اردو نثر پارے

کاشفی — مئی 20، 2010 10:58 شام
خدا کا کچھ خوف کریں کاشفی آپ کا پکا پروگرام بن رہا ھے اپنی ٹھکائی کرانے کا:mad:

اوکے کچھ نہیں کہہ رہا اب میں۔۔
کاشفی — اگست 10، 2010 12:31 شام
خدا کا نوشتہ
خدا نے لکھ دیا ہے
اُس پھولو ں پر جو ہوا کو خوشبو کی دلاویزی دیتا ہے
اُس باد سحر پر جو پھولوں کی لدی ہوئی شاخ کو ٹہوکے دیتی ہے
اُس قطرہء باراں پر جو سیپ کے سینے پر مچل کر موتی بنتا ہے
اُس گوہر شبنم پر جو گھاس کی پتی پر تھرکتا ہے
اُس چادرِ آب پر جو شعاع کی جھلمل جھلمل سے چمکتی ہے
اُس باسی ہار پر جو شبِ عشرت کی یادگار بننے کے لیئے اپنی بہار کھوتا ہے
اس شعاعِ آفتاب پر جو غریب کی کٹیا اور امیر کے دو محلے کو یکساں نوازتی ہے
خدا نے ان سب پر لکھ دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔خدا نے ان سب لکھ دیا ہے۔۔۔۔یہی کہ۔۔
“اس دنیا میں کوئی شخص صرف اپنی لئے زندہ نہیں رہ سکتا“
کاشفی — فروری 28، 2012 7:11 شام
عورت:
"عورت نشہ ہے، فریب ہے، سراب ہے، رسوائی ہے اور وہ سب کچھ ہے جو انسان کو بدی کی طرف راغب کرتا ہے۔ عورت پاکیزگی ہے، عصمت ہے، سراپا تقدیس ہے اور سب کچھ ہے جو انسان کو انسانیت کے معراجِ کمال پر لے جاتا ہے۔ جس آسانی سے یہ ایمان کو غارت کرسکتی ہے اُسی آسانی سے یہ اُسے عطا بھی کرسکتی ہے۔۔"
(اقتباس: گومی اور پنڈت از کرشن چندر)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D9%86%D8%AB%D8%B1-%D9%BE%D8%A7%D8%B1%DB%92.29909/page-2