مرا بنا ہے دوست جو حسین ہے جوان ہے----برائے اصلاح

ارشد چوہدری — اکتوبر 16، 2020 4:44 صبح
الف عین
ڈاکٹر عظیم سہارنپوری
محمد خلیل الرحمٰن
محمّد احسن سمیع :راحل:
-----------
مرا بنا ہے دوست جو حسین ہے جوان ہے
وہ دیکھتا ہے پیار سے ، مری طرف ملان ہے
---------
کسی سے عشق ہو گیا ، اسی کا ہو کے جی لیا
اسے بھی مجھ سے پیار تھا یہی مرا گمان ہے
--------------
اسی نے مجھ کو پیار سے ، بُرا بھلا کہا مگر
سدا مرا بنا رہا ، یہی تو اس کی شان ہے
--------------
کمی مری وفا میں کچھ ، بتا سکا نہ وہ کبھی
مری خطا نہیں اگر ، تو کیوں وہ بد گمان ہے
-----------
وہ ہم سفر ملا مجھے جو جانتا ہے راستے
اہم یہ سب سے بات ہے ، وہ میرا ہم زبان ہے
-------------
اسے بھی مجھ سے عشق ہے ،کہا یہ میرے کان میں
مری نہیں ہے بات یہ ، اسی کا یہ بیان ہے
----------یا
رہے گا میرے ساتھ ہی ، اسی کا یہ بیان ہے
----------
کما کے لا رہا ہوں میں ، اسی کی عیش کے لئے
یہ بات میں نے مان لی یہ عشق میں لگان ہے
--------------
وفا مجھے نہ مل سکی یوں زندگی گزار دی
اسی لئے تو دل مرا جہاں سے بد گمان ہے
الف عین — اکتوبر 16، 2020 2:30 شام
نہیں ارشد بھائی، یہ غزل تو زبردستی کی قافیہ پیمائی کے سوا کچھ نہیں۔ اصلاح بے سود ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B1%D8%A7-%D8%A8%D9%86%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA-%D8%AC%D9%88-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86-%DB%81%DB%92-%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86-%DB%81%DB%92-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.113555/