"کڑی ہے دھوپ، سایہ بھی نہیں ہے" اساتذہ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے، شکریہ :)

محسن احمد محسن — اپریل 29، 2017 6:54 شام
کڑی ہے دھوپ، سایہ بھی نہیں ہے
کہیں پہ سر چھپایا بھی نہیں ہے
-
لگی ہے تو جلا ہے آشیانہ
لگی کو پھر بجھایا بھی نہیں ہے
-
پرندہ آسماں کو چھُو رہا ہے
ابھی میں نے اڑایا بھی نہیں ہے
-
رقیبوں کو کہانی تک سنائی
ہمیں تو کچھ بتایا بھی نہیں ہے
-
سنا ہے راگِ ہستی جس کسی نے
اسے پھر ہوش آیا بھی نہیں ہے
-
مرا دامن کہ خالی ہو گیا ہے
اگر چہ کچھ لٹایا بھی نہیں ہے
-
یہ مستی بزمِ حیراں کی عجب ہے
کسی کو کچھ پلایا بھی نہیں ہے
-
نہیں ہے خاک بینی سود آور
سفر ہم نے گنوایا بھی نہیں ہے
-
ہوا ہے قتل نظروں سے تری جو
لہو اُس نے بہایا بھی نہیں ہے
-
چراغاں ہو گیا ہے آج محسؔن
ابھی پردہ ہٹایا بھی نہیں ہے
-
محسؔن احمد
محمد ریحان قریشی — اپریل 29، 2017 7:00 شام
خوب ہے جناب۔
سنا ہے راگِ ہستی جس کسی نے
راگِ ہستی کی ترکیب درست نہیں۔ راگ سنسکرت سے ماخوذ لفظ ہے اسے فارسی اضافت کے ساتھ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
یہ مستی بزمِ حیراں کی عجب ہے
بزمِ حیراں سمجھ نہیں آیا۔
نہیں ہے خاک بینی سود آور
نہیں گر خاک بینی سود آور
شاید بہتر رہے۔
محسن احمد محسن — اپریل 29، 2017 7:07 شام
راگِ ہستی کی ترکیب درست نہیں۔ راگ سنسکرت سے ماخوذ لفظ ہے اسے فارسی اضافت کے ساتھ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

سازِ ہستی کیسا رہے گا ؟
سنا ہے سازِ ہستی جس کسی نے
اُسے پھر ہوش آیا بھی نہیں ہے
محسن احمد محسن — اپریل 29، 2017 7:09 شام
نہیں گر خاک بینی سود آور

بہترین ہے سر
محمد ریحان قریشی — اپریل 29، 2017 7:11 شام
سازِ ہستی کیسا رہے گا ؟
سنا ہے سازِ ہستی جس کسی نے
اُسے پھر ہوش آیا بھی نہیں ہے
یہ چل سکتا ہے گو کہ نغمۂ ہستی بہترین ہوتا مگر بحر اس کی اجازت نہیں دیتی۔
محسن احمد محسن — اپریل 29، 2017 7:12 شام
بزمِ حیراں سمجھ نہیں آیا۔
میں اسے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
محسن احمد محسن — اپریل 29، 2017 7:31 شام
بزمِ حیراں سمجھ نہیں آیا۔
کچھ خاص آمد نہیں ہو رہی۔ یہ دیکھیے
یہ مستی بزمِ رنداں کی عجب ہے
کسی کو کچھ پلایا بھی نہیں ہے
یا
ترے آنے پہ جھومے جا رہے ہیں
ابھی تُو نے پلایا بھی نہیں ہے
محمد ریحان قریشی — اپریل 29، 2017 7:39 شام
کچھ خاص آمد نہیں ہو رہی۔ یہ دیکھیے
یہ مستی بزمِ رنداں کی عجب ہے
کسی کو کچھ پلایا بھی نہیں ہے
یا
ترے آنے پہ جھومے جا رہے ہیں
ابھی تُو نے پلایا بھی نہیں ہے
دوسرا شعر بہترین ہے۔
محسن احمد محسن — اپریل 29، 2017 7:43 شام
دوسرا شعر بہترین ہے۔

شکریہ سر۔ جن جن باتوں کی آپ نے نشاندہی کی اُن کے بعد غزل کا روپ کچھ ایسا نکلا ہے۔
کڑی ہے دھوپ، سایہ بھی نہیں ہے
کہیں پہ سر چھپایا بھی نہیں ہے
-
لگی ہے تو جلا ہے آشیانہ
لگی کو پھر بجھایا بھی نہیں ہے
-
پرندہ آسماں کو چھُو رہا ہے
ابھی میں نے اڑایا بھی نہیں ہے
-
رقیبوں کو کہانی تک سنائی
ہمیں تو کچھ بتایا بھی نہیں ہے
-
سنا ہے سازِ ہستی جس کسی نے
اسے پھر ہوش آیا بھی نہیں ہے
-
مرا دامن کہ خالی ہو گیا ہے
اگر چہ کچھ لٹایا بھی نہیں ہے
-
ترے آنے پہ جھومے جا رہے ہیں
ابھی تُو نے پلایا بھی نہیں ہے
-
نہیں گر خاک بینی سود آور
سفر ہم نے گنوایا بھی نہیں ہے
-
ہوا ہے قتل نظروں سے تری جو
لہو اُس نے بہایا بھی نہیں ہے
-
چراغاں ہو گیا ہے آج محسؔن
ابھی پردہ ہٹایا بھی نہیں ہے
-
محسؔن احمد​
محسن احمد محسن — اپریل 29، 2017 7:43 شام
دوسرا شعر بہترین ہے۔

شکریہ سر۔ جن جن باتوں کی آپ نے نشاندہی کی اُن کے بعد غزل کا روپ کچھ ایسا نکلا ہے۔
کڑی ہے دھوپ، سایہ بھی نہیں ہے
کہیں پہ سر چھپایا بھی نہیں ہے
-
لگی ہے تو جلا ہے آشیانہ
لگی کو پھر بجھایا بھی نہیں ہے
-
پرندہ آسماں کو چھُو رہا ہے
ابھی میں نے اڑایا بھی نہیں ہے
-
رقیبوں کو کہانی تک سنائی
ہمیں تو کچھ بتایا بھی نہیں ہے
-
سنا ہے سازِ ہستی جس کسی نے
اسے پھر ہوش آیا بھی نہیں ہے
-
مرا دامن کہ خالی ہو گیا ہے
اگر چہ کچھ لٹایا بھی نہیں ہے
-
ترے آنے پہ جھومے جا رہے ہیں
ابھی تُو نے پلایا بھی نہیں ہے
-
نہیں گر خاک بینی سود آور
سفر ہم نے گنوایا بھی نہیں ہے
-
ہوا ہے قتل نظروں سے تری جو
لہو اُس نے بہایا بھی نہیں ہے
-
چراغاں ہو گیا ہے آج محسؔن
ابھی پردہ ہٹایا بھی نہیں ہے
-
محسؔن احمد​
نوید ناظم — اپریل 29، 2017 7:58 شام
واہ۔۔۔۔خوب غزل کہی آپ نے!!
محسن احمد محسن — اپریل 29، 2017 8:12 شام
واہ۔۔۔۔خوب غزل کہی آپ نے!!

بے حد شکریہ :)
الف عین — اپریل 30، 2017 5:52 صبح
ماشاء اللہ۔ اچھی غزل ہو گئی ہے۔
بس اک بات۔ ردیف میں بھی ’ہے‘ شامل ہے تو جن پہلے مصرعوں میں بھی ’ہے‘ ہے، ان کو بدل دیں تو بہتر ہو۔
جیسے
پرندہ آسماں کو چھُو رہا ہے
کو
پرندہ چھُو رہا ہے آسماں کو
مرا دامن کہ خالی ہو گیا ہے
کو
تہی دامن میں پھر سے ہو گیا ہوں
محسن احمد محسن — اپریل 30، 2017 11:18 صبح
ماشاء اللہ۔ اچھی غزل ہو گئی ہے۔
بس اک بات۔ ردیف میں بھی ’ہے‘ شامل ہے تو جن پہلے مصرعوں میں بھی ’ہے‘ ہے، ان کو بدل دیں تو بہتر ہو۔
جیسے
پرندہ آسماں کو چھُو رہا ہے
کو
پرندہ چھُو رہا ہے آسماں کو
مرا دامن کہ خالی ہو گیا ہے
کو
تہی دامن میں پھر سے ہو گیا ہوں

سر بس آپ ہی کا انتظار تھا مجھے۔ آپ نے کہا، سو بدل دیا۔ بے حد شکریہ، سلامت رہیں :) :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%DA%A9%DA%91%DB%8C-%DB%81%DB%92-%D8%AF%DA%BE%D9%88%D9%BE%D8%8C-%D8%B3%D8%A7%DB%8C%DB%81-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92-%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D8%B0%DB%81-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%B1%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA-%DB%81%DB%92%D8%8C-%D8%B4%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DB%81.96096/