تیسری جنس۔ چودھری محمد ردولوی

فاتح — اپریل 17، 2013 12:08 صبح
واہ واہ کیا خوبصورت تحریر ہے۔ لطف آ گیا
سید شہزاد ناصر — اپریل 17، 2013 4:31 صبح
محمد خلیل الرحمٰن بھائی جی اک نظر کرم ادھر بھی کریں
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 17، 2013 4:54 صبح
غضب کی تحریر ہے جناب۔ بہت شکریہ ٹیگ کرنے کا۔ اف فوہ! چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔ پڑھنا شروع کیا تو وقت کی کمی کے باوجود ) کہ دفتر کو دیر ہوتی تھی) چھوڑا نہ گیا۔ کیا چیز پڑھوادی ہے سید شہزاد ناصر بھائی۔
سید شہزاد ناصر — اپریل 17، 2013 4:56 صبح
غضب کی تحریر ہے جناب۔ بہت شکریہ ٹیگ کرنے کا۔ اف فوہ! چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔ پڑھنا شروع کیا تو وقت کی کمی کے باوجود ) کہ دفتر کو دیر ہوتی تھی) چھوڑا نہ گیا۔ کیا چیز پڑھوادی ہے سید شہزاد ناصر بھائی۔
ہاہاہا
جناب ہمارا تو وہی حساب ہے
اس محفل کیف و مستی میں ، اس انجمن عرفانی میں
سب ہی جام بکف بیٹھے رہے، ہم پی بھی گئے چھلکا بھی گئے
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 17، 2013 4:57 صبح
ہاہاہا
جناب ہمارا تو وہی حساب ہے
اس محفل کیف و مستی میں ، اس انجمن عرفانی میں
سب ہی جام بکف بیٹے رہے، ہم پی بھی گئے چھلکا بھی گئے
خوش رہیے !
سید شہزاد ناصر — اپریل 17، 2013 4:57 صبح
غضب کی تحریر ہے جناب۔ بہت شکریہ ٹیگ کرنے کا۔ اف فوہ! چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔ پڑھنا شروع کیا تو وقت کی کمی کے باوجود ) کہ دفتر کو دیر ہوتی تھی) چھوڑا نہ گیا۔ کیا چیز پڑھوادی ہے سید شہزاد ناصر بھائی۔
آپ کا یہ تبصرہ سب تبصروں پر بھاری ہے جناب محمد خلیل الرحمٰن بھائی جی :)
سید شہزاد ناصر — اپریل 17، 2013 5:08 صبح
میرا تو خیال ہے کہ ان کی دستیابی کی جگہ پرانی کتابوں کے بک سٹال ہی ہیں (خصوصی توجہ برائے @راشداشرف صاحب) ۔ کیونکہ آؤٹ آف پرنٹ ہونے کی بنا پر عام کتابوں کی دکانوں سے تو ملنے سے رہیں۔
آپ نے بالکل ٹھیک کہا یہ انارکلی کی کسی پرانی کتابوں کی دوکان سے ہی ملے گی
سید شہزاد ناصر — اپریل 17، 2013 5:10 صبح
رودلوی کی کچھ تحاریر ضیاء محی الدین کے کسی پروگرام میں سنیں تھیں۔ اور تب ہی بہت پسند آئی تھیں۔ شہزاد ناصر جی آپ کی وساطت سے ایک عمدہ تحریر پڑھنے کو ملی۔ بلاشبہ یہ تحاریر اردو ادب کا شاہ کار ہیں۔​
آپ کا شکریہ​
آپ نے درست فرمایا
ضیاء محی الدین نے چوہدری صاحب کے خطوط تحت الفظ میں پڑھے ہیں اور وہ انٹرنیٹ پر دستیاب بھی ہیں
سید شہزاد ناصر — اپریل 17، 2013 5:11 صبح
کیا کہنے جناب
ڈھونڈی ہے یونہی شوق نے آسائشِ منزل
رخسار کے خم میں کبھی کاکل کی شکن میں
سید شہزاد ناصر — اپریل 17، 2013 5:13 صبح
واہ واہ کیا خوبصورت تحریر ہے۔ لطف آ گیا
قدر افزائی کا شکریہ جناب
شاد و آباد رہیں
باباجی — اپریل 17، 2013 6:07 صبح
واہ شاہ جی کیا خوب کلاسیک ادب کا شاہکار ڈھونڈا ہے آپ نے
خوبصورت اسلوب و استعارات
خاص طور سے اس جملہ میں پوری تحریر کا مزہ سما گیا
"لیکن اگر غور کیجیے تو پیر بھی ایک طرح کا شوہر ہی ہوتا ہے جس پر مرید اسی طرح تکیہ کرتا ہے جیسے عورت مرد پر
سید شہزاد ناصر — اپریل 17، 2013 6:26 صبح
واہ شاہ جی کیا خوب کلاسیک ادب کا شاہکار ڈھونڈا ہے آپ نے
خوبصورت اسلوب و استعارات
خاص طور سے اس جملہ میں پوری تحریر کا مزہ سما گیا
"لیکن اگر غور کیجیے تو پیر بھی ایک طرح کا شوہر ہی ہوتا ہے جس پر مرید اسی طرح تکیہ کرتا ہے جیسے عورت مرد پر
آپ کی محبت کا شکریہ
شاد و آباد رہیں
یوسف-2 — اپریل 17، 2013 7:02 صبح
چودھری محمد ردولوی کی یہ تحریر منٹو، عصمت اینڈ کمپنی کی ”بہترین نقالی“ سے کسی قدر بھی کم نہیں :D ۔ اس گروپ کے ادیبوں کا ”مشن“ ہی یہ ہے کہ اخلاقیات کی چادراور چہار دیواری کے اندر موجود جنس، جنسی بھوک اور جنسی عدم توازن کو بے رحم لفظوں کے نشتر سے تار تار کرکے سماج کے گلی کوچوں اس طرح میں پھیلا دو کہ شرفاء کی پڑھی لکھی بہو بیٹیاں بھی تیزی سے اس آلودگی سے ”متاثر“ ہوتی چلی جائیں اور ان نام نہاد ادیبوں کے ”قلم اور پیٹ کی بھوک“ مٹانے کا مستقل ”وسیلہ “ بن سکیں۔ :eek:
سید شہزاد ناصر — اپریل 17، 2013 7:07 صبح
اپنی اپنی رائے اور اپنا اپنا نکتہ نظر ہوتا ہے :)
ہر کسی کو اپنے نکتہ نظر کے مطابق رائے دینے کی آزادی ہے
راشد اشرف — اپریل 17، 2013 10:50 صبح
بہت شکریہ جناب
راشد اشرف — اپریل 17، 2013 10:50 صبح
بہت شکریہ جناب
اوشو — اپریل 17، 2013 11:49 صبح
چودھری محمد ردولوی کی یہ تحریر منٹو، عصمت اینڈ کمپنی کی ”بہترین نقالی“ سے کسی قدر بھی کم نہیں :D ۔ اس گروپ کے ادیبوں کا ”مشن“ ہی یہ ہے کہ اخلاقیات کی چادراور چہار دیواری کے اندر موجود جنس، جنسی بھوک اور جنسی عدم توازن کو بے رحم لفظوں کے نشتر سے تار تار کرکے سماج کے گلی کوچوں اس طرح میں پھیلا دو کہ شرفاء کی پڑھی لکھی بہو بیٹیاں بھی تیزی سے اس آلودگی سے ”متاثر“ ہوتی چلی جائیں اور ان نام نہاد ادیبوں کے ”قلم اور پیٹ کی بھوک“ مٹانے کا مستقل ”وسیلہ “ بن سکیں۔ :eek:
آپ کو یہ سب کیسے پتا چلا :confused:
یوسف-2 — اپریل 17، 2013 12:08 شام
آپ کو یہ سب کیسے پتا چلا :confused:
جی یہ خاکسار ادب کا ایک ادنیٰ طالب علم ہے۔ مختلف اقسام کے ادباء کی تحریروں، ان کی سوانح حیات پڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کی ”حرکتوں“ سے بھی واقفیت ہے، اس لئے :p
اوشو — اپریل 17، 2013 1:20 شام
جی یہ خاکسار ادب کا ایک ادنیٰ طالب علم ہے۔ مختلف اقسام کے ادباء کی تحریروں، ان کی سوانح حیات پڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کی ”حرکتوں“ سے بھی واقفیت ہے، اس لئے :p
یعنی آپ منٹو ، عصمت، رحمان مذنب وغیرہ کے لکھے کو بھی "ادب" مانتے ہیں۔ پھر ان پر تنقید بےادبی نہ ہوئی :rolleyes:
یوسف-2 — اپریل 18، 2013 5:46 صبح
یعنی آپ منٹو ، عصمت، رحمان مذنب وغیرہ کے لکھے کو بھی "ادب" مانتے ہیں۔ پھر ان پر تنقید بےادبی نہ ہوئی :rolleyes:
جتنی ”بے ادبی“ اس قسم (یا اس قماش :mrgreen: ) کے (نام نہاد) ادیبوں نے ”ادب“ کے نام پر تحریر کی ہے، اتنی تو ”غیر ادبی“ (تواریخ، سائنس، طب، نفسیات، ادیان وغیرہ جیسے شعبہ حیات کے) لکھاریوں نے مل کر بھی نہیں لکھی ہوگی۔ :p

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%DB%8C-%D8%AC%D9%86%D8%B3%DB%94-%DA%86%D9%88%D8%AF%DA%BE%D8%B1%DB%8C-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%84%D9%88%DB%8C.62641/page-2