مدحتِ حیدر

انتہا — مئی 10، 2017 10:48 صبح
یہ کچھ اشعار موزوں ہوئے تھے:
اے علی تجھ سا جہاں میں مرتضیٰ کوئی نہیں
لاکھوں سلطاں ہیں، مگر شیرِِ خدا کوئی نہیں
ہاشمی اور مطلبی میں ہے تو ان کا کفو
ایسا انسب، مصطفائی دوسرا کوئی نہیں
دی گواہی کم سنی میں ہو گئے تم سرفراز
پیش قدمی میں مقابل بالکا کوئی نہیں
دی چہیتی، لاڈلی، آنکھوں کی ٹھنڈک عقد میں
لاڈلا ایسا دمادِ مصطفیٰ کوئی نہیں
بھائی ہونے کی دی نسبت مصطفیٰ نے موسیٰ کی
نسبتِ نورِ نبوت پا رسا کوئی نہیں
مدحتِ حیدر جو کی ہے مدح ہے وہ بے مثال
من کنتُ مولاہٗ، مولا سوا کوئی نہیں
محترم جناب محمد خلیل الرحمٰن کی اصلاح اور بھائی محمد تابش صدیقی کی سرپرستی کے بعد
اے علی تجھ سا جہاں میں مرتضیٰ کوئی نہیں
لاکھ سلطاں ہیں، مگر شیرِِ خدا کوئی نہیں
ہاشمی اور مطلبی میں ہے تو ان کا کفو
ایسا انسب، مصطفائی دوسرا کوئی نہیں
دی گواہی کم سنی میں ہو گئے تم سرفراز
پیش قدمی میں مقابل بالکا کوئی نہیں
دی چہیتی، لاڈلی، آنکھوں کی ٹھنڈک عقد میں
لاڈلا داماد ایسا با خدا! کوئی نہیں
بھائی ہونے کی دی نسبت جب کلیم اللہ کے
نسبتِ نورِ نبوت باصفا کوئی نہیں
مدحتِ حیدر جو فرمائی ہے وہ ہے بے مثال
کہہ گئے من کنتُ مولا، ما سوا کوئی نہیں​
انتہا — مئی 10، 2017 11:47 صبح
الف عین صاحب! ظہیراحمدظہیر صاحب! محمد وارث صاحب!
اکمل زیدی — مئی 10، 2017 12:37 شام
جزاک اللہ ۔ ۔ ۔
ہاشمی اور مطلبی میں
اس میں مطلبی میں "م" پر پیش اور "ط " پر تشدید لگا دیں ۔
اس میں آخر میں "نے" تو نہیں ؟
محمد وارث — مئی 10، 2017 1:04 شام
مُطلبی شعر میں فاعلاتن کے وزن پر بندھا ہے یعنی مُط طَ لا بی، میرے خیال میں اس کا صحیح وزن مُفتَعِلُن ہے یعنی مُط طَ لَ بی۔
محمد وارث — مئی 10، 2017 1:08 شام
مطلع بھی میری نظر میں کچھ تبدیلی چاہتا ہے۔ یعنی
اے علی تجھ سا جہاں میں مرتضیٰ کوئی نہیں​

تجھ سا مُرتضیٰ کوئی نہیں کا محل تب ہو جب دنیا میں بہت سارے مُرتضیٰ ہوں جب کہ ایسا نہیں ہے بلکہ علی شیرِ خدا ہی واحد مُرتضیٰ کے طور پر مشہور ہیں۔ اگر لوگوں کے نام مرتضی ہیں تو وہ انہی کے نام کی وجہ سے ہیں سو میرے خیال میں اس میں تبدیلی ہونی چاہیئے۔
انتہا — مئی 13، 2017 4:53 صبح
مطلع بھی میری نظر میں کچھ تبدیلی چاہتا ہے۔ یعنی
اے علی تجھ سا جہاں میں مرتضیٰ کوئی نہیں​

تجھ سا مُرتضیٰ کوئی نہیں کا محل تب ہو جب دنیا میں بہت سارے مُرتضیٰ ہوں جب کہ ایسا نہیں ہے بلکہ علی شیرِ خدا ہی واحد مُرتضیٰ کے طور پر مشہور ہیں۔ اگر لوگوں کے نام مرتضی ہیں تو وہ انہی کے نام کی وجہ سے ہیں سو میرے خیال میں اس میں تبدیلی ہونی چاہیئے۔
اگر مطلع یوں کر لیا جائے
اے علی تیرے علاوہ مرتضیٰ کوئی نہیں​
تو کیا یہ ٹھیک ہے؟
انتہا — مئی 13، 2017 4:54 صبح
مُطلبی شعر میں فاعلاتن کے وزن پر بندھا ہے یعنی مُط طَ لا بی، میرے خیال میں اس کا صحیح وزن مُفتَعِلُن ہے یعنی مُط طَ لَ بی۔
اگر اسے تبدیل کر کے
ہاشمی، عبدِ منافی میں ہے تو ان کا کفو​
کر دیا جائے تو یہ وزن میں آ جائے گا؟
انتہا — مئی 13، 2017 4:56 صبح
امجد علی راجا بھائی، پسندیدگی کا شکریہ، لیکن جس طرح آں جناب نے دیگر محفلین کے کلام پر بہتری کی رائے دی ہے، بندے کی کاوش پر بھی کچھ نظر کرم ہو جائے۔
انتہا — مئی 13، 2017 4:59 صبح
اس میں آخر میں "نے" تو نہیں ؟
یہ اصل میں سرورِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے دی جانے والی نسبت ہے اس لیے ”نے“ نہیں، ”کے“ آنا چاہیے۔
محمد خلیل الرحمٰن بھائی کیا کہتے ہیں اس بارے؟
محمد وارث — مئی 13، 2017 6:43 صبح
اگر اسے تبدیل کر کے
ہاشمی، عبدِ منافی میں ہے تو ان کا کفو​
کر دیا جائے تو یہ وزن میں آ جائے گا؟
جی آ تو جائے گا لیکن مطلبی کی بات کچھ اور ہے۔ عبدِ مناف قبیلہ ایک وسیع قبیلہ ہے جب کہ مطلبی میں حضورِ پاک اور حضرت علی کی نسبت بہت قریب کی ہے۔
محمد وارث — مئی 13، 2017 6:50 صبح
مزید یہ کہ مطلع کا دوسرا مصرع بھی کچھ بہتری چاہتا ہے کیونکہ
لاکھ سلطاں ہیں، مگر شیرِِ خدا کوئی نہیں
اس میں شیرِ خدا کے ساتھ سلطان کا تلازمہ صحیح بنتا نہیں، گو سلطان کا ایک مطلب طاقت ور بھی ہوسکتا ہے لیکن سلطان کا عمومی مطلب حکمران ہے جب کہ شیر خدا کا لقب حضرت علی کو اپنی بہادری اور شجاعت کی وجہ سے ملا سو کچھ یوں ہو سکتا ہے
صد بہادر ہیں مگر شیرِ خدا کوئی نہیں
یا
لاکھ اشجع ہیں مگر شیرِ خدا کوئی نہیں
وغیرہ۔​
انتہا — مئی 13، 2017 6:56 صبح
جی آ تو جائے گا لیکن مطلبی کی بات کچھ اور ہے۔ عبدِ مناف قبیلہ ایک وسیع قبیلہ ہے جب کہ مطلبی میں حضورِ پاک اور حضرت علی کی نسبت بہت قریب کی ہے۔
پھر آپ ہی کچھ تدبیر نکالیے اسے شامل کرنے کی۔ ہماری تو عروضی استعداد یہاں ختم ہو جاتی ہے۔ مطلبی کیسے آئے گا یہاں
محمد تابش صدیقی — مئی 13، 2017 6:59 صبح
اھر یوں کر دیں تو درست ہو گا؟
ہاشمی میں اور مطلبی میں ہے تو ان کا کفو
محمد وارث — مئی 13، 2017 7:01 صبح
پھر آپ ہی کچھ تدبیر نکالیے اسے شامل کرنے کی۔ ہماری تو عروضی استعداد یہاں ختم ہو جاتی ہے۔ مطلبی کیسے آئے گا یہاں
مصرعے کی ساری بنت تبدیل کرنے پڑے گی، مطلبی تو کسی طور اس بحر میں نہیں آئے گا کیونکہ اس بحر میں فاعلاتن ہے اور مطلبی مفتعلن ہے لیکن 'مُطلب' آ جائے گا، اس کے ساتھ خانوادہ وغیرہ اس طرح کے الفاظ استعمال کر کے دیکھ لیں :)
انتہا — مئی 13، 2017 7:04 صبح
اھر یوں کر دیں تو درست ہو گا؟
ہاشمی میں اور مطلبی میں ہے تو ان کا کفو
شاید نہیں،
محمد وارث صاحب
سید عمران — مئی 13، 2017 7:06 صبح
مصرعے کی ساری بنت تبدیل کرنے پڑے گی، مطلبی تو کسی طور اس بحر میں نہیں آئے گا کیونکہ اس بحر میں فاعلاتن ہے اور مطلبی مفتعلن ہے لیکن 'مُطلب' آ جائے گا، اس کے ساتھ خانوادہ وغیرہ اس طرح کے الفاظ استعمال کر کے دیکھ لیں :)
بس حمد کا تازہ کلام اب آپ پر لازم ہوگیا۔۔۔
انتظار رہے گا۔۔۔
نہ کا نہیں کلام کا!!!
محمد وارث — مئی 13، 2017 7:08 صبح
بس حمد کا تازہ کلام اب آپ پر لازم ہوگیا۔۔۔
انتظار رہے گا۔۔۔
نہ کا نہیں کلام کا!!!
اپنی اتنی قسمت کہاں سید صاحب محترم :)
سید عمران — مئی 13، 2017 7:09 صبح
اپنی اتنی قسمت کہاں سید صاحب محترم :)
کبھی قسمت بنانے سے بھی بنتی ہے!!!
انتہا — مئی 13، 2017 7:21 صبح
مزید یہ کہ مطلع کا دوسرا مصرع بھی کچھ بہتری چاہتا ہے کیونکہ
لاکھ سلطاں ہیں، مگر شیرِِ خدا کوئی نہیں
اس میں شیرِ خدا کے ساتھ سلطان کا تلازمہ صحیح بنتا نہیں، گو سلطان کا ایک مطلب طاقت ور بھی ہوسکتا ہے لیکن سلطان کا عمومی مطلب حکمران ہے جب کہ شیر خدا کا لقب حضرت علی کو اپنی بہادری اور شجاعت کی وجہ سے ملا سو کچھ یوں ہو سکتا ہے
صد بہادر ہیں مگر شیرِ خدا کوئی نہیں
یا
لاکھ اشجع ہیں مگر شیرِ خدا کوئی نہیں
وغیرہ۔​
ہیں بہادر لاکھ پر شیرِ خدا کوئی نہیں
یہ دیکھیے
انتہا — مئی 13، 2017 7:24 صبح
مصرعے کی ساری بنت تبدیل کرنے پڑے گی، مطلبی تو کسی طور اس بحر میں نہیں آئے گا کیونکہ اس بحر میں فاعلاتن ہے اور مطلبی مفتعلن ہے لیکن 'مُطلب' آ جائے گا، اس کے ساتھ خانوادہ وغیرہ اس طرح کے الفاظ استعمال کر کے دیکھ لیں :)
اور یہ؟
مطلب و ہاشمی ہونے میں پایا ہے کفو
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AF%D8%AD%D8%AA%D9%90-%D8%AD%DB%8C%D8%AF%D8%B1.96356/