محبت کے شراروں سے تو دامن ہی جلا بیٹھے

ابن رضا — مارچ 29، 2014 2:29 شام
برائے اصلاح
جنوں کے دام میں آ کر ، خرد کی سب بھلا بیٹھے
محبت کے شراروں سے تو دامن ہی جلا بیٹھے
طبیعت سے
تری ہم آشنا تھے اِک زمانے سے
مگر پھر بھی نجانے کیوں تجھی سے دل لگا بیٹھے
نہیں کچھ اور پایا ہے سوائے یاس و حسرت کے
محبت ہم جو کر بیٹھے ، قرارِ دل گنوا بیٹھے
اندھیروں میں جو رہتے ہیں عنایت ہے یہ یاروں کی
سبھی جگنو ، سبھی شمعیں ، ہیں اپنوں
پر لٹا بیٹھے
نکالو کچھ رضا صورت مداوے کی خدارا اب
کہ اپنے غم سبھی ہم برملا تجھ کو سنا بیٹھے

تقطیع یہاں ملاحظہ کریں۔
ابنِ رضا کی تُک بندیاں
ٹیگ: اساتذہ کرام جناب الف عین صاحب و جناب محمد یعقوب آسی صاحب و برادران
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 29، 2014 4:54 شام
بہت خوب صورت غزل ہے۔
بہت سی داد۔۔۔۔
طبیعت آشنا تھے اے زمانے خوب تیری ہم
مگر پھر بھی نجانے کیوں تمہی سے دل لگا بیٹھے
یہ شعر تھوڑا کھٹک رہا ہے۔۔۔ پہلے مصرع میں تیری اور دوسرے میں تمھی ہے ، اگر ایک ہی مخاطب ہے تو شترگربہ ہورہا ہے اور اگر مخاطب الگ الگ ہیں تو ایک ہی شعر میں یہ التفات اچھا نہیں لگ رہا۔ پھر تیری کے بجائے تیرے ہونا چاہیے۔ نیز ”اے زمانے“ اور ”اے زمانہ“ میں بھی غور کرلیجیے گا۔
ابن رضا — مارچ 29، 2014 5:02 شام
بہت خوب صورت غزل ہے۔
بہت سی داد۔۔۔ ۔
طبیعت آشنا تھے اے زمانے خوب تیری ہم
مگر پھر بھی نجانے کیوں تمہی سے دل لگا بیٹھے
یہ شعر تھوڑا کھٹک رہا ہے۔۔۔ پہلے مصرع میں تیری اور دوسرے میں تمھی ہے ، اگر ایک ہی مخاطب ہے تو شترگربہ ہورہا ہے اور اگر مخاطب الگ الگ ہیں تو ایک ہی شعر میں یہ التفات اچھا نہیں لگ رہا۔ پھر تیری کے بجائے تیرے ہونا چاہیے۔ نیز ”اے زمانے“ اور ”اے زمانہ“ میں بھی غور کرلیجیے گا۔
حوصله افزائی کے لیے ممنون هوں. جزاک الله خوش رهیں.
شترگر به کی اچھی نشاندهی فرمائی هے. مصرع بدل دیا هے:)
سید عاطف علی — مارچ 29، 2014 5:20 شام
غزل تو بہت خوب ہے رضا بھائی پر اپنامزاج تو یہ ہے کہ ۔
خرد کے دام میں آ کر ، جنوں کی سب بھلا بیٹھے۔
ابن رضا — مارچ 29، 2014 5:27 شام
غزل تو بہت خوب ہے رضا بھائی پر اپنامزاج تو یہ ہے کہ ۔
خرد کے دام میں آ کر ، جنوں کی سب بھلا بیٹھے۔
بےحد نوازش عاطف بھائی . هم بھی اسی قماش کے هیں. بس قلم آج کچھ الٹی ڈگر پر چل نکلا هے. جزاک الله حوش رهیں.:)
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 29، 2014 5:35 شام
حوصله افزائی کے لیے ممنون هوں. جزاک الله خوش رهیں.
شترگر به کی اچھی نشاندهی فرمائی هے. مصرع بدل دیا هے:)
مگر اے زمانے والی بات پر غور کرنے کا اس لیے کہا ہے کہ مجھے خود اس کی درست صورت حال نہیں معلوم۔
سید عاطف علی — مارچ 29، 2014 5:39 شام
مگر اے زمانے والی بات پر غور کرنے کا اس لیے کہا ہے کہ مجھے خود اس کی درست صورت حال نہیں معلوم۔
زمانے کے لیے صرف ۔تو۔ ترے ۔تیرے وغیرہ کا اسلوب مناسب ہے۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 29، 2014 10:05 شام
زمانے کے لیے صرف ۔تو۔ ترے ۔تیرے وغیرہ کا اسلوب مناسب ہے۔
بہت اچھی بات بتائی آپ نے۔
یہ بھی وضاحت فرمادیجیے کہ ندائی صورت ”اے زمانہ“ ہوگی یا ”اے زمانے“؟
الف عین — مارچ 30، 2014 5:00 صبح
’اے زمانے‘ بہتر ہے، لیکن اس شعر میں زمانے سے تخاطب کی اہمیت سمجھ میں نہیں آئی۔
اب باقی۔۔
مطلع درست
طبیعت سے تمھاری آشنا تھے اے زمانے ہم
مگر پھر بھی نجانے کیوں تمہی سے دل لگا بیٹھے
۔۔میں یوں پسند کروں گا
طبیعت سے تمہاری آشنا تھے اک زمانےسے
مگر پھر بھی نجانے کیوں تمہی سے دل لگا بیٹھے
یا
طبیعت سے تری ہم آشنا تھے اک زمانے سے
مگر پھر بھی نجانے کیوں تجھی سے دل لگا بیٹھے
سبھی جگنو ، سبھی شمعیں ، ہیں اپنوں پہ لٹا بیٹھے
بھی تبدیلی کا طالب ہے۔ایک تو ’اپنوں پر‘ آ سکتا ہے تو ’پہ‘ کیوں؟ شمعیں کافی ہیں، جگنو کی ضرورت نہیں۔
باقی درست ہی ہے۔
سید عاطف علی — مارچ 30، 2014 6:54 صبح
بہت اچھی بات بتائی آپ نے۔
یہ بھی وضاحت فرمادیجیے کہ ندائی صورت ”اے زمانہ“ ہوگی یا ”اے زمانے“؟
اس صورت میں اے زمانہ ٹھیک نہیں ہو گا۔اے زمانے بہتر ہو گا جیسے کہ
اے فلانا ٹھیک نہیں۔اے فلانے ٹھیک ہو گا ۔
ابن رضا — مارچ 30، 2014 8:20 صبح
زمانے کے لیے صرف ۔تو۔ ترے ۔تیرے وغیرہ کا اسلوب مناسب ہے۔
تشکر عاطف بھائی
بہت اچھی بات بتائی آپ نے۔
یہ بھی وضاحت فرمادیجیے کہ ندائی صورت ”اے زمانہ“ ہوگی یا ”اے زمانے“؟
خوب نکتہ آفرینی است
ابن رضا — مارچ 30، 2014 11:01 صبح
’اے زمانے‘ بہتر ہے، لیکن اس شعر میں زمانے سے تخاطب کی اہمیت سمجھ میں نہیں آئی۔
اب باقی۔۔
مطلع درست
طبیعت سے تمھاری آشنا تھے اے زمانے ہم
مگر پھر بھی نجانے کیوں تمہی سے دل لگا بیٹھے
۔۔میں یوں پسند کروں گا
طبیعت سے تمہاری آشنا تھے اک زمانےسے
مگر پھر بھی نجانے کیوں تمہی سے دل لگا بیٹھے
یا
طبیعت سے تری ہم آشنا تھے اک زمانے سے
مگر پھر بھی نجانے کیوں تجھی سے دل لگا بیٹھے
سبھی جگنو ، سبھی شمعیں ، ہیں اپنوں پہ لٹا بیٹھے
بھی تبدیلی کا طالب ہے۔ایک تو ’اپنوں پر‘ آ سکتا ہے تو ’پہ‘ کیوں؟ شمعیں کافی ہیں، جگنو کی ضرورت نہیں۔
باقی درست ہی ہے۔
تشکر بسیار استاد محترم
ابن رضا — مارچ 30، 2014 1:16 شام
’اے زمانے‘ بہتر ہے، لیکن اس شعر میں زمانے سے تخاطب کی اہمیت سمجھ میں نہیں آئی۔
اب باقی۔۔
مطلع درست
طبیعت سے تمھاری آشنا تھے اے زمانے ہم
مگر پھر بھی نجانے کیوں تمہی سے دل لگا بیٹھے
۔۔میں یوں پسند کروں گا
طبیعت سے تمہاری آشنا تھے اک زمانےسے
مگر پھر بھی نجانے کیوں تمہی سے دل لگا بیٹھے
یا
طبیعت سے تری ہم آشنا تھے اک زمانے سے
مگر پھر بھی نجانے کیوں تجھی سے دل لگا بیٹھے
سبھی جگنو ، سبھی شمعیں ، ہیں اپنوں پہ لٹا بیٹھے
بھی تبدیلی کا طالب ہے۔ایک تو ’اپنوں پر‘ آ سکتا ہے تو ’پہ‘ کیوں؟ شمعیں کافی ہیں، جگنو کی ضرورت نہیں۔
باقی درست ہی ہے۔
استاد محترم "راه" یا واه یا پناه کی ه گرا کر الف کو روی شمار کر کے قافیه کیا جا سکتا هے؟
سید عاطف علی — مارچ 30، 2014 8:18 شام
ان الفاظ کا الف گرانے پر تو غور کیا جاسکتا ہے ہ کا معاملہ ایسا نہیں ہو گا۔
البتہ واہ کی ہ کے بارے میں استثناء کی کسی صورت کے امکان پر رائے دی جاسکتی ہے جبکہ واہ کو مکرر استعمال کیا جائے اور ایک واہ کی ہ کو اظہار کا حق دیا جائے۔
ابن رضا بھائی ۔۔میں نے یہ رائے آپ کے سوال کی مفروضہ وضاحت کے مطابق پیش کی ہے۔جو میرے فہم کی صحّت کے ساتھ مخصوص ہو گی۔:)
الف عین — مارچ 31، 2014 3:58 صبح
راہ کا الف گرایا جا سکتا ہے۔ باقی الفاظ کا عام طور پر نہیں÷
الف عین — مارچ 31، 2014 4:02 صبح
راہ کا الف گرایا جا سکتا ہے۔ باقی الفاظ کا عام طور پر نہیں÷
ابن رضا — مارچ 31، 2014 7:46 صبح
راہ کا الف گرایا جا سکتا ہے۔ باقی الفاظ کا عام طور پر نہیں÷
تو اس تناظر یه مطلع مقفی مانا جائے گا؟
ہم باب تمنا جن پہ وا کیے بیٹھے ہیں
وہ ہیں کہ اوروں سے رسم و ره کیے بیٹھے ہیں
سید عاطف علی — مارچ 31، 2014 8:05 صبح
یہ مقفی نہیں کہے جائیں گے۔
کون سی بحر ہے ؟ کیاموزوں بھی ہیں ؟
ابن رضا — مارچ 31، 2014 8:32 صبح
یہ مقفی نہیں کہے جائیں گے۔
کون سی بحر ہے ؟ کیاموزوں بھی ہیں ؟
جی
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
ھزج مثمن اخرب سالم
سید عاطف علی — مارچ 31، 2014 8:41 صبح
جی
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
ھزج مثمن اخرب سالم
دوسرا مصرع ٹھیک نہیں لگ رہا ۔پہلا ٹھیک ہے۔:idontknow:
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA-%DA%A9%DB%92-%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%B1%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D8%AA%D9%88-%D8%AF%D8%A7%D9%85%D9%86-%DB%81%DB%8C-%D8%AC%D9%84%D8%A7-%D8%A8%DB%8C%D9%B9%DA%BE%DB%92.73094/