مشکل ہے بہت دل سے تری یاد بھلانا

ارشد چوہدری — اگست 30، 2022 7:43 شام
الف عین
محمد عبدالرؤوف
عظیم
@سیدعاطف علی
مشکل ہے بہت دل سے تری یاد بھلانا
جذبات محبّت کے زمانے سے چھپانا
-----------
معمور مرا دل ہے محبّت میں تمہاری
اب میری نگاہوں سے کبھی دور نہ جانا
--------
بچپن سے ہی عادت جو ستانے کی پڑی ہے
چھوٹا تو نہیں تجھ سے ترا مجھ کو ستانا
---------
آؤ تو کریں مل کے کبھی پیار کی باتیں
کرنا تو تجھے آج بھی آتا ہے بہانا
-------
وعدہ تھا تمہارا کہ وفادار رہو گے
تم عہد کو اپنے نہ کبھی دل سے بھلانا
-----------
اک بات بتاؤں میں تجھے دنیا کی روش کی
دشمن ہے ہمیشہ سے محبّت کا زمانہ
------
گر دل میں ترے خوف ہے اللہ کا تو ارشد
دنیا میں سدا خود کو گناہوں سے بچانا
-----------
ارشد چوہدری — ستمبر 1، 2022 3:02 صبح
الف عین
محمد عبدالرؤوف
محمّد احسن سمیع :راحل:
عظیم
سید عاطف علی
الف عین — ستمبر 1، 2022 4:30 صبح
مشکل ہے بہت دل سے تری یاد بھلانا
جذبات محبّت کے زمانے سے چھپانا
-----------
درست
معمور مرا دل ہے محبّت میں تمہاری
اب میری نگاہوں سے کبھی دور نہ جانا
--------
کچھ دو لختی ضرور محسوس ہوتی ہے، لیکن ٹھیک ہے
بچپن سے ہی عادت جو ستانے کی پڑی ہے
چھوٹا تو نہیں تجھ سے ترا مجھ کو ستانا
---------
کس کی عادت؟ دوسرا مصرع عجیب لگتا ہے، کچھ مزاحیہ سا
آؤ تو کریں مل کے کبھی پیار کی باتیں
کرنا تو تجھے آج بھی آتا ہے بہانا
-------
یہ بھی دو لخت ہے
وعدہ تھا تمہارا کہ وفادار رہو گے
تم عہد کو اپنے نہ کبھی دل سے بھلانا
-----------
دوسرے مصرعے میں "اس عہد کو" ہو تو بات واضح ہو سکے
اک بات بتاؤں میں تجھے دنیا کی روش کی
دشمن ہے ہمیشہ سے محبّت کا زمانہ
------
ٹھیک
گر دل میں ترے خوف ہے اللہ کا تو ارشد
دنیا میں سدا خود کو گناہوں سے بچانا
پہلے مصرع میں "تو" کی ضرورت نہیں، بہتر تقطیع ہوتی ہے اس کے بغیر
ارشد چوہدری — ستمبر 10، 2022 3:52 صبح
الف عین
-----------
اصلاح
------------
ہر بات پہ تکرار کی عادت ہے تمہاری
چھوڑا تو نہیں تم نے کبھی مجھ کو ستانا
-----------
دیدار کا طالب ہوں مجھے یوں نہ ترساؤ
-------یا
ملنے کی تمنّا ہے کرو آج تو پوری
ملنے کے لئے آج ہے موسم بھی سہانا
------------
ارشد چوہدری — ستمبر 10، 2022 3:52 صبح
الف عین
-----------
اصلاح
------------
ہر بات پہ تکرار کی عادت ہے تمہاری
چھوڑا تو نہیں تم نے کبھی مجھ کو ستانا
-----------
دیدار کا طالب ہوں مجھے یوں نہ ترساؤ
-------یا
ملنے کی تمنّا ہے کرو آج تو پوری
ملنے کے لئے آج ہے موسم بھی سہانا
------------
الف عین — ستمبر 10، 2022 11:46 صبح
ہر بات پہ تکرار کی عادت ہے تمہاری
چھوڑا تو نہیں تم نے کبھی مجھ کو ستانا
-----------
درست
دیدار کا طالب ہوں مجھے یوں نہ ترساؤ
-------یا
ملنے کی تمنّا ہے کرو آج تو پوری
ملنے کے لئے آج ہے موسم بھی سہانا
------------
پہلا متبادل بحر میں نہیں... یوں تو نہ ترساؤ کے ساتھ بہتر متبادل ہو گا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84-%DB%81%DB%92-%D8%A8%DB%81%D8%AA-%D8%AF%D9%84-%D8%B3%DB%92-%D8%AA%D8%B1%DB%8C-%DB%8C%D8%A7%D8%AF-%D8%A8%DA%BE%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7.118826/