اشفاق احمداشفاق احمد کا سچ

نظام الدین — اکتوبر 1، 2015 11:08 صبح
اماں کو میری بات ٹھیک سے سمجھ آگئی۔ اس نے اپنا چہرہ میری طرف کئے بغیر نئی روٹی بیلتے ہوئے پوچھا۔ ’’تو اپنی کتابوں میں کیا پیش کرے گا؟‘‘
میں نے تڑپ کر کہا۔ ’’میں سچ لکھوں گا اماں، اور سچ کا پرچار کروں گا۔ لوگ سچ کہنے سے ڈرتے ہیں اور سچ سننے سے گھبراتے ہیں۔ میں انہیں سچ سناؤں گا اور سچ کی تلقین کروں گا ۔۔۔۔۔۔‘‘
میری ماں فکرمند سی ہوگئی۔ اس نے بڑی دردمندی سے مجھے غور سے دیکھا اور کوئلوں پر پڑی ہوئی روٹی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’اگر تونے سچ بولنا ہے تو اپنے بارے میں بولنا، دوسرے لوگوں کی بابت سچ بول کر ان کی زندگی عذاب میں نہ ڈال دینا۔ ایسا فعل جھوٹ سے بھی برا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔‘‘
(اشفاق احمد بابا جی کی کتاب ’’صبحانے فسانے‘‘ کا ایک اقتباس)
سلمان حمید — اکتوبر 1، 2015 11:28 صبح
گہری اور خوبصورت بات :)
عمر سیف — اکتوبر 1، 2015 12:17 شام
خوبصورت بات ۔۔
x boy — اکتوبر 1، 2015 1:31 شام
سچی بات میٹھی ہوتی ہے
ابن رضا — اکتوبر 1، 2015 2:31 شام
عمدہ نصیحت
فرخ منظور — اکتوبر 2، 2015 8:38 صبح
اشفاق احمد نے ساری عمر اپنی اماں کی نصیحت پلے باندھ لی اور ساری عمر جھوٹ کے پلندے گھڑے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B4%D9%81%D8%A7%D9%82-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%DA%A9%D8%A7-%D8%B3%DA%86.84923/