La Alma — جولائی 6، 2016 5:30 شام
مرا گیت نغمہِ سرمدی
ہُوں شریک ِحلقہِ بندگی
کوئی شے یہاں نہیں دائمی
ہے تجھے ہی راس ہمیشگی
ق
کھُلے مجھ پہ بھی درِ آگہی
ملے معرفت کوئی واقعی
یہ زمانہ تو ہے دروغ گو
ترا دین مظہرِ راستی
ہے قصور اپنے شعور کا
ترا حرف حرف ہے منطقی
پیا آب قلزمِ عشق کا
نہیں باقی اب کوئی تشنگی
یہی ایک نسخہِ فیض ہے
کروں ہر قدم تری پیروی
ملی راہِ حق، ہے کرم ترا
ہوئی سہل منزلِ اخروی
مرے لب ہوں تر تری حمد سے
ترا ذکر ہو دم ِ آخری
غدیر زھرا — جولائی 6، 2016 5:35 شام
بہت عمدہ کلام بہنا

ڈھیروں داد وصولیے

فرقان احمد — جولائی 6، 2016 6:11 شام
مرا گیت نغمہِ سرمدی
ہُوں شریک ِحلقہِ بندگی
پیا آب قلزمِ عشق کا
نہیں باقی اب کوئی تشنگی
لاجواب! یہ اشعار خاص طور پر بہت پسند آئے ہیں!
محمدابوعبداللہ — جولائی 6، 2016 6:17 شام
مرے لب ہوں تر تری حمد سے
ترا ذکر ہو دم ِ آخری
بہت خوب
کاشف اسرار احمد — جولائی 6، 2016 6:49 شام
ماشا اللہ۔
بہت خوب !
محمد تابش صدیقی — جولائی 6، 2016 6:52 شام
ما شاء اللہ. بہت عمدہ بہن
محمد امین — جولائی 6، 2016 7:13 شام
زبردست
کاشف اختر — جولائی 6، 2016 7:14 شام
بہترین کلام ہے واہ واہ!
محمد فائق — جولائی 7، 2016 1:36 صبح
واہ واہ بہترین کلام ہے۔
ہے قصور اپنے شعور کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خصوصاً یہ شعر بہت پسند آیا ماشاءاللہ
عباد اللہ — جولائی 7، 2016 2:09 صبح
زبردست۔۔۔!!!
صفی حیدر — جولائی 7، 2016 5:14 صبح
بہت خوب عمدہ ہے ۔۔۔۔۔
La Alma — جولائی 7، 2016 6:46 صبح
La Alma — جولائی 7، 2016 6:47 صبح
بہت عمدہ کلام بہنا

ڈھیروں داد وصولیے
لاجواب! یہ اشعار خاص طور پر بہت پسند آئے ہیں!
ما شاء اللہ. بہت عمدہ بہن
واہ واہ بہترین کلام ہے۔
ہے قصور اپنے شعور کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خصوصاً یہ شعر بہت پسند آیا ماشاءاللہ
آپ سب کا بہت شکریہ...
الف عین — جولائی 10، 2016 3:47 صبح
عمدہ! بس نسخہ فیض کی ترکیب کچھ درست نہیں لگی۔ اسے بدل دیں