خوب کہا زونی لیکن بانو قدسیہ اور غالب کا کوئی موازنہ ہی نہیں - بانو قدسیہ نے جن معاشرتی مسائل کو سمجھانے کے لئے افسانے، ناول، اور ڈرامے لکھ مارے ہیں - غالب نے اپنے اشعار میں ان مسائل کی بہت خوبصورتی سے وضاحت کی ہے - غالب کے چند اشعار ہی بانو قدسیہ کے تمام کام پر بھاری ہیں- اسی لئے میرا نثر سے رابطہ کچھ کٹ گیا ہے - کیونکہ نثر میں بہت لمبی لمبی تحریریں لکھنی پڑتی ہیں جبکہ نظم میں چند اشعار میں ہی ان مسائل پر بات کی جا سکتی ہے بہر حال اس سے نثر کی اہمیت کم نہیں ہوتی- یہ میری اپنی رائے ہے اس سے کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں -
راجہ گدھ ایسا ناول ہے کہ جو بھی اسے پڑھتا ہے وہ اکثر اسکے سحر میں مبتلا ہو جاتا ہے اور بہت عرصے تک مبتلا رہتا ہے - چاہے وہ زبان سے اسکا اظہار کرے یا نہ کرے - میں نے راجہ گدھ شاید 2 یا تین مرتبہ پڑھا ہے - پہلی بار تب پڑھا تھا جب میں کالج میں سالِ اوّل کا طالب علم تھا - راجہ گدھ پڑھنے کے بعد کچھ ایسا سحر میں گرفتار ہوا کہ جب بھی لارنس گارڈن (جناح باغ) جاتا تو بابا ترت مراد کے مزار پر بھی جاتا اور سوچتا کہ سیمی اور قیوم کہاں بیٹھتے ہوں گے وغیرہ وغیرہ - لیکن پھر کچھ سال بعد چیزیں زیادہ بہتر نظر آنے لگیں - میں نے شاید بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کا کوئی ڈرامہ ایسا نہیں ہوگا جو میں نے نہ دیکھا ہو - خیر اصل میں بانو قدسیہ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کچھ نظریات کو پہلے سے صحیح مان کر کہانی یا ناول لکھتی ہیں جسے انگریزی میں (pre supposition ) کہا جاتا ہے اور اسی فلسفلے یا نظریے کو بنیاد بنا کر وہ افسانہ، کہانی یا ناول لکھتی ہیں یعنی بنیادی طور پر وہ اپنی ہر تحریر میں ایک مخصوص نظریے کی تبلیغ کر رہی ہوتی ہیں جسکے نتیجے میں وہ تحریر تخلیقی نہیں بلکہ کسی حد تک پروپگنڈہ بن جاتا ہے -
بانو قدسیہ کا یہی ایک مسئلہ ہے جسکی وجہ سے وہ بہت پائے کی ادیب نہیں بن سکیں ورنہ انکے فقرے بہت کاٹ دار ہوتے ہیں لیکن مجموعی طور پر انکی تحریر میں کوئی خاص بات یا تخلیقی ہنر نظر نہیں آتا - پورے راجہ گدھ میں ایک چھوٹے سے نظریے کو اتنا طول دیا ہے یعنی "حرام کھانے کے نتیجے میں انسان عشقِ لاحاصل سے دوچار ہوتا ہے جو کہ بے سمتی، بے راہ وری اور آخر میں ڈپریشن اور خودکشی پر منتج ہوتا ہے" صرف یہ بات بیان کرنے کے لئے انہوں نے پورا ناول لکھ مارا لیکن پورے ناول میں بات نکلی تو بس اتنی یعنی کھودا پہاڑ نکلا چوہا -
کچھ بھی ہو فرخ منظور صاحب ہر کوئی آپکے جتنا فصیح و بلیغ نہیں ہوتا
کچھ میرے جیسے نا سمجھ بھی ہوتے ہیں جن کو نہ تو دریا کوزے میں بند کرنا آتا ہے اور نہ بند کوزے سے دریا واپس نکالنا آتا ہے
ایسے میں غالب نہ سمجھ آئے تو ہم نثر کا سہارا ہی لیں گے
اور اماں بانو کی تحریروں کا سہارا لینا پڑے گا