موت کو راستہ دیا کس نے (اصلاح

خرم شہزاد خرم — جنوری 2، 2010 11:35 شام
موت کو راستہ دیا کس نے
آج پھر گھر جلا دیا کس نے
پھول پودے لگائے تھے میں نے
گھر کو کھنڈر بنا دیا کس نے
قبر کے پاس بیٹھ کر چیخی
میرا بچہ جگا دیا کس نے
اپنے گھر کو جلا رہے ہیں وہ
ان کے ہاتھوں، دیا، دیا کس نے
ایک بچہ یہ مجھ سے پوچھتا ہے
میرا بستہ جلا دیا کس نے
حال میرا عجیب ہے خرم
میرے دل کو دبا دیا کس نے
خرم شہزاد خرم
ابن سعید — جنوری 2، 2010 11:51 شام
زبردست اور حسب حال پیش کش ہے جونئیر۔ میں ذرا درج ذیل اشعار پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔
میرا جچہ جگا دیا کس نے

جچہ کیا ہے؟
ایک بچہ یہ مجھ سے پوچھتا ہے

یہ مصرع روانی کی راہ میں حائل سا ہے۔ کچھ یون ہو تو کیسا رہے گا؟
ایک بچہ سوال کرتا ہے
یا
ایک بچہ یہ مجھ سے کہتا ہے
خیر آپ اور بہتر تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔ میں نے تو بس تمثیلی طور پر لکھے ہیں۔
الف عین — جنوری 3، 2010 7:12 صبح
زچہ و بچہ تو اب خیریت سے ہیں۔
غزل درست ہے کم از کم پہلی قرات میں۔ صرف ایک بات کھٹکی۔ ’کھنڈر‘ کا درست تلفظ نون غنہ کی طرھ ہے، یعنی نون وزن میں نہیں رکھا جاتا۔ ’کھڈر‘ بر وزن فعو درست ہوتا ہے۔
مغزل — جنوری 3، 2010 8:11 صبح
بابا جانی میرے خیال میں ’’ کھَنْڈَر‘‘ فعلن کے وزن پر ہے ۔۔ لغت میں بھی مجھے یہی ملا۔
لیکن آپ کی بات سے اختلاف بھی نہیں کہ انڈیا کے شہر برن کے سینئر شاعر علی جبریل برنی کا شعر ہے کہ ۔
میں وطن پہنچا تو اک کھنڈر نے روکا مجھ کو
میں نے لوگوں سے کہا یہ مرا گھرلگتا ہے
( علی جبریل برنی)
اس کا مطب تو یہ ہوا کہ کھنڈر فعلن اور فعول دونوں صورتوں میں‌جائز ہے۔؟؟
کیا کہتے ہیں آپ ؟؟ آپ نے ’‘ فعو ‘‘ کے وزن کا اشارہ دیا ، شاید ٹائپو ہے۔ اگر نہیں‌تو ’’ کیا فعول ‘‘ کا وزن بھی روا ہوگا ؟؟
الف عین — جنوری 3، 2010 4:31 شام
فعول ہی درست ہے میرے خیال میں، ہندی میں تو یوں ہی لکھا جاتا ہے۔ فعول کس طرح ہو سکتا ہے، کوئی ’کھ(ں)ڈرگ‘ تھوڑا ہی ہے جو آخر میں ’لام بھی لگانا پڑے۔
سید محمد نقوی — جنوری 4، 2010 9:14 شام
اپنے گھر کو جلا رہے ہیں وہ
ان کے ہاتھوں، دیا، دیا کس نے
واہ بہت خوب
شاہ حسین — جنوری 4، 2010 9:23 شام
بہت خوب جناب خرم صاحب ۔ اچھی غزل ہے ۔
محمد وارث — جنوری 5، 2010 6:30 شام
میرے خیال می کھنڈر کا صحیح وزن 'فعو' یا 'فَعَل' ہے جیسا کہ اعجاز صاحب نے لکھا، اس میں ھ کا کوئی وزن تو سرے سے ہے ہی نہیں اور نون مخلوط ہے جس کا کوئی وزن نہیں ہوتا جیسے آنکھ میں نون مخلوط کا کوئی وزن نہیں۔
کسی کا ایک خوبصورت شعر ہے،
مرے دل میں تری یادوں کے سائے
ہوا جیسے کھنڈر میں سرسرائے
خرم شہزاد خرم — جنوری 5، 2010 6:49 شام
موت کو راستہ دیا کس نے
آج پھر گھر جلا دیا کس نے
قبر کے پاس بیٹھ کر چیخی
میرا بچہ جگا دیا کس نے
اپنے گھر کو جلا رہے ہیں وہ
ان کے ہاتھوں، دیا، دیا کس نے
ایک بچہ یہ مجھ سے پوچھتا ہے
میرا بستہ جلا دیا کس نے
حال میرا عجیب ہے خرم
میرے دل کو دبا دیا کس نے
خرم شہزاد خرم
اب گزارا ہو رہا ہے
مغزل — جنوری 5، 2010 7:01 شام
شکریہ بابا جانی اور وارث صاحب، ۔میں نے محفوظ کرلیا ہے ، بہت شکریہ
یعنی کھ َ ں ڈ ر ہے ، لغت میں غلط لکھا گیا ہے ، ممکن ہے ٹائپو ہو ، وہاں کھَ ن ڈ َ ر ( جب ہی میں‌نے فعلن کہا ) بھی ہے ، کھَ ں ڈ َر ( فعول بھی ) ۔۔؟؟ یہ کیا معاملہ تھا، بابا جانی آپ کے مراسلے کی ابتدا میں بھی ٹائپو لگ رہی ہے ،۔آپ نے فعول بھی لکھا ہے اور فعول سے منع بھی کیا ہے ۔
فعل یعنی درد کے وزن پر کھَ ڈر ہے ۔؟؟
لغت یہ کہتی ہے ::
کھَنْڈَر --- کھَن (ن مغنونہ) + ڈَر (پراکرت)
-------------------------------------------------------------------------------
پراکرت سے اردو میں ماخوذ ہے اور عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے 1810ء کو 'کلیاتِ میر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
اسم ظرف مکان ( مذکر - واحد )
جمع: کَھنْڈَرات [کَھن (ن مغنونہ) + ڈَرات]
جمع غیر ندائی: کَھنْڈَروں [کَھن (ن مغنونہ) + ڈَروں (و مجہول)]
1. ٹوٹا پھوٹا مکان، ویران مکان، ویرانہ، خرابہ۔
"اندر قدر رکھو تو سب کھنڈر نظر آئے گا درو بام میں سے اب کچھ سلامت نہیں۔" ( 1974ء، زمیں اور فلک اور، 101 )
ٹوٹی پھوٹی عمارتوں کے نشان، کسی اجڑی ہوئی بستی کے آثار، اُجڑی بستی، ویرانی۔
"اب اس محل کے کھنڈر بھی باقی نہیں تھے۔" ( 1988ء، لکھنؤیاتی ادیب، 8 )
2. [ کاشت کاری ] کھڈ، اونچی نیچی زمین، غیر آباد زمین، بنجر علاقہ۔
"جو منہائی زمین کی قسم جس پر کچھ محصول نہیں لگتا ان کے نام حسبِ ذیل ہیں: آبادی، کھیڑا، کھنڈدر، جھاڑ، جنگل۔" ( 1846ء، کھیت کرم، 11 )
نوید صادق — جنوری 5، 2010 7:27 شام
اس کھنڈر میں بڑی سہولت ہے
کوئی اس سمت دیکھتا بھی نہیں
(نوید صادق)
بھائی یہ حؤالے جو آپ نے پیش کیے سب نثر سے ہیں۔ اور غالبا" یہ آن لائن اردو ڈکشنری سے لیے گئے ہیں۔
اگر آپ فرہنگِ آصفیہ یا نوراللغات سے استفادہ کریں تو شاید مختلف صورت نکلے۔
میری لغات لاہور پڑی ہیں۔ ورنہ میں دیکھ دیتا۔ ویسے اساتذہ سے یہی سنا اور یوں ہی باندھا۔ اگر مزید کوئی نکتہ سامنے آتا ہے تو بہت اچھا ہو گا۔
نوید صادق — جنوری 5، 2010 7:30 شام
یاد پڑتا ہے کہ میر نے اپنی مثنوی میں یہ لفظ باندھا ہے۔ کلیاتِ میر بھی اس وقت میرے پاس نہیں۔ مغل بھائی ذرا آپ وہاں دیکھیں اور بتائیں کہ میر نے اسے کس وزن پر باندھا ہے۔
محمود احمد غزنوی — جنوری 5، 2010 7:36 شام
ویسے جان کی امان پاؤں تو اپنا یہ خیال عرض کروں۔ ۔ ۔ کھنڈر میں پڑھنے میں مجھے تو نون غنہ محسوس نہیں ہوتا۔ ۔کھن ڈر۔ یہاں تو نون پر ایک نسبتاّ طویل سکتہ سا آتا ہے اور ایک گونج سی پیدا کررہا ہے۔ جلدی جلدی پڑھیں تو بیشک غنہ ہی لگتا ہے۔
ویسے لغت میں تو نون غنہ ہی لکھا ہوا ہے۔:)
نوید صادق — جنوری 5، 2010 7:41 شام
ویسے جان کی امان پاؤں تو اپنا یہ خیال عرض کروں۔ ۔ ۔ کھنڈر میں پڑھنے میں مجھے تو نون غنہ محسوس نہیں ہوتا۔ ۔کھن ڈر۔ یہاں تو نون پر ایک نسبتاّ طویل سکتہ سا آتا ہے اور ایک گونج سی پیدا کررہا ہے۔ جلدی جلدی پڑھیں تو بیشک غنہ ہی لگتا ہے۔
ویسے لغت میں تو نون غنہ ہی لکھا ہوا ہے۔:)

خوب۔۔۔۔۔۔۔۔:)
خرم شہزاد خرم — جنوری 5، 2010 7:43 شام
میں نے ویسے آن لائن دیکھا تھا تو یہی لکھا ہوا تھا اس لیے میں نے شامل کر لیا تھا
خرم شہزاد خرم — جنوری 5، 2010 7:43 شام
لیکن میرے لیے تو آپ حضرات سند ہیں
نوید صادق — جنوری 5، 2010 7:46 شام
میں نے ویسے آن لائن دیکھا تھا تو یہی لکھا ہوا تھا اس لیے میں نے شامل کر لیا تھا

کیا دیکھا تھا، آپ نے؟؟؟
نوید صادق — جنوری 5، 2010 7:48 شام
لیکن میرے لیے تو آپ حضرات سند ہیں

خرم یہ آپ کی غلط فہمی نہیں کم فہمی ہے، میرے بھائی۔ سند بڑی بات ہوتی ہے۔ اور بڑے لوگوں سے آٹی ہے۔
خرم شہزاد خرم — جنوری 5، 2010 8:08 شام
بڑے کے اوپر کوئی بڑا ہوتا ہے اور میرے لیے بڑے آپ سب ہیں جو آپ کے لیے بڑے ہیں وہ آپ سےبڑے ہیں ف
نوید صادق — جنوری 5، 2010 8:18 شام
تو میرا بھائی۔ باز نہیں آئے گا۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D9%88%D8%AA-%DA%A9%D9%88-%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%DB%81-%D8%AF%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%D8%B3-%D9%86%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.27554/