ابن رضا — ستمبر 4، 2015 1:43 شام
نظم
محبت کچھ نہیں ہوتی
کسی کے پاس آنے سے
کسی کے دور جانے سے
کسی کو فرق پڑتا ہے
نہ کوئی کام رُکتا ہے
نہ دن ہی بھولتا ہے راستہ اپنا
نہ شب گمنام ہوتی ہے
ستارے جگمگانا چھوڑ دیتے ہیں
نہ پنچھی گیت گانا چھوڑ دیتے ہیں
نظامِ زندگانی کے
تسلسل میں تعطل تو
کسی صورت نہیں آتا
محبت کی مثال ایسی ہے
کہ جب تک آبیاری ہو
شجر شاداب رہتا ہے
خزاں کی سختیاں بھی جھیل لیتا ہے
اگر باور وہ یہ کر لے
کہ اب تشنہ ہی رہنا ہے
اسےبے موت مرنے سے
نہ کوئی روک سکتا ہے
محبت اس لیے ہی تو
کہا ہے کچھ نہیں ہوتی
محبت کچھ نہیں ہوتی
برائے توجہ اساتذہ
محمد یعقوب آسی صاحب و
الف عین صاحب
محمد یعقوب آسی — ستمبر 4، 2015 1:51 شام
یہاں سے
کہ ہٹا کر دیکھتے ہیں۔
نظامِ زندگانی کے
تسلسل میں تعطل تو
کسی صورت نہیں آتا
محبت کی مثال ایسی ہے
کہ جب تک آبیاری ہو
شجر شاداب رہتا ہے
خزاں کی سختیاں بھی جھیل لیتا ہے
مفاعیلن مفاعیلن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد یعقوب آسی — ستمبر 4، 2015 1:53 شام
اسےبے موت مرنے سے
نہ کوئی روک سکتا ہے
محبت اس لیے ہی تو
کہا ہے کچھ نہیں ہوتی
اس حصے میں الفاظ کی نشست و برخاست اچھا تاثر نہیں دے رہی۔ ان کو آگے پیچھے یا ادل بدل کر کے ڈھیلا پن ختم کیا جا سکتا ہے۔
محمد یعقوب آسی — ستمبر 4، 2015 2:04 شام
اقتباس کے اندر ہی مزید عرض کر دیا ہے کہ
اگر باور وہ یہ کر لے
یہاں وہ اور یہ کی جگہ بدلنے سے ملائمت متاثر ہو رہی ہے
کہ اب تشنہ ہی رہنا ہے
اسےبے موت مرنے سے
نہ کوئی روک سکتا ہے
لگتا ہے بات پوری نہیں ہوئی، کچھ اور بھی کہنے کا تھا: شاید نہ کوئی ٹوک سکتا ہے ۔۔۔؟؟ آپ کا مقصود ہے: کوئی کب روک سکتا ہے۔
محبت اس لیے ہی تو
کہا ہے کچھ نہیں ہوتی
پہلا لفظ بہت دور جا پڑا۔
محبت کچھ نہیں ہوتی
بہت شکریہ
محمد یعقوب آسی — ستمبر 4، 2015 2:07 شام
ایک اور نکتہ دیکھ لیجئے ۔۔۔۔۔۔۔
اس لئے ہی تو کہا ہے؟
اسی لئے تو کہا ہے!
(یہ تجویز نہیں ہے، نکتہ بیان کرنا مقصود ہے)
آزاد نظم کی لچک سے فائدہ اٹھائیے، یہاں غزل کے مصرعے کی سی پابندیاں نہیں ہوتیں۔
ابن رضا — ستمبر 4، 2015 2:08 شام
اقتباس کے اندر ہی مزید عرض کر دیا ہے کہ
بہت شکریہ
سر بہت نوازش، اصلاح اور حوصلہ افزائی کے لیے بہت ممنون ہو ں ، تعمیل کرتا ہوں۔ سلامت رہیے۔
ابن رضا — ستمبر 4، 2015 2:13 شام
ایک اور نکتہ دیکھ لیجئے ۔۔۔۔۔۔۔
اس لئے ہی تو کہا ہے؟
اسی لئے تو کہا ہے!
(یہ تجویز نہیں ہے، نکتہ بیان کرنا مقصود ہے)
آزاد نظم کی لچک سے فائدہ اٹھائیے، یہاں غزل کے مصرعے کی سی پابندیاں نہیں ہوتیں۔
سرمزید یہاں وزن کا التزام درکار ہے بس؟
ابن رضا — ستمبر 4، 2015 3:17 شام
ایک اور نکتہ دیکھ لیجئے ۔۔۔۔۔۔۔
اس لئے ہی تو کہا ہے؟
اسی لئے تو کہا ہے!
(یہ تجویز نہیں ہے، نکتہ بیان کرنا مقصود ہے)
آزاد نظم کی لچک سے فائدہ اٹھائیے، یہاں غزل کے مصرعے کی سی پابندیاں نہیں ہوتیں۔
محبت کچھ نہیں ہوتی
کسی کے پاس آنے سے
کسی کے دور جانے سے
کسی کو فرق پڑتا ہے
نہ کوئی کام رُکتا ہے
نہ دن ہی بھولتا ہے راستہ اپنا
نہ شب گمنام ہوتی ہے
ستارے جگمگانا چھوڑ دیتے ہیں
نہ پنچھی گیت گانا چھوڑ دیتے ہیں
نظامِ زندگانی کے
تسلسل میں تعطل تو
کسی صورت نہیں آتا
محبت کی مثال ایسی ہے
جب تک آبیاری ہو
شجر شاداب رہتا ہے
خزاں کی سختیاں بھی جھیل لیتا ہے
وہ باور یہ اگر کر لے
کہ اب تشنہ ہی رہنا ہے
تو اس کو سوکھ جانے سے
کوئی کب روک سکتا ہے
نہ کوئی ٹوک سکتا ہے
کہا ہے نا! محبت کچھ نہیں ہوتی
محبت کچھ نہیں ہوتی
محمد یعقوب آسی — ستمبر 4، 2015 7:30 شام
جناب
الف عین سے راہنمائی ضرور لیجئے گا۔ ان کی نظر زبان پر بہت عمیق ہوا کرتی ہے۔
الف عین — ستمبر 5، 2015 3:04 صبح
یہ مصرعے توجہ چاہتے ہیں۔
وہ باور یہ اگر کر لے
کہ اب تشنہ ہی رہنا ہے
تو اس کو سوکھ جانے سے
کوئی کب روک سکتا ہے
نہ کوئی ٹوک سکتا ہے
کہا ہے ناں محبت کچھ نہیں ہوتی
محبت کچھ نہیں ہوتی
پہلے دو مصرعوں کو یوں کہیں تو روانی بڑھ جاتی ہے
اگر وہ یہ یقیں کر لے
کہ اب پیاسا ہی رہنا ہے
’ناں‘ کوئی لفظ نہیں میرے خیال میں۔ زو دینے کے لئے ’نا‘ ضرور استعمال ہوتا ہے۔
محمد یعقوب آسی — ستمبر 5، 2015 7:50 صبح
’ناں‘ کوئی لفظ نہیں میرے خیال میں۔ زو دینے کے لئے ’نا‘ ضرور استعمال ہوتا ہے۔
بجا ارشاد ۔۔ یہی گزارش کر کر کے میں تو تھک چکا۔ نہ (نافیہ)، نا (سابقہ)، نا (قوتِ معانی کے لئے)؛ تینوں الگ الگ مقام رکھتے ہیں۔
ابن رضا — ستمبر 5، 2015 8:08 صبح
بجا ارشاد ۔۔ یہی گزارش کر کر کے میں تو تھک چکا۔ نہ (نافیہ)، نا (سابقہ)، نا (قوتِ معانی کے لئے)؛ تینوں الگ الگ مقام رکھتے ہیں۔
ہاہاہا

۔ سر میں نے تو یہ لفظ ہی پہلی بار استعمال کیا ہے۔ لیکن متعدد بار پڑھا ضرور ہے مختلف لڑیوں میں جہاں جہاں آپ نے اسے دہرایا ہے۔ البتہ یہاں یاد نہیں رہا

ابن رضا — ستمبر 5، 2015 8:31 صبح
یہ مصرعے توجہ چاہتے ہیں۔
وہ باور یہ اگر کر لے
کہ اب تشنہ ہی رہنا ہے
تو اس کو سوکھ جانے سے
کوئی کب روک سکتا ہے
نہ کوئی ٹوک سکتا ہے
کہا ہے ناں محبت کچھ نہیں ہوتی
محبت کچھ نہیں ہوتی
پہلے دو مصرعوں کو یوں کہیں تو روانی بڑھ جاتی ہے
اگر وہ یہ یقیں کر لے
کہ اب پیاسا ہی رہنا ہے
’ناں‘ کوئی لفظ نہیں میرے خیال میں۔ زو دینے کے لئے ’نا‘ ضرور استعمال ہوتا ہے۔
سر بہت نوازش ، تعمیل کرتا ہوں۔ سلامت رہیے