محکوم خیالوں سے آزادی عطا کر دے

loneliness4ever — مارچ 18، 2015 3:45 شام
برائے اصلاح
محکوم خیالوں سے آزادی عطا کر دے
اس دیس کے باسی کو محکوم ِ خدا کر دے
حکمت سے نہیں خالی ہر کام خدا تیرا
حکمت کو خدا اپنی بندوں کی صدا کر دے
ہو جس کی رسائی میں افلاک کی ہر منزل
اس قوم کو ایسا پھر اقبال عطا کر دے
مسلم کو عطا پھر ہو یہ شان ِ ولایت بھی
تقدیر کے لکھے کو پابند ِرضا کر دے
نفرت کے خطیبوں نے امت کو کیا ابتر
تکفیر کے نعروں کو تکبیر ِوفا کر دے
اب بھیج محمد کے ایسے کسی غازی کو
جو آکے مساجد کو فرقوں سے جدا کر دے
ہر چند گناہوں کے ہیں بوجھ تلے لیکن
امت ہیں محمد کی مولا تو بھلا کر دے
سید کی دعا سن لے پھر قلب ِ مسلماں کو
سلطان ِ مدینہ کی الفت توعطا کر دے
س ن مخمور
امر تنہائی
فاروق احمد بھٹی — مارچ 19، 2015 3:27 شام
سید کی دعا سن لے پھر قلب ِ مسلماں کو
سلطان ِ مدینہ کی الفت توعطا کر دے
اچھا ہے شعر مجھے پسند آیا
loneliness4ever — مارچ 19، 2015 3:54 شام
اچھا ہے شعر مجھے پسند آیا

آپ کی آمد پر مسرور ہوں اور شکر گزار ہوں
فاروق احمد بھٹی — مارچ 20، 2015 12:07 شام
محکوم خیالوں سے آزادی عطا کر دے
اس دیس کے باسی کو محکوم ِ خدا کر دے
پہلے مصرعے میں خطاب کس سے ہے ، میرے سمجھنے کہ مطابق تو اللہ سے ہی ہے، اور اگر ایسا ہے تو دوسرے مصرع میں کس سے التجا کی جا رہی ہے کہ وہ دیس کے باسیوں کو محکوم خدا کر دے؟
دوسرے مصرعے کو میرے خیال میں ایسے ہونا چاہیے
اس دیس کے باسی کو پابندِ وفا کر دے
فاروق احمد بھٹی — مارچ 20، 2015 12:12 شام
نوٹ: میری رائے کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے یہاں محفل میں اساتذہ موجود ہیں ان کی ماہرانہ رائے کا انتظار کیا جائے شکریہ
loneliness4ever — مارچ 20، 2015 2:50 شام
پہلے مصرعے میں خطاب کس سے ہے ، میرے سمجھنے کہ مطابق تو اللہ سے ہی ہے، اور اگر ایسا ہے تو دوسرے مصرع میں کس سے التجا کی جا رہی ہے کہ وہ دیس کے باسیوں کو محکوم خدا کر دے؟
دوسرے مصرعے کو میرے خیال میں ایسے ہونا چاہیے
اس دیس کے باسی کو پابندِ وفا کر دے

جی بے شک اللہ کریم ہی سے بات کی جا رہی ہے
جی یہ الجھن فقیر کے ذہن میں بھی تھی مگر پھر بھی
رہنے اس لئے دیا کہ دیکھوں قابلَ قبول ہے کہ نہیں
:eyerolling:
عزیز دوست کی توجہ کرنے پر فقیر ممنون ہے
عنایت کا یہ سلسلہ جاری رکھیں
اللہ آباد رکھے آپکو ۔۔۔۔ آمین
loneliness4ever — اپریل 19، 2015 8:56 صبح
محترم اور شفیق استاد الف عین صاحب آپ کی نظر کا طلبگار ہے یہ فقیر
امید ہے وقت عنایت فرمائیں گے
الف عین — اپریل 20، 2015 7:37 صبح
واقعی خدا سے خطب کرتے ہوئے ’محکوم خدا‘ کرنے کی دعا نہیں مانگی جاتی۔ عزیزم فاروق نے درست نشان دہی کی ہے۔اس کا کچھ اور سوچو۔
تکفیر کے نعروں کو تکبیر ِوفا کر دے
یہ مصرع واضح نہیں۔ تکبیر وفا واضح نہیں۔
عروض کی صرف ایک معمولی سی غلطی ہے
سلطان ِ مدینہ کی الفت توعطا کر دے
’الفت تو ‘مین تنافر لفظی کا عیب ہے۔ اسکو الفاظ بدل کر کہو۔
loneliness4ever — مئی 10، 2015 1:36 شام
واقعی خدا سے خطب کرتے ہوئے ’محکوم خدا‘ کرنے کی دعا نہیں مانگی جاتی۔ عزیزم فاروق نے درست نشان دہی کی ہے۔اس کا کچھ اور سوچو۔
تکفیر کے نعروں کو تکبیر ِوفا کر دے
یہ مصرع واضح نہیں۔ تکبیر وفا واضح نہیں۔
عروض کی صرف ایک معمولی سی غلطی ہے
سلطان ِ مدینہ کی الفت توعطا کر دے
’الفت تو ‘مین تنافر لفظی کا عیب ہے۔ اسکو الفاظ بدل کر کہو۔

السلام علیکم
محترم دوست فاروق صاحب اور شفیق استاد الف عین صاحب کے قیمتی مشوروں کی روشنی
میں فقیر کچھ تبدیلیوں کے ساتھ حاضر ہوا ہے، امید ہے استاد محترم اور دیگر ضرور عنایت
فرمائیں گے
محکوم خیالوں سے آزادی عطا کر دے
مقبول مرے مالک میری یہ دعا کر دے
حکمت سے نہیں خالی ہر کام خدا تیرا
حکمت کو خدا اپنی بندوں کی صدا کر دے
ہو جس کی رسائی میں افلاک کی ہر منزل
اس قوم کو ایسا پھر اقبال عطا کر دے
مسلم کو عطا پھر ہو یہ شان ِ ولایت بھی
تقدیر کے لکھے کو پابند ِرضا کر دے
تخریب کے نعروں سے گونجا ہے وطن میرا
اس حال پریشاں کو گلزار ِوفا کر دے
اب بھیج محمد کے ایسے کسی غازی کو
جو آکے مساجد کو فرقوں سے جدا کر دے
ہر چند گناہوں کے ہیں بوجھ تلے لیکن
امت ہیں محمد کی مولا تو بھلا کر دے
سید کی دعا سن لے پھر قلب ِ مسلماں کو
آباد محمد کی الفت سے خدا کر دے
فاروق احمد بھٹی — مئی 10، 2015 2:51 شام
بہت اچھے مخمور بھائی اب نکھر کے سامنے آئی ۔ اب اصلاحی نظر تو اساتذہ ہی فرمائیں گے ۔ مجھ مبتدی سے داد قبول فرمائیں
الف عین — مئی 11، 2015 6:03 صبح
تخریب کے نعروں سے گونجا ہے وطن میرا
اس حال پریشاں کو گلزار ِوفا کر دے
÷÷یہ نیا شعر ہے۔ حال پریشاں اتنا اچھا لفظ نہیں ہے۔ گلزار وفا کے مقابلے میں دشتِ بے حسی قسم کا کوئی لفظ آ سکے تو بہتر ہے۔ ورنہ محض حا ل کی جگہ دشت کر دو۔
ہر چند گناہوں کے ہیں بوجھ تلے لیکن
امت ہیں محمد کی مولا تو بھلا کر دے
÷÷اس پر پہلے غور نہیں کیا تھا۔ یہ بحر دو ٹکڑوں میں منقسم ہے، ہر ٹکڑے میں بات مکمل ہو تو اچھی لگتی ہے۔
ہر چند ہیں عصیاں کے ہم بوجھ تلے لیکن
ایک ممکنہ صورت ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AD%DA%A9%D9%88%D9%85-%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%D8%B9%D8%B7%D8%A7-%DA%A9%D8%B1-%D8%AF%DB%92.80803/