مطلع برائے اصلاح

رفیع اللہّٰ — جنوری 18، 2017 4:36 شام
ہر ایک ہے کھڑا موت کے در پر ۔
خفا ہر کوئی زندگی سے ہار پر ۔
الف عین — جنوری 19، 2017 5:55 صبح
مطلع میں دونوں مصرعوں میں قافیہ ہوتا ہے۔ یہاں قافیہ ہی نہیں۔ در اور ہار قوافی نہیں۔ اور یہ دونوں مصرعے بحر و اوزان سےخارج بھی ہیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%B9-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.94286/