اسد قریشی — نومبر 8، 2012 6:41 صبح
الفاظ کم
آنکھیں تھی نم
کس سے گَلہ
کرتے صنم
دو راستے
تم اور ہم
سانسیں بہت
فرصت ہے کم
اے زندگی
تُو بھی سِتم
ہر خواب کی
تعبیر نَم
محمد اظہر نذیر — نومبر 8، 2012 8:35 صبح
بولے تھے کم
آنکھیں تھیں نم
کرتے گَلہ
بھی کس سے صنم
رستے تھے دو
تم اور ہم
گھڑیاں بہت
فرصت ہے کم
پھر زندگی
تیرے سِتم؟
ہر خواب کی
تعبیر نَم
صرف میری تجاویز ہیں جناب اسد صاحب
محمد اظہر نذیر — نومبر 8، 2012 10:00 صبح
مزمل حسین — نومبر 8، 2012 12:05 شام
اظہر بھائی
"کرتے گلہ بھی کس سے صنم" یہ کیسے کیا؟
الف عین — نومبر 8، 2012 3:36 شام
اچھی غزل ہے اسد۔ اصلاح کی ضرورت نہیں۔ اسی شکل میں اچھی ہے÷
محمد بلال اعظم — نومبر 8، 2012 3:45 شام
یہ یک رکنی غزل مستفعلن پہ تقطیع ہو رہی ہے نا؟
مزمل شیخ بسمل — نومبر 8، 2012 3:49 شام
یہ یک رکنی غزل مستفعلن پہ تقطیع ہو رہی ہے نا؟
ایک رکنی بحر ہونا عروضی اصول کے خلاف ہے۔ سو ہم اسے مربع کہتے ہیں۔
بحر متقارب مربع اثلم محذوف
ارکان:
فعلن فَعَل
محمد بلال اعظم — نومبر 8، 2012 3:52 شام
ایک رکنی بحر ہونا عروضی اصول کے خلاف ہے۔ سو ہم اسے مربع کہتے ہیں۔
بحر متقارب مربع اثلم محذوف
ارکان:
فعلن فَعَل
یعنی کہ مستفعلن کو غیر حقیقی تقطیع اور فعلن فعل کو حقیقی تقطیع بھی کہہ سکتے ہیں؟
اللہ بچائے ان عروضی اصولوں سے۔
توبہ کتنی عجیب عجیب باتیں کرتے تھے یہ پرانے عروضیے۔
مزمل شیخ بسمل — نومبر 8، 2012 3:55 شام
یعنی کہ مستفعلن کو غیر حقیقی تقطیع اور فعلن فعل کو حقیقی تقطیع بھی کہہ سکتے ہیں؟
اللہ بچائے ان عروضی اصولوں سے۔
توبہ کتنی عجیب عجیب باتیں کرتے تھے یہ پرانے عروضیے۔
جی یہی بات ہے۔ مستفعلن غیر حقیقی تقطیع ہے۔
عجیب باتیں تو نئے عروضی کرتے ہیں۔ پرانے والوں کی بات پر عمل کر لیا جائے تو کوئی مسئلہ ہی نہ ہو۔

غ۔ن۔غ — نومبر 8، 2012 3:56 شام
بہت اچھی کوشش ہے
داد حاضر ہے جناب ۔ ۔
محمد بلال اعظم — نومبر 8، 2012 3:58 شام
جی یہی بات ہے۔ مستفعلن غیر حقیقی تقطیع ہے۔
عجیب باتیں تو نئے عروضی کرتے ہیں۔ پرانے والوں کی بات پر عمل کر لیا جائے تو کوئی مسئلہ ہی نہ ہو۔
ہیں!
کیا نئے عروضیے بھی ہیں، ان کا کام کیا ہے؟
جتنے اصول وضع ہونے تھے وہ تو ہو چکے، اب یہ کیا کرتے ہیں، میں سمجھا نہیں "نئے عروضی" کی اصطلاح کو۔
مزمل شیخ بسمل — نومبر 8، 2012 4:09 شام
ہیں!
کیا نئے عروضیے بھی ہیں، ان کا کام کیا ہے؟
جتنے اصول وضع ہونے تھے وہ تو ہو چکے، اب یہ کیا کرتے ہیں، میں سمجھا نہیں "نئے عروضی" کی اصطلاح کو۔
ان کا کام عروض میں فضول کی سائنس کو گھسانا ہے۔

کیا کہیں جنہیں خود عروض نہیں آتا وہ نئے نئے طریقے نکالتا ہے۔ بلکہ اب تو ”منطقی قافیہ“ کے نام سے بھی ایک صاحب رقم طراز ہیں۔

محمد اظہر نذیر — نومبر 11، 2012 8:00 صبح
اظہر بھائی
"کرتے گلہ بھی کس سے صنم" یہ کیسے کیا؟
جی وہ غلطی سے لکھ گیا تھا ، پھر نیچے تصحیح بھی کر دی تھی نا

اسد قریشی — نومبر 11، 2012 8:41 صبح
تمام احباب کی محبتوں، آرا اور حوصلہ افزائی کا بے حد ممنون ہوں۔ قبلہ اعجازعُبید صاحب کا 'خصوصی' شکرگزار۔
شاہد شاہنواز — نومبر 20، 2012 4:18 شام
ان کا کام عروض میں فضول کی سائنس کو گھسانا ہے۔

کیا کہیں جنہیں خود عروض نہیں آتا وہ نئے نئے طریقے نکالتا ہے۔ بلکہ اب تو ”منطقی قافیہ“ کے نام سے بھی ایک صاحب رقم طراز ہیں۔
میری غیبت بلکہ غیبتیں ہو رہی ہیں یہاں پر؟؟ بھائی میں نے تو صوتی قافیہ کہا تھا، منطقی تو نہیں تھا وہ۔۔۔
مزمل شیخ بسمل — نومبر 20، 2012 6:58 شام
میری غیبت بلکہ غیبتیں ہو رہی ہیں یہاں پر؟؟ بھائی میں نے تو صوتی قافیہ کہا تھا، منطقی تو نہیں تھا وہ۔۔۔
ارے نہیں وہ آپ نہیں کوئی اور صاحب ہیں دوسرے فورم پر۔ اور غیبت نہیں میں تو منہ پھٹ ہوں منہ پر حال سنا دیتا ہوں تو انہیں بھی ہاتھ کے ہاتھ آئینہ دکھا دیا تھا۔ اب تک تو پلٹے نہیں وہ۔
