مصیبت در حقیقت شامتِ اعمال ہوتی ہے

ابن رضا — فروری 2، 2014 5:06 شام
تازہ کلام برائے اصلاح حاضرِ خدمت ہے
مصیبت در حقیقت شامتِ اعمال ہوتی ہے
یہ خود اپنے ہی ہاتھوں سے بچھایا جال ہوتی ہے
اگر راحت میسر ہو تو انعامِ خدا جانو
برائی کو برا سمجھو بھلائی کو بھلا جانو
ثمود و عاد کا ہو یا وہ ھود و نوح کا قصہ
مٹا دے بے سبب بستی خدا کرتا نہیں ایسا
جبیں اپنی جھکا لے جو بھلائی منتخب کر لے
ہدایت اس کو ملتی ہے جسے اللہ ہدایت دے
کمی محسوس ہو جب بھی سکوں کی تو کرو توبہ
یہ عصیاں ہی تو دشمن ہے سکون قلبِ عاصی کا
نمایاں یہ نشانی ہے رضا ایجابِ توبہ کی
دلِ تائب سے مٹ جاتا ہے ہررجحانِ عصیانی


ٹیگ: اساتذہ کرام جناب الف عین صاحب و جناب محمد یعقوب آسی و برادران
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
نایاب — فروری 2، 2014 5:16 شام
کمی محسوس ہو جب بھی سکوں کی تو کرو توبہ
یہ عصیاں ہی تو دشمن ہے سکون قلبِ عاصی کا
کیا سچی بات کہی محترم بھائی
بہت دعائیں
شیرازخان — فروری 2، 2014 5:47 شام
بہت اچھے اشعار ہیں جناب ۔۔۔
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 3، 2014 6:18 صبح
محبت در حقیقت
کے بعد حاضر ہے:
مصیبت در حقیقت۔۔۔
:)
بہت خوب۔۔۔
بہت سی داد حاضر ہے رضا میری طَرَف سے بھی
ابن رضا — فروری 3، 2014 7:55 صبح
محبت در حقیقت
کے بعد حاضر ہے:
مصیبت در حقیقت۔۔۔
:)
بہت خوب۔۔۔
بہت سی داد حاضر ہے رضا میری طَرَف سے بھی
:)
تشکر بسیار، شاد باشید علامہ صاحب
ابن رضا — فروری 3، 2014 7:56 صبح
کمی محسوس ہو جب بھی سکوں کی تو کرو توبہ
یہ عصیاں ہی تو دشمن ہے سکون قلبِ عاصی کا
کیا سچی بات کہی محترم بھائی
بہت دعائیں
بہت اچھے اشعار ہیں جناب ۔۔۔
پسند آوری کا شکریہ، شاد رہیں
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 3، 2014 8:45 صبح
:)
تشکر بسیار، شاد باشید علامہ صاحب
لگتا ہے آپ نے میرے بنائے ہوئے مصرعے کو صرف تعریفی سمجھا ہے۔
بہت سی داد حاضر ہے رضا میری طَرَف سے بھی
ابن رضا — فروری 3، 2014 8:49 صبح
لگتا ہے آپ نے میرے بنائے ہوئے مصرعے کو صرف تعریفی سمجھا ہے۔
کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے سرسری بھائی کی لائن کو سرسری ہی پڑھا تھا اور سمجھا تھا;)
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 3، 2014 9:03 صبح
مگر اسے بالکل برطرَف نہیں کردینا۔ :)
ابن رضا — فروری 3، 2014 9:13 صبح
مگر اسے بالکل برطرَف نہیں کردینا۔ :)
جی ہاں کہ بولڈ والا طرَف خاصا Exogenousہے
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 3، 2014 9:15 صبح
اس کی ”ر“ ساکن ہے یا متحرک؟
ابن رضا — فروری 3، 2014 9:22 صبح
اس کی ”ر“ ساکن ہے یا متحرک؟
سمت والے طرف کی ر ساکن اور برطرف والے طرف کی ر مفتوح ہوتی ہے۔ باقی وضاحت آپ فرما دیں
محمد یعقوب آسی — فروری 3، 2014 9:30 صبح
مناسب ہے، پہلے شعر کے دوسرے مصرعے میں ’’اپنے ہی ہاتھوں‘‘ یہاں ’’ہ‘‘ ادا کرنے میں دقت ہوتی ہے۔
محمد یعقوب آسی — فروری 3، 2014 9:34 صبح
سمت والے طرف کی ر ساکن اور برطرف والے طرف کی ر مفتوح ہوتی ہے۔ باقی وضاحت آپ فرما دیں

درستی فرما لیجئے:
سَمت (وتد مفروق ہے) : سَم ت
طَرَف (وتد مجموع ہے) : طَ رَف ۔۔۔ طرف (سمت) اور بر طرف دونوں میں طرف کے معانی ایک ہی ہیں۔
محمد یعقوب آسی — فروری 3، 2014 9:38 صبح
ایک اور لفظ ہے ’’طُرفہ‘‘ ۔۔ عجیب، انوکھا ۔۔ اس میں ’’ر‘‘ مجزوم ہے۔
ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی
اک طُرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی​
یہ شعر حسرت موہانی نے اسیری کے دنوں میں کہا تھا
سید عاطف علی — فروری 3، 2014 9:45 صبح
درستی فرما لیجئے:
سَمت (وتد مفروق ہے) : سَم ت
طَرَف (وتد مجموع ہے) : طَ رَف ۔۔۔ طرف (سمت) اور بر طرف دونوں میں طرف کے معانی ایک ہی ہیں۔
طرف میرے خیال میں اصلاً ر ساکن ہے۔ (وتد مفروٖق)۔البتہ دونوں طرح مستعمل ہے ۔
۔۔۔غالب کا سہرا مثال کے طور پر پیس کیا جاسکتا ہے۔
سر پہ چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے طرفِ کلاہ
اور اسی سہرے میں ۔۔۔
ہم سُخن فہم ہیں ، غالبؔ کے طرف دار نہیں۔۔۔
اور بھی مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں۔۔۔میرے خیال میں شایداستعمال دونوں طرح درست سمجھا جاتا ہے۔
سید عاطف علی — فروری 3، 2014 11:14 صبح
طرف( العین) ۔ (ر ساکن) بمعنی ۔آنکھ جھپکنا۔
طرف ر مفتوح۔ سائیڈ۔کسی شے کا آخر
http://www.almaany.com/home.php?language=arabic&lang_name=عربي&word=طرف
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 3، 2014 4:30 شام
طرف( العین) ۔ (ر ساکن) بمعنی ۔آنکھ جھپکنا۔
طرف ر مفتوح۔ سائیڈ۔کسی شے کا آخر
http://www.almaany.com/home.php?language=arabic&lang_name=عربي&word=طرف
خلاصہ یہ کہ سمت اور طرف والے معانی میں اگر آئے تو ”ر“ متحرک ہوگی اور اگر جھپکنے کے معنی میں ہو تو ”ر“ ساکن ہوگی، اسی طرح طُرفہ کی ”ر“ بھی ساکن ہوگی۔
عبد الرحمن — فروری 3، 2014 4:33 شام
ماشاء اللہ! بہت خوب کلام ہے۔
خالد محمود چوہدری — فروری 3، 2014 5:18 شام
تازہ کلام برائے اصلاح حاضرِ خدمت ہے
مصیبت در حقیقت شامتِ اعمال ہوتی ہے
یہ خود اپنے ہی ہاتھوں سے بچھایا جال ہوتی ہے
بھلائی گر میسر ہو تو از طرفِ خدا جانو
برائی کو برا سمجھو بھلائی کو بھلا جانو
ثمود و عاد ہوں یا قومِ ھود و نوح کا قصہ
مٹا دے بے سبب بستی خدا کرتا نہیں ایسا
جبیں اپنی جھکا لے جو بھلائی منتخب کر لے
وہی پاتا ہدایت ہے جسے اللہ ہدایت دے
کمی محسوس ہو جب بھی سکوں کی تو کرو توبہ
یہ عصیاں ہی تو دشمن ہے سکون قلبِ عاصی کا
نمایاں یہ نشانی ہے رضا ایجابِ توبہ کی
دلِ تائب سے مٹ جاتا ہے ہررجحانِ عصیانی

ٹیگ: اساتذہ کرام جناب الف عین صاحب و جناب محمد یعقوب آسی و برادران
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن

لَا تُکَلَّفُ نَفۡسٌ اِلَّا وُسۡعَہَا
کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B5%DB%8C%D8%A8%D8%AA-%D8%AF%D8%B1-%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA-%D8%B4%D8%A7%D9%85%D8%AA%D9%90-%D8%A7%D8%B9%D9%85%D8%A7%D9%84-%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%92.71764/