مزید نئی غزل برائے اصلاح

محمد شکیل خورشید — اکتوبر 21، 2019 11:48 صبح
تو کہاں ہے کہاں مرے اے دوست
ڈھونڈوں تیرے نشاں مرے اے دوست
وہ تری یاد تھی کہ اشک مرے
ایک سیلِ رواں مرے اے دوست
یوں تو آتی ہے سانس تیرے بِن
درد ہے بیکراں مرے اے دوست
میں فنا ہو گیا ترے دکھ میں
تو رہے جاوداں مرے اے دوست
حالِ دل تیرے بعد کس سے کہوں
اے مرے رازداں مرے اے دوست
تُو تو پہچانتا ہے میری ہنسی
درد جس میں نہاں مرے اے دوست
میں تو الجھا ہوں راستے میں شکیل
چل دیا تو کہاں مرے اے دوست
متمنی اصلاح و رہنمائی
محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
و دیگر اساتذہ
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 21، 2019 3:35 شام
تو کہاں ہے کہاں مرے اے دوست
ڈھونڈوں تیرے نشاں مرے اے دوست
وہ تری یاد تھی کہ اشک مرے
ایک سیلِ رواں مرے اے دوست
یوں تو آتی ہے سانس تیرے بِن
درد ہے بیکراں مرے اے دوست
میں فنا ہو گیا ترے دکھ میں
تو رہے جاوداں مرے اے دوست
حالِ دل تیرے بعد کس سے کہوں
اے مرے رازداں مرے اے دوست
تُو تو پہچانتا ہے میری ہنسی
درد جس میں نہاں مرے اے دوست
میں تو الجھا ہوں راستے میں شکیل
چل دیا تو کہاں مرے اے دوست
متمنی اصلاح و رہنمائی
محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
و دیگر اساتذہ
حضرت آپ تو اپنی غزلیں " آپ کی پابندِ بحور شاعری" میں پیش کیا کیجیے۔ خوبصورت غزل۔
عمران سرگانی — اکتوبر 21، 2019 3:40 شام
تو کہاں ہے کہاں مرے اے دوست
ڈھونڈوں تیرے نشاں مرے اے دوست
وہ تری یاد تھی کہ اشک مرے
ایک سیلِ رواں مرے اے دوست
یوں تو آتی ہے سانس تیرے بِن
درد ہے بیکراں مرے اے دوست
میں فنا ہو گیا ترے دکھ میں
تو رہے جاوداں مرے اے دوست
حالِ دل تیرے بعد کس سے کہوں
اے مرے رازداں مرے اے دوست
تُو تو پہچانتا ہے میری ہنسی
درد جس میں نہاں مرے اے دوست
میں تو الجھا ہوں راستے میں شکیل
چل دیا تو کہاں مرے اے دوست
متمنی اصلاح و رہنمائی
محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
و دیگر اساتذہ
دوست ! مرے اے دوست اس طرح کسی کو مخاطب کرتے نہیں سنا۔۔۔
درد جس میں نہاں مرے اے دوست
اس مصرعے میں لفظ ہے کی کمی لگتی ہے
فقط ایک رائے
محمد شکیل خورشید — اکتوبر 21، 2019 3:48 شام
حضرت آپ تو اپنی غزلیں " آپ کی پابندِ بحور شاعری" میں پیش کیا کیجیے۔ خوبصورت غزل۔
سر شرمندہ نہ کریں
حوصلہ افزائی ہے آپ کی، ابھی بھی کئی بار چوک جاتا ہوں، اس فورم سے بہت کچھ سیکھا
محمد شکیل خورشید — اکتوبر 22، 2019 7:08 صبح
دوست ! مرے اے دوست اس طرح کسی کو مخاطب کرتے نہیں سنا۔۔۔
درد جس میں نہاں مرے اے دوست
اس مصرعے میں لفظ ہے کی کمی لگتی ہے
فقط ایک رائے
نشاندہی کا شکریہ دوست
محمد شکیل خورشید — اکتوبر 22، 2019 1:28 شام
محترم الف عین صاحب کی توجہ درکار ہے
الف عین — اکتوبر 23، 2019 5:21 صبح
عمران کی طرح مجھے بھی بس اسی مصرع میں یہی کمی محسوس ہوئی۔
دکھ تھا جس میں نہاں.....
کیا جا سکتا ہے
جی چاہتا ہے کہ ایک بار پھر تعزیت کرتے ہوئے یہی کہوں کہ اگرچہ بھولنا نا ممکن ہے مگر اس غم سے باہر نکلنے کی کوشش کریں۔ شاعری میں بھی کچھ رجائیت پیدا کریں۔
الف عین — اکتوبر 23، 2019 5:21 صبح
باقی اشعار درست ہیں
الف عین — اکتوبر 23، 2019 5:23 صبح
باقی اشعار درست ہیں
محمد شکیل خورشید — اکتوبر 23، 2019 9:24 صبح
عمران کی طرح مجھے بھی بس اسی مصرع میں یہی کمی محسوس ہوئی۔
دکھ تھا جس میں نہاں.....
کیا جا سکتا ہے
جی چاہتا ہے کہ ایک بار پھر تعزیت کرتے ہوئے یہی کہوں کہ اگرچہ بھولنا نا ممکن ہے مگر اس غم سے باہر نکلنے کی کوشش کریں۔ شاعری میں بھی کچھ رجائیت پیدا کریں۔
رہنمائی، اور پُر خلوص مشورے کا شکریہ استادِ محترم۔
وقت ہر درد کا دارُو ہے انشا اللہ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B2%DB%8C%D8%AF-%D9%86%D8%A6%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.108890/