السلام علیکم
امید کرتا ہوں احباب خیر سے ہونگے
ایک اور کوشش کے ساتھ حاضر ہوا ہوں
امید کرتا ہوں احباب خیر سے ہونگے
ایک اور کوشش کے ساتھ حاضر ہوا ہوں
یہ محبتوں کی عطا رہی جو نہ پاس ہے جو نہ روبرو
وہی ہمسفر مرا ہم نوا رہا ہر گھڑی مرے کو بکو
مری آنکھ سے کبھی پار آ مری آنکھ تک کبھی پاس آ
تجھے چھو سکوں کبھی یوں بھی آ مرے خواب میں مرے روبرو
مری سوچ میں مری بات میں ترا تذکرہ ترا نام ہے
یہ ہی ہر گھڑی مرا حال ہے مرے حال میں رہا تو ہی تو
کبھی پربتوں کے سوال میں کبھی بادلوں کی پکار میں
تو ہی ہر گھڑی کی ہے جستجو تو ہی منظروں کی ہے آرزو
یہی حال تھا یہی حال ہے مری ذات میں تری ذات ہے
مرا شعر تو مری شاعری مری زندگی تری جستجو
وہی ہمسفر مرا ہم نوا رہا ہر گھڑی مرے کو بکو
مری آنکھ سے کبھی پار آ مری آنکھ تک کبھی پاس آ
تجھے چھو سکوں کبھی یوں بھی آ مرے خواب میں مرے روبرو
مری سوچ میں مری بات میں ترا تذکرہ ترا نام ہے
یہ ہی ہر گھڑی مرا حال ہے مرے حال میں رہا تو ہی تو
کبھی پربتوں کے سوال میں کبھی بادلوں کی پکار میں
تو ہی ہر گھڑی کی ہے جستجو تو ہی منظروں کی ہے آرزو
یہی حال تھا یہی حال ہے مری ذات میں تری ذات ہے
مرا شعر تو مری شاعری مری زندگی تری جستجو