شاعر ہوں ناکام، مگر میں لکھتا ہوں
شاعر ہوں ناکام، مگر میں لکھتا ہوں
کیسے ہوں آلام، مگر میں لکھتا ہوں
مشکل ہے یہ کام، مجھے پر لکھنا ہے
کچھ بھی ہو انجام، مجھے پر لکھنا ہے
ہو جاؤں بدنام، مجھے پر لکھنا ہے
مچ جائے کہرام، مگر میں لکھتا ہوں
شاعر ہوں ناکام، مگر میں لکھتا ہوں
تیری، میری، اسکی، اُسکی سب کی باتیں
چھوٹے چھوٹے لوگوں کی اور رب کی باتیں
آیا ہے اب آئے گا جو تب کی باتیں
ملتی ہیں دشنام، مگر میں لکھتا ہوں
شاعر ہوں ناکام، مگر میں لکھتا ہوں
میری نظموں میری غزلوں میں شہزادہ کوئی نہیں
پریاں حوریں شامل کر لوں، ایسا ارادہ کوئی نہیں
سیدھے سادے تُم ہو، میں ہوں اور آمادہ کوئی نہیں
ملتے ہیں پیغام، مگر میں لکھتا ہوں
شاعر ہوں ناکام، مگر میں لکھتا ہوں
شاعر ہوں ناکام، مگر میں لکھتا ہوں
بس کا نہیں ہے کام، مگر میں لکھتا ہوں
عشق کے قصے ، پیار کی باتیں ساری میں
ہو جاؤں بدنام ، مگر میں لکھتا ہوں
حاکم اور حکومت کی چالاکی سب
مشکل ہے یہ کام، مگر میں لکھتا ہوں
تھوڑی مجھ کو راحت کی تمنا بھی ہو
چھوڑ کے سب آرام، مگر میں لکھتا ہوں
اپنوں اور پرائیوں کی تحریروں میں
ہوتی ہے دشنام، مگر میں لکھتا ہوں
مار ہی ڈالیں گے تُجھ کو، باز آ جاؤ
ملتے ہیں پیغام، مگر میں لکھتا ہوں
چپ رہتے ہو اظہر سُن کر بھی سب کچھ
ہاتھ میں لے کے جام، مگر میں لکھتا ہوں