ملک میں عدل کو ڈھونڈتا رہ گیا

نوید اکرم — دسمبر 8، 2014 5:19 شام
ملک میں عدل کو ڈھونڈتا رہ گیا
نہ ملا، ہر گلی چھانتا رہ گیا
علم ہے کیوں بھلا صرف امیروں کا حق؟
جو بھی آیا یہاں سوچتا رہ گیا
صدقے سے مال کے ڈھیر ہی لگ گئے
نا سمجھ مال کو جوڑتا رہ گیا
ہم نے توہینِ مذہب نہیں کی کوئی
جوڑا جلتا ہوا چیختا رہ گیا
لوگو! میں نے بھلا جرم کیا تھا کیا؟
پیٹ میں طفل بھی پوچھتا رہ گیا
میری اک نہ سنی یاں کسی نے نویدؔ
حق میں انساں کے میں بولتا رہ گیا​
نوید اکرم — دسمبر 18، 2014 12:20 شام
محترم جناب الف عین صاحب
الف عین — دسمبر 19، 2014 4:32 شام
خیالات اچھے ہیں، لیکن غزل کے طور پر قوافی غلط محسوس ہو رہےہیں مجھے۔ کچھ لوگ درست مانتے ہیں۔ لیکن میرے دل کو نہیں لگتی ان کی بات!!
zulfi — جنوری 10، 2015 10:24 صبح
ملک میں عدل کو ڈھونڈتا رہ گیا
نہ ملا، ہر گلی چھانتا رہ گیا
فاعلن فاعلن فاعلن فَعِلن
ملک میں عدل کو ڈھونڈتا رہا میں
جا بجا ہر قدم سوچتا رہا میں
الف عین — جنوری 11، 2015 5:07 شام
فاعلن فاعلن فاعلن فَعِلن
ملک میں عدل کو ڈھونڈتا رہا میں
جا بجا ہر قدم سوچتا رہا میں
نہیں میاں، بحر تو درست ہے
آوازِ دوست — جنوری 15، 2015 12:27 شام
ملک میں عدل کو ڈھونڈتا رہ گیا
نہ ملا، ہر گلی چھانتا رہ گیا
علم ہے کیوں بھلا صرف امیروں کا حق؟
جو بھی آیا یہاں سوچتا رہ گیا
صدقے سے مال کے ڈھیر ہی لگ گئے
نا سمجھ مال کو جوڑتا رہ گیا
ہم نے توہینِ مذہب نہیں کی کوئی
جوڑا جلتا ہوا چیختا رہ گیا
لوگو! میں نے بھلا جرم کیا تھا کیا؟
پیٹ میں طفل بھی پوچھتا رہ گیا
میری اک نہ سنی یاں کسی نے نویدؔ
حق میں انساں کے میں بولتا رہ گیا​
محترم نوید صاحب غزل کی فنی باریکیوں سے تو میں تقریبا" انجان ہوں مگرارضِ پاک پر پیش آنے والے اِس روح فرسا اور دلخراش واقعے پر آپ کےخیالات سے میں نے یہ جانا کہ جو آپ نےلکھا گویا وہ میرےبھی دل میں تھا۔ اِس بدنصیب سانحے نے دُنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کاموقف داغدار کیا ہے۔ میری دُعا ہے کہ خُدا حق کا بول بالاکرےاورجھوٹ کودُنیا اورآخرت ہردوجگہ رسوا کرے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D9%84%DA%A9-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B9%D8%AF%D9%84-%DA%A9%D9%88-%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88%D8%AA%D8%A7-%D8%B1%DB%81-%DA%AF%DB%8C%D8%A7.79137/