ہمارے تھے
یونہی بس کھیل میں یہ چاند ہم نے دے دیا اس کو
بقول اس کے مگر جتنے ستارے تھے ہمارے تھے
قصور اس نے وفا میں جب بھی پوچھے ہم یہی بولے
بس اب اس بات کو چھوڑو ہمارے تھے ہمارے تھے
نوید ناظم — اپریل 7، 2018 10:38 شام
محترم سر الف عین
راشد ماہیؔ — اپریل 8، 2018 9:07 صبح
یونہی بس کھیل میں یہ چاند ہم نے دے دیا تھا اس کو

گڑ بڑ ہے یہاں۔۔۔۔
ناصر محمود 313 — اپریل 8، 2018 12:16 شام
تھا حذف کر دیں!
نوید ناظم — اپریل 8، 2018 1:19 شام
بہت شکریہ ۔۔۔۔ ٹائپو ہو گیا تھا تدوین کر دی۔
فرقان احمد — اپریل 8، 2018 1:36 شام
بہت اعلیٰ!
الف عین — اپریل 9، 2018 3:15 صبح
درست ہے غزل ۔ دوسرے شعر میں 'یہ بھی' بدل دیں۔ 'یبی' تقطیع ہونے سے روانی پر برا اثر پڑتا ہے
نوید ناظم — اپریل 9، 2018 5:34 صبح
درست ہے غزل ۔ دوسرے شعر میں 'یہ بھی' بدل دیں۔ 'یبی' تقطیع ہونے سے روانی پر برا اثر پڑتا ہے
بہت شکریہ سر، بدل دیا۔۔۔ اب مصرع یوں ہے۔۔
یہ ممکن ہے کہ اندازہ نہ ہو اس بات کا اس کو
نوید ناظم — اپریل 9، 2018 5:37 صبح
نوازش :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%D9%88-%D8%AC%D8%AA%D9%86%DB%92-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D8%AA%DA%BE%DB%92-%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D8%AA%DA%BE%DB%92.100818/