خدا لگتی کہوں تو مجھ سے ان "بابوں" کی کتب نہیں پڑھی گئیں۔ایک سے زیادہ دفعہ کوشش کی شروع کرنے کی، لیکن میری اور ان کی سوچ میں ایسا تضاد محسوس ہوا کہ کتاب چھوڑتے ہی بنی۔
راجہ گدھ البتہ ان سب میں سے بہتر کتاب لگی،اگر اس کو بھی اس مکتبہ فکر میں شامل سمجھا جائے تو۔
بے چاری اچھی بھلی قدسیہ بانو بھی اشفاقی گئی تھیں ورنہ ٹھیک ہی تھیں وہ تو۔ کچھ عرصہ قبل ان کا ایک انٹرویو دیکھ رہا تھا جس میں سہیل وڑائچ کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا انہیں کبھی روحانیت کا کوئی تجربہ ہوا، انہوں نے کہا
"میں دنیادار ہوں، میرا کام نہیں ہے خدا کو تلاش کرنا، مجھے اگر کہیں اچانک مل جائے تو شاید میں پہچان بھی نہ سکوں۔
ان بابوں (اشفاق احمد، قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، وغیرہ) کی باتیں سنتی رہتی تھی، دل میں کبھی ہنستی رہتی تھی، کبھی مان لیتی تھی کبھی نہیں مانتی تھی۔"