مری زمیں ہے ترے آسماں سے الگ۔۔۔۔برائے اصلاح

اسد قریشی — نومبر 30، 2012 10:40 صبح
مری زمیں ہے ترے آسماں سے الگ
مرا جہاں ہے ترے خاکداں سے الگ
مری جبیں کے نشاں آج بھی ہیں وہاں
تو پھر میں کیسے رہوں لامکاں سے الگ
میں حق شناس تھا، منصورہی تھا اگر
کیا نہ جاتا مجھے داستاں سے الگ
سفر ہوا نہ مرا ساحلوں کی طرف
ہوا ہوئی ہی نہیں بادباں سے الگ
ہیں شخصیت کے پُجاری یہ لوگ سبھی
سو چل پڑا ہوں اب اس کارواں سے الگ
نجانے کب وہ اتر جائے دل میں مرے
خرد کو رکھتا ہوں یوں بھی گماں سے الگ
بسا لیا ہے ترا عشق روح تلک
متاعِ عشق نہیں حرثِ جاں سے الگ
سنا رہا تھا وہ قصّہ تو میرا اسد
بیاں درست تھا لیکن بیاں سے الگ
شاہد شاہنواز — نومبر 30، 2012 7:34 شام
اس پوری غزل کو تحت اللفظ میں نہیں پڑھ پا رہا۔ یقینا یہ بحر میں پہلی بار دیکھ رہا ہوں۔۔ اگر اس کے افاعیل معلوم ہوں (میری مراد ارکان بحر سے ہے) تو کچھ کہہ سکوں شاید۔۔۔
الف عین — دسمبر 1، 2012 6:16 صبح
نا مانوس بحر ہے بلکہ خود ساختہ۔ اس کو دو ٹکڑے کر کے پڑھیں تو وزن میں لگتی ہے۔
مری زمیں ہے ترے
مفاعلن فعِلا
آسماں سے الگ
مفاعلن فعلن
یعنی مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن والی مشہور بحر میں بس ایک ’تن‘ کی کمی ہے۔ اسے اسی مانوس بحر میں کر دیا جائے تو بہتر ہے۔
مزمل شیخ بسمل — دسمبر 1، 2012 6:32 صبح
اچھی غزل ہے جناب۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B1%DB%8C-%D8%B2%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92-%D8%AA%D8%B1%DB%92-%D8%A2%D8%B3%D9%85%D8%A7%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D9%84%DA%AF%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.56796/