مِرے اندر ہی میری ذات سے آگے بہت کچھ ہے

نوید ناظم — اکتوبر 5، 2017 5:44 شام
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوئی ہے مات لیکن مات سے آگے بہت کچھ ہے
یہ تو اک بات ہے اس بات سے آگے بہت کچھ ہے
اگر تم میرے اندر سے گزر پاؤ تو دیکھو گے
مِرے اندر ہی میری ذات سے آگے بہت کچھ ہے
شبِ فرقت سے کوئی بچ نہ پایا آج تک ورنہ
ہمیں لگتا ہے کے اس رات سے آگے بہت کچھ ہے
پریشاں ہو گئے ہو میری آنکھوں کے برسنے سے؟
یہ تو برسات تھی برسات سے آگے بہت کچھ ہے
مِرے حالات سن کر رو پڑے ہو تم، ذرا ٹھہرو!
مجھے کہنے تو دو حالات سے آگے بہت کچھ ہے
اک آدھا جام تو خیرات میں دے دیتا ہے ساقی
قناعت مت کرو خیرات سے آگے بہت کچھ ہے
اُسے جذبات کا اک کھیل لگتی تھی محبت سو
وہ کہہ کر چل دیا "جذبات سے آگے بہت کچھ ہے"
نوید ناظم — اکتوبر 5، 2017 5:47 شام
محترم سر الف عین
عینی مروت — اکتوبر 5، 2017 5:50 شام
اگر تم میرے اندر سے گزر پاؤ تو دیکھو گے
مِرے اندر ہی میری ذات سے آگے بہت کچھ ہے
ک آدھا جام تو خیرات میں دے دیتا ہے ساقی
قناعت مت کرو خیرات سے آگے بہت کچھ ہے
واااہ، بےحد عمدہ۔۔۔
اس بحر میں کلام ویسے بھی بہت لطف دیتا ہے
:)
سید ذیشان حیدر — اکتوبر 6، 2017 2:54 شام
چھا گئے ہیں آپ!
فاخر رضا — اکتوبر 6، 2017 3:42 شام
مِرے اندر ہی میری ذات سے آگے بہت کچھ ہے
زبردست
نوید ناظم — اکتوبر 6، 2017 6:56 شام
واااہ، بےحد عمدہ۔۔۔
اس بحر میں کلام ویسے بھی بہت لطف دیتا ہے
:)
بڑی نوازش۔
نوید ناظم — اکتوبر 6، 2017 6:57 شام
آپ کی محبت!
نوید ناظم — اکتوبر 6، 2017 6:57 شام
مِرے اندر ہی میری ذات سے آگے بہت کچھ ہے
زبردست
شکریہ
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 7، 2017 3:32 صبح
شبِ فرقت سے کوئی بچ نہ پایا آج تک ورنہ
ہمیں لگتا ہے کے اس رات سے آگے بہت کچھ ہے

ہماری صلاح
دوسرے مصرع میں “کے” درست نہیں ، یہاں “کہ” کا محل ہے ۔ صرف ہجے درست کرنے سے مصرع کا وزن بھی متاثر ہوگا۔ اس مصرع کو دوبارہ کہیے۔
جاری
نوید ناظم — اکتوبر 7، 2017 7:13 صبح
ب
ہماری صلاح
دوسرے مصرع میں “کے” درست نہیں ، یہاں “کہ” کا محل ہے ۔ صرف ہجے درست کرنے سے مصرع کا وزن بھی متاثر ہوگا۔ اس مصرع کو دوبارہ کہیے۔
جاری
بہت شکریہ۔۔۔
جی اس کا اندازہ تو ہوا کہ یہاں پر "کہ" ہی کا محل ہے مگر کچھ اشعار نظر سے پہلے گزر چکے تھے جہاں وزن کو درست رکھنے کے لیے " کے" استعمال ہوا تھا۔ کیا شعری ضرورت کے تحت ایسا نہیں کیا جا سکتا؟
مصرع بدل دیا ہے اب اسے دیکھیے گا۔۔۔
شبِ فرقت سے کوئی بچ نہ پایا آج تک ورنہ
ہمیں یوں لگتا ہے اس رات سے آگے بہت کچھ ہے۔
نوید ناظم — اکتوبر 7، 2017 7:15 صبح
؟
الف عین — اکتوبر 7، 2017 11:55 صبح
یہ تو اک بات ہے اس بات سے آگے بہت کچھ ہے
تو کا طویل کھنچنا مجھے پسند نہیں آیا۔ ’یہ بس اک بات‘ بہتر ہو گا
اسی طرح
ہمیں یوں لگتا ہے اس رات سے آگے۔۔۔
اگر یوں ہو تو بہتر ہے
ہمیں لگتا ہے یوں، اس رات سے آگے۔۔۔۔
یہ تو برسات تھی برسات سے آگے بہت کچھ ہے
÷÷اگر یوں ہو
نمونہ تھا یہ، اس برسات سے۔۔۔۔۔
اور
اک آدھا جام تو خیرات میں دے دیتا ہے ساقی
محاورہ ’ایک آدھ‘ ہوتا ہے۔مصرع بدلو۔
نوید ناظم — اکتوبر 7، 2017 4:28 شام
یہ تو اک بات ہے اس بات سے آگے بہت کچھ ہے
تو کا طویل کھنچنا مجھے پسند نہیں آیا۔ ’یہ بس اک بات‘ بہتر ہو گا
اسی طرح
ہمیں یوں لگتا ہے اس رات سے آگے۔۔۔
اگر یوں ہو تو بہتر ہے
ہمیں لگتا ہے یوں، اس رات سے آگے۔۔۔۔
یہ تو برسات تھی برسات سے آگے بہت کچھ ہے
÷÷اگر یوں ہو
نمونہ تھا یہ، اس برسات سے۔۔۔۔۔
اور
اک آدھا جام تو خیرات میں دے دیتا ہے ساقی
محاورہ ’ایک آدھ‘ ہوتا ہے۔مصرع بدلو۔

بہت شکریہ سر۔۔۔
یہ تو اک بات ہے اس بات سے آگے بہت کچھ ہے
تو کا طویل کھنچنا مجھے پسند نہیں آیا۔ ’یہ بس اک بات‘ بہتر ہو گا
جی بہتر۔
اسی طرح
ہمیں یوں لگتا ہے اس رات سے آگے۔۔۔
اگر یوں ہو تو بہتر ہے
ہمیں لگتا ہے یوں، اس رات سے آگے۔۔۔۔
سر اسے یوں کر دوں؟
ہمیں لگتا تو ہے اس رات سے آگے بہت کچھ ہے
÷÷اگر یوں ہو
نمونہ تھا یہ، اس برسات سے۔۔۔۔۔
جی ٹھیک۔
اور
اک آدھا جام تو خیرات میں دے دیتا ہے ساقی
محاورہ ’ایک آدھ‘ ہوتا ہے۔مصرع بدلو۔
ایسے کر دیا ہے سر۔۔۔
ارے اک جام تو ساقی یونہی خیرات میں دے گا
مگر مت بھولنا خیرات سے آگے بہت کچھ ہے
الف عین — اکتوبر 8، 2017 5:22 شام
درست ہیں تمہارے مجوزہ مصرعے بھی÷ ماشاء اللہ اچھی غزل ہو گئی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D9%90%D8%B1%DB%92-%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%B1-%DB%81%DB%8C-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%B0%D8%A7%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%D8%A2%DA%AF%DB%92-%D8%A8%DB%81%D8%AA-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%DB%81%DB%92.98550/