منزلیں صرف انھیں سے کریں انکار، گریز ! ۔۔ غزل اصلاح کے لیے ۔

کاشف اسرار احمد — ستمبر 3، 2018 8:52 صبح
السلام علیکم
جسارت کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بندہ دوبارہ بھی پریشان کرنے کی ہمت کر لیتا ہے !:)
اصلاحات کی مد میں ایک اور غزل حاضرِ دفتر کر رہا ہوں۔ غزل کا قافیہ اور ردیف ذرا ہٹ کر ہیں۔ اپنی بے لاگ رائے سے نوازیے گا ! شکریہ۔
استاد محترم جناب الف عین سر اور احباب

رمل مثمن سالم مخبون محذوف
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلات

منزلیں صرف انھیں سے کریں انکار، گریز !
جن کی فطرت میں پنپ جاتا ہے "دشوار گریز" !
پاس اس کے رہوں، ممکن ہے، بس اس شرط کے ساتھ
اپنی فطرت کو بنا لوں جو میں پندار گریز !
کیوں تُو چہرے پہ نہیں رکتا ٹپکتے آنسو
آ ہتھیلی پہ مری آجا، اے رخسار گریز !
سلطنت فقر کی کٹیا سے چلا کرتی ہے
راج کرتی ہے دلوں پہ ، یہ ہے دربار گریز!
ہوں گے برباد مرے گھر میں ہی سب خواب مرے
تشنہ تعبیر رہیں گے، یہ ہیں بازار گریز !
حق تعالیٰ ہو کرم مجھ پہ، بڑی دیر سے میں
منتظر ہوں صَفِ خاموشی میں، اصرار گریز !
سامنے بیٹھ کے رکھتے ہو نگاہیں دل پر
اتنی قربت بھی نہیں اچھی ملنسار، گریز !
ایسے جینے کو میں جینا نہیں کہتا کاشف
ایسی آزادی جو اندھی ہو اور اقدار گریز !
سیّد کاشف

ایک شعر اور ہے جس کی بابت مجھے اطمینان نہیں ہے کہ درست ہے۔۔
جتنا تقدیر میں ہو، سب کو ملے گا اتنا
دانہ قسمت میں نہیں ہے تو ہے منقار گریز !
اکمل زیدی — ستمبر 3، 2018 11:15 صبح
بہت عمدہ لگی غزل ۔ ۔ ۔ ۔ کافی روانی پائی اس بار۔۔۔
اکمل زیدی — ستمبر 3، 2018 11:15 صبح
کیوں تُو چہرے پہ نہیں رکتا ٹپکتے آنسو
آ ہتھیلی پہ مری آجا، اے رخسار گریز !
بہت ہی اچھا شعر۔۔ ۔ ۔ پورے مضمون بندھا ہوا ہے اس میں۔ ۔ ۔
اکمل زیدی — ستمبر 3، 2018 11:16 صبح
سامنے بیٹھ کے رکھتے ہو نگاہیں دل پر
اتنی قربت بھی نہیں اچھی ملنسار، گریز !
خوب۔ ۔ ۔
کاشف اسرار احمد — ستمبر 3، 2018 6:14 شام
بہت عمدہ لگی غزل ۔ ۔ ۔ ۔ کافی روانی پائی اس بار۔۔۔
ہوشیار !!
آپریشنِ ارتقائے فہم باقی ہے !!
:)
اکمل زیدی — ستمبر 4، 2018 5:53 صبح
ہوشیار !!
آپریشنِ ارتقائے فہم باقی ہے !!
:)
:eek:
کاشف اسرار احمد — ستمبر 5، 2018 5:57 صبح
اس جانب بھی توجہ فرمائیں سر۔۔ الف عین
الف عین — ستمبر 5، 2018 6:24 صبح
واقعی دشوار زمین ہے، اور اس جیسی ردیفوں سے ہے درکار گریز!! للیکن ماشاءاللہ اس سے سرخرو گزر گئے ہیں کاشف۔ البتہ کچھ معمولی سی اغلاط
منزلیں صرف انھیں سے کریں انکار، گریز !
جن کی فطرت میں پنپ جاتا ہے "دشوار گریز" !
پہلا مصرع روانی چاہتا ہے ایک مجوزہ صورت
منزلیں ان سے ہی کرتی ہیں بس انکار گریز
راج کرتی ہے دلوں پہ
یہاں پر مکمل آ سکتا ہے، اسی کو استعمال کرو
تشنہ تعبیر رہیں گے...
تشنہء تعبیر محاورہ ہے محض تشنہ نہیں
کاشف اسرار احمد — ستمبر 5، 2018 6:31 صبح
واقعی دشوار زمین ہے، اور اس جیسی ردیفوں سے ہے درکار گریز!! للیکن ماشاءاللہ اس سے سرخرو گزر گئے ہیں کاشف۔ البتہ کچھ معمولی سی اغلاط
منزلیں صرف انھیں سے کریں انکار، گریز !
جن کی فطرت میں پنپ جاتا ہے "دشوار گریز" !
پہلا مصرع روانی چاہتا ہے ایک مجوزہ صورت
منزلیں ان سے ہی کرتی ہیں بس انکار گریز
راج کرتی ہے دلوں پہ
یہاں پر مکمل آ سکتا ہے، اسی کو استعمال کرو
تشنہ تعبیر رہیں گے...
تشنہء تعبیر محاورہ ہے محض تشنہ نہیں
آپ کی تجویزات سر آنکھوں پر۔۔ اشعار درست کرتا ہوں سر ۔۔۔
تشنہءِ تعبیر کا کچھ متبادل دیکھتا ہوں ۔۔۔ فی الحال تو ذہن میں خلا ہے! :)
جزاک اللہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84%DB%8C%DA%BA-%D8%B5%D8%B1%D9%81-%D8%A7%D9%86%DA%BE%DB%8C%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%8C-%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B2-%DB%94%DB%94-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92-%DB%94.103083/