مِرے پاس اب ان کہی کچھ نہیں (فعولن فعولن فعولن فعل)

نوید ناظم — مئی 11، 2017 8:52 صبح
اگر لاکھ ہو دلکشی کچھ نہیں
بِنا آپ کے زندگی کچھ نہیں
ہم اُن کی گلی میں بھلا کیوں گئے
ارے بات یہ ہے کہ جی' کچھ نہیں!
اگر دل میں کچھ ہو توہو آپ کے
لبوں پر تو ہے پھر وہی '' کچھ نہیں''
بتنگڑ بنانا تھا بس غیر کو
اجی اصل میں بات تھی کچھ نہیں
مِرا غم تو لفظوں میں ڈھل بھی گیا
مِرے پاس اب ان کہی کچھ نہیں
تمھیں رات گمراہ جو کر گئی
تمھارے لیے روشنی کچھ نہیں
مِری بات کو وقت خود کھولے گا
ابھی چپ رہوں گا، ابھی کچھ نہیں
اُسے دیکھ کر ہوں خود اپنا رقیب
مِری خود سے بھی دوستی کچھ نہیں
اگر کچھ بچا ہو تو کہہ لیجئے
کسر خیر باقی رہی کچھ نہیں
نوید ناظم — مئی 11، 2017 8:54 صبح
محترم سر الف عین
دیگر اساتذہءِ کرام
محمد تابش صدیقی — مئی 11، 2017 8:55 صبح
بہت عمدہ نوید بھائی۔
ایک مشورہ ہے
مِری بات کو وقت خود کھولے گا
اگر یوں ہو جائے؟
مری بات خود وقت ہی کھولے گا
نوید ناظم — مئی 11، 2017 9:00 صبح
بہت عمدہ نوید بھائی۔
ایک مشورہ ہے
اگر یوں ہو جائے؟
مری بات خود وقت ہی کھولے گا
مشورہ خوب ہے آپ کا۔۔۔ اس میں '' کھولے'' کا ''ے'' گرایا جا رہا ہے' پچھلا تجربہ یہ رہا کہ اساتذہ نے ''ے'' کا اس طرح دبنا پسند نہیں کیا' اس لیے متبادل میں خائف رہا ہوں۔ اس بارے محمد ریحان قریشی بھائی کیا کہتے ہیں پتہ نہیں۔
محمد تابش صدیقی — مئی 11، 2017 9:04 صبح
مشورہ خوب ہے آپ کا۔۔۔ اس میں '' کھولے'' کا ''ے'' گرایا جا رہا ہے' پچھلا تجربہ یہ رہا کہ اساتذہ نے ''ے'' کا اس طرح دبنا پسند نہیں کیا' اس لیے متبادل میں خائف رہا ہوں۔ اس بارے محمد ریحان قریشی بھائی کیا کہتے ہیں پتہ نہیں۔
ے تو آپ کے مصرع میں بھی گرا ہوا ہے۔ :)
کھلے گی مری بات خود وقت پر
نوید ناظم — مئی 11، 2017 9:10 صبح
اوہ ہو' ابھی دیکھا میں نے بھی۔۔۔۔۔ آپ والا مصرع زبردست ہے اگر ''ے'' کا دبنا ٹھیک ہے تو ورنہ تو کچھ اور لانا پڑے گا۔۔۔۔ محمد ریحان قریشی بھائی رہنمائی فرمائیں
نوید ناظم — مئی 11، 2017 9:13 صبح
ے تو آپ کے مصرع میں بھی گرا ہوا ہے۔ :)
کھلے گی مری بات خود وقت پر
بات بن گئی۔۔۔۔خوبصورت مصرع عطا کیا آپ نے۔۔۔۔بہت شکریہ :)
محمد ریحان قریشی — مئی 11، 2017 9:18 صبح
اوہ ہو' ابھی دیکھا میں نے بھی۔۔۔۔۔ آپ والا مصرع زبردست ہے اگر ''ے'' کا دبنا ٹھیک ہے تو ورنہ تو کچھ اور لانا پڑے گا۔۔۔۔ محمد ریحان قریشی بھائی رہنمائی فرمائیں
دبایا تو جا سکتا ہے۔ اقبال کا مصرع ہے
دفعِ مرض کے واسطے پِل پیش کیجیے​
مگر اس سے روانی مجروح ہوتی ہے۔
الف عین — مئی 16، 2017 10:45 صبح
بات کا بتنگڑ بنایا جاتا ہے، غیر کو بتنگڑ کس طرح بناتے ہیں؟
نوید ناظم — مئی 16، 2017 4:29 شام
بات کا بتنگڑ بنایا جاتا ہے، غیر کو بتنگڑ کس طرح بناتے ہیں؟
بہت شکریہ سر، شکر ہے ہماری دعائیں رنگ لائیں اور آپ تشریف لے آئے۔:)
سر یہاں پر مراد یہ تھا کہ "
بتنگڑ بنانا تھا بس غیر نے
اجی اصل میں بات تھی کچھ نہیں
آپ نے فرما رکھا ہے کہ "نے" پنجابی ہے اس لیے "غیر کو" لکھا۔۔۔۔ بتنگڑ کا تعلق تو بات ہی سے تھا جو دوسرے مصرع میں موجود ہے۔ آپ ہی کچھ حکم فرما دیں۔۔۔۔
عاطف ملک — مئی 16، 2017 5:58 شام
اگر دل میں کچھ ہو توہو آپ کے
لبوں پر تو ہے پھر وہی '' کچھ نہیں''
ارے واہ۔۔۔۔۔مجھے تو بہت ہی پسند آیا
گر کچھ بچا ہو تو کہہ لیجئے
کسر خیر باقی رہی کچھ نہیں
یہ بھی خوبصورت ہے۔
بہت عمدہ غزل ہے۔
ڈھیر ساری داد۔
بہت شکریہ سر، شکر ہے ہماری دعائیں رنگ لائیں اور آپ تشریف لے آئے۔:)
سر یہاں پر مراد یہ تھا کہ "
بتنگڑ بنانا تھا بس غیر نے
اجی اصل میں بات تھی کچھ نہیں
آپ نے فرما رکھا ہے کہ "نے" پنجابی ہے اس لیے "غیر کو" لکھا۔۔۔۔ بتنگڑ کا تعلق تو بات ہی سے تھا جو دوسرے مصرع میں موجود ہے۔ آپ ہی کچھ حکم فرما دیں۔۔۔۔
نوید بھائی جہاں تک مجھے سمجھ آئی ہے
یہاں "غیر نے" بہتر معلوم ہوتا ہے "غیر کو" کی نسبت۔۔۔۔۔
"غیر کو" پڑھنے پر عام تاثر یہی ہوتا ہے جو استادِ محترم نے فرمایا کہ غیر کو بتنگڑ بنانے کا ذکر ہے۔
اس کے علاوہ میری رائے میں روانی بہتر بنائی جا سکتی ہے اس غزل کی۔
ایک بار غور کر لیجیے۔
فقط ذاتی رائے۔
سلامت رہیں۔
الف عین — مئی 17، 2017 12:01 شام
اوہو، مراد ’غیر کے ذریعے بات کا بتنگڑ بنایا جانا تھا۔ لیکن الفاظ سے یہ ظاہر نہیں ہوا۔ الفاظ بدل کر کوشش کریں
نوید ناظم — مئی 17، 2017 5:29 شام
اوہو، مراد ’غیر کے ذریعے بات کا بتنگڑ بنایا جانا تھا۔ لیکن الفاظ سے یہ ظاہر نہیں ہوا۔ الفاظ بدل کر کوشش کریں
بہت شکریہ سر۔۔۔
مصرع بدل دیا، اب شعر یوں ہو گیا ہے۔۔۔۔
رقیب آ کے الجھا گیا بات کو
اجی اصل میں بات تھی کچھ نہیں
نوید ناظم — مئی 17، 2017 6:00 شام
ارے واہ۔۔۔۔۔مجھے تو بہت ہی پسند آیا
یہ بھی خوبصورت ہے۔
بہت عمدہ غزل ہے۔
ڈھیر ساری داد۔
نوید بھائی جہاں تک مجھے سمجھ آئی ہے
یہاں "غیر نے" بہتر معلوم ہوتا ہے "غیر کو" کی نسبت۔۔۔۔۔
"غیر کو" پڑھنے پر عام تاثر یہی ہوتا ہے جو استادِ محترم نے فرمایا کہ غیر کو بتنگڑ بنانے کا ذکر ہے۔
اس کے علاوہ میری رائے میں روانی بہتر بنائی جا سکتی ہے اس غزل کی۔
ایک بار غور کر لیجیے۔
فقط ذاتی رائے۔
سلامت رہیں۔
تعریف اور رائے، دونوں کے لیے ممںون ہوں عاطف بھائی!
امجد علی راجا — مئی 18، 2017 8:49 صبح
اگر لاکھ ہو دلکشی کچھ نہیں
بِنا آپ کے زندگی کچھ نہیں
ہم اُن کی گلی میں بھلا کیوں گئے
ارے بات یہ ہے کہ جی' کچھ نہیں!
اگر دل میں کچھ ہو توہو آپ کے
لبوں پر تو ہے پھر وہی '' کچھ نہیں''
بتنگڑ بنانا تھا بس غیر کو
اجی اصل میں بات تھی کچھ نہیں
مِرا غم تو لفظوں میں ڈھل بھی گیا
مِرے پاس اب ان کہی کچھ نہیں
تمھیں رات گمراہ جو کر گئی
تمھارے لیے روشنی کچھ نہیں
مِری بات کو وقت خود کھولے گا
ابھی چپ رہوں گا، ابھی کچھ نہیں
اُسے دیکھ کر ہوں خود اپنا رقیب
مِری خود سے بھی دوستی کچھ نہیں
اگر کچھ بچا ہو تو کہہ لیجئے
کسر خیر باقی رہی کچھ نہیں
بہت خوب، داد قبول فرمائیں
اکمل زیدی — مئی 18، 2017 10:55 صبح
عمدہ نثر کیبعد ۔۔۔غزل بھی بہترین۔ ۔
نوید ناظم — مئی 18، 2017 2:04 شام
بہت خوب، داد قبول فرمائیں
آپ کی اعلیٰ ظرفی نے میرا بھرم رکھ لیا' بہت شکریہ !!
نوید ناظم — مئی 18، 2017 2:05 شام
عمدہ نثر کیبعد ۔۔۔غزل بھی بہترین۔ ۔
یہ آپ کی محبت۔۔۔۔ ممنون ہوں!
امجد علی راجا — مئی 18، 2017 7:49 شام
آپ کی اعلیٰ ظرفی نے میرا بھرم رکھ لیا' بہت شکریہ !!
اعلیٰ ظرفی نہیں بھیا حسنِ نظر، آپ کی تخلیق ہی ایسی ہے جس نے دل کو فریفتہ کر دیا۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D9%90%D8%B1%DB%92-%D9%BE%D8%A7%D8%B3-%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%81%DB%8C-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%84.96371/