حتمی رائے تو نہیں دے سکتی۔لیکن اِس طرح کی باتوں پہ یقین کرنا بھی میرے جیسے دنیا دار کے لئے مشکل ہے۔ممتازمفتی ایک عام سا بندہ تھا۔ جیسے ہم سب ہیں۔ ہماری ایک ساتھی اُن پہ کچھ لکھ رہی تھیں۔اُن سے رابطہ میں رہتی تھیں۔ ایک دن اُن کے گھر گئیں ۔پوچھا بلب کس بٹن سے جلے گا۔ بولے جس بٹن پہ اُنگلی رکھ دو گی،اُس سے ہی جل پڑے گا۔
ایک بار اُن کا ایک مضمون اُن کی لکھائی میں دیکھنے کا اتفاق ہوا جو ابھی چھپا نہیں تھا۔ اور شاید چھپا بھی نہیں۔ اُس میں اُنہوں نے اِس صدی مین بھارت کے ٹُکڑے ہوتے بڑے یقین سے ثابت کیا تھا۔
اشفاق صاحب سے پی ٹی وی پہ سٹوڈیومیں ملاقات ہوئی۔پروگرام زاویہ۔ایک ماں بیٹی آئی ہوئی تھیں۔ وہ دونوں اشفاق صاحب کے قدموں کے پاس نیچے بیٹھی تھیں۔اور جب اُٹھ کے جانے لگیں تو اُن کی طرف منہ کئے کئے۔
یہ کیا ہے!!!