محبت ہارنے والے۔۔۔۔۔

توصیف یوسف مغل — نومبر 18، 2014 6:52 صبح
غزل برائے اصلاح....
محبت سے وہ غافل ہیں محبت ہارنے والے
میری نظروں میں جاہل ہیں محبت ہارنے والے
نئے چہرے وہ کم سن جو نہیں واقف محبت سے
بہت معصوم لہجوں کے بھی قاتل ہیں محبت ہارنے والے
یہاں جو بے سکونی بے یقینی کا جو عالم ہے
ملوث ہیں وہ شامل ہیں محبت ہارنے والے
جو اس میدان چل نکلیں وہ کب پیچھے پلٹتے ہیں
جو رک جائیں وہ کاہل ہیں محبت ہارنے والے
ارے تم پیاس کی شدت سے گھبرانا نہیں یوسفٌ
ابھی رستے میں ساحل ہیں محبت ہارنے والے
توصیف یوسف...
توصیف یوسف مغل — نومبر 18، 2014 1:18 شام
محمد یعقوب آسی
توصیف یوسف مغل — نومبر 18، 2014 1:21 شام
محمد خلیل الرحمٰن
محمد اسامہ سَرسَری
محمد یعقوب آسی — نومبر 18، 2014 1:21 شام
جناب الف عین ، جناب ابن رضا ، جناب ایوب ناطق
اس گزارش کے ساتھ کہ اس پوسٹ کا مقصود تنقید نہیں، راہنمائی ہے۔
توصیف یوسف مغل — نومبر 18، 2014 1:23 شام
سر جی۔۔۔۔
توصیف یوسف مغل — نومبر 18، 2014 1:25 شام
سر جی آپ
جناب الف عین ، جناب ابن رضا ، جناب ایوب ناطق
اس گزارش کے ساتھ کہ اس پوسٹ کا مقصود تنقید نہیں، راہنمائی ہے۔

سر جی مُجھے آپ کو دیکھنا ہے۔۔۔
ابن رضا — نومبر 18، 2014 1:30 شام
جناب الف عین ، جناب ابن رضا ، جناب ایوب ناطق
اس گزارش کے ساتھ کہ اس پوسٹ کا مقصود تنقید نہیں، راہنمائی ہے۔

استادِ محترم فی البدیہہ تو یہی کہہ سکوں گا کہ
بڑے کم بخت، جاہل ہیں محبت ہارنے والے
ہوئے کیوں کر یہ نازل ہیں محبت ہارنے والے:p
مذاق برطرف۔
ہمہ تن بصر ہوں۔
ایوب ناطق — نومبر 18، 2014 1:46 شام
سر جی مُجھے آپ کو دیکھنا ہے۔۔۔
شرفِ ملاقات دیجیے استادِ محترم
ویسے مطلع میں ''میری'' کی جگہ ''مری''
دوسرے شعر کا دوسرا مصرع توجہ کا طالب
تیسرے شعر کے پہلے مصرع میں دوسرے ''جو'' کا جواز نہ مل سکا
چھوتے شعر کے پہلے مصرع میں ''وہ'' کی ''ہ'' کمزور پڑرہی ہے
مقطع میں ''ارے'' کا محل نہیں ۔
ویسے ردیف نے شاعر کو مشکل میں ڈال دیا ہے' اکثر اشعار قافیے کی پیروی میں محسوس ہوئے' (صرف ایک دوستانہ اور دیانت دارانہ رائے)
ابن رضا — نومبر 18، 2014 1:52 شام
غزل برائے اصلاح....
محبت سے وہ غافل ہیں محبت ہارنے والے
میری نظروں میں جاہل ہیں محبت ہارنے والے
نئے چہرے وہ کم سن جو نہیں واقف محبت سے
بہت معصوم لہجوں کے بھی قاتل ہیں محبت ہارنے والے
یہاں جو بے سکونی بے یقینی کا جو عالم ہے
ملوث ہیں وہ شامل ہیں محبت ہارنے والے
جو اس میدان چل نکلیں وہ کب پیچھے پلٹتے ہیں
جو رک جائیں وہ کاہل ہیں محبت ہارنے والے
ارے تم پیاس کی شدت سے گھبرانا نہیں یوسفٌ
ابھی رستے میں ساحل ہیں محبت ہارنے والے
توصیف یوسف...

توصیف صاحب اچھی کوشش ہے ، چونکہ استادِمحترم کا حکم ہے کہ آپ کی کاوش پر رہنمائی فراہم کی جائے تو میں اپنی بساط کے مطابق کچھ حصہ ڈال رہا ہوں۔
سب سے پہلی بات کہ ردیف کو بہتر طور پر نبھایا نہیں جا سکا ردیف شعر کا لازمی حصہ شمار نہیں ہوتی تاہم اگر اس کو شاملِ زمین کر لیا جائے تو پھر شعر کے مضمون کی ادائیگی میں اسکا نمایاں تعلق نظر آنا چاہیے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری ضروری بات یہ کہ شعر کے دونوں مصروعوں کو دولخت نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کا آپس میں کچھ ربط یا تعلق ہونا چاہیے۔ الفاظ کی رعایت کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
الف عین — نومبر 18، 2014 4:22 شام
میں وہی بات دہراؤں گا کہ مبتدیوں کو ایسی سنگلاخ زمینوں میں غزلیں نہیں کہنی چاہئے۔
ایک مصرع تو بحر سے خارج ہو گئا ہے کہ ایک رکن زیادہ ہے۔
بہت معصوم لہجوں کے بھی قاتل ہیں محبت ہارنے والے
توصیف یوسف مغل — نومبر 19، 2014 1:23 صبح
بہت شکریہ آپ سب محترم اساتذہ کرام کا۔۔۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA-%DB%81%D8%A7%D8%B1%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94.78803/