مومن کے مشہور شعر کی تقطیع

محمد امین — جنوری 16، 2009 7:17 شام
مجھے علم نہیں کہ میں صحیح دھاگے میں پوسٹ کر رہا ہوں یا نہیں۔۔ بس لیٹے لیٹے خیال آیا تھا اور پہلی مرتبہ کسی شعر کی تقطیع کرنے کی کوشش کی۔
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا،
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔
تم مرے: فاعلن
پاس ہو: فاعلن
تِ ہو گویا: مفاعیلن
-----------------------
جب کُ ای: فاعلن
دوسرا: فاعلن
نہی ہوتا: مفاعیلن
اعجاز انکل اور وارث بھائی نظر فرمائیے گا، بحر کا نام جاننے کی جستجو ابھی نہیں کی میں نے۔۔ وہ بھی بتا دیجئے گا۔
الف عین — جنوری 17، 2009 6:18 صبح
ایک لحاظ سے غلط تو یہ بھی نہیں ہے!! لیکن فاعلن اور مفاعیلن کا اےفاق سے کوئی جوڑ نہیں ہوتا۔۔
اس کی بحر
ماعلاتن مفاعلن فعلن
ہے
تم مرے پا۔۔ فاعلاتن
س ہوتہو (ہوتے کی ے گرے گی)،، مفاعلن
گویا۔۔ فعلن
مغزل — جنوری 17، 2009 7:55 صبح
بہت شکریہ بابا جانی ۔ امین تمھارا بھی شکریہ
محمد امین — جنوری 17، 2009 8:11 صبح
بہت بہت شکریہ۔ یہ بات سیکھنے کو ملی کہ کوئی کلام مختلف اوزان پر بھی ہوسکتا ہے مگر ضروری نہیں کہ جو وزن ہم سمجھ رہے ہوں وہ مستعمل بھی ہو۔۔۔ :)
خرم شہزاد خرم — جنوری 17، 2009 8:32 صبح
محمد امین بھائی بہت خوب اچھی کوشش ہے اسی طرح کوشش کرتے رہے گے تو کچھ سیکھنے کو ملے گا ورنہ
محمد وارث — جنوری 17، 2009 9:10 صبح
امین صاحب اس خوبصورت بحر کا نام بحرِ خفیف ہے، مزید معلومات کیلیے یہ دو ربط دیکھیے:
ایک خوبصورت بحر - بحرِ خفیف (اس ناچیز کا مضمون)
بحرِ خفیف (اصلاحِ سخن کا موضوع)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%B1-%D8%B4%D8%B9%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D9%82%D8%B7%DB%8C%D8%B9.18327/