ناعمہ عزیز — جولائی 28، 2010 3:45 شام
تنقید کوسن کر
خلیفہ ہارون الرشید(193-170ھ)نےایک باراپنےوزیرسےکہاکہ مجھ کوکسی بزرگ کےپاس لےچلو۔ وہ خلیفہ کوالفیصل بن عیاض (187-105ھ)کےپاس لےگیا۔ اس سلسلہ میں لمباقصہ کتابوں میں نقل ہواہے۔
خلیفہ کے ساتھ اس کے کئی درباری تھے انہوں نے فضیل سے مصافحہ کیا خلیفہ نے بھی مصافحہ کیا خلیفہ نے اپنا ہاتھ جب فضیل کےہاتھ میں رکھاتوانھوں نےکہاکہ کتنازیادہ نرم ہاتھ ہےیہ ہاتھ اگرکل دن وہ اللہ کےعذاب سےبھی بچ جائے (یالھامن کف ماالینھاء ان بخت غذامن عذاب اللہ عزوجل)
اس کےبعدخلیفہ نےفضیل سےکہاکہ کچھ نصیحت کیجئے انھوں نےتلخ نصیحت کےاندازکچھ کلمات کہے۔خلیفہ نے کہااورکچھ فرمائیے۔ فضیل نےمزیدکچھ کہا۔اس طرح وہ سخت تنقیدی اندازمیں دیرتک خلیفہ کوڈرانےوالےباتیں کرتے رہے۔خلیفہ ان کی نصیحتوں کوسن کرروپڑا۔
آخرمیں اس نےاپنےوزیرسےکہاکہ جب تم مجھ کوکسی آدمی کےپاس لےجاؤتواسی طرح کےآدمی کےپاس لےچلو۔یہ مسلمانوں کےسردارہی ں(ادادللتنی علی رجل فدلی علی مثل ھذا،ھذاسیدالمسلمین) آدمی کےاندراگرصحیح مزاج ہوتووہ نصیحت کوسن کراس سےسبق لےگا،خواہ یہ نصحیت کتنےہی سخت تنقیدی الفاظ میں کی گئی ہو۔ایساآدمی نصحیت کواس کےمعنوی اعتبارسےدیکھےگانہ کہ اس کےلفظی اعتبار سےدیکھےگانہ کہ اس کےلفظی اعتبارسے،وہ اس کواصولی حیثیت سےلےگانہ کہ ذاتی حیثیت سے۔
صحیح مزاج اگربادشاہ کےاندرہوتووہ بھی تنقیدکوسن کراسےبرداشت کرےگا۔اورایک معمولی آدمی بھی اگرصحیح مزاج نہ رکھتاہوتووہ تنقیدکوسن کربگڑجائےگا۔تنقیدکسی آدمی کوپہنچاننےکی سب سےزیادہ یقینی کسوٹی ہے۔تنقیدکوسن کرجوآدمی اپنےذہنی توازن کونہ کھوئےوہی اعلی انسان ہےاورجوشخص تنقیدکوسن کربگڑجائے۔اس کےمتعلق یہ کہنامشکل ہےکہ وہ اپنےاندراعلی انسان والی خصوصیات رکھتاہے۔تنقیدکسی آدمی کی انسانیت اوراس کےتقوی کی پہنچان کراتی ہے۔
رانا — جولائی 28، 2010 4:02 شام
جزاک اللہ۔ بہت ہی مفید اور سبق آموز اقتباس ہے۔ شکریہ۔
فرخ منظور — جولائی 28، 2010 5:08 شام
عائشہ صاحبہ کوشش کریں کہ صرف یونی کوڈ میں پوسٹ کریں۔ بہت شکریہ!
راجہ صاحب — جولائی 28، 2010 5:33 شام
عائشہ صاحبہ کوشش کریں کہ صرف یونی کوڈ میں پوسٹ کریں۔ بہت شکریہ!
میرے پاس آدھا اسکین صفحہ دکھائی دے رہا ہے

ناعمہ عزیز — جولائی 29، 2010 6:32 صبح
عائشہ صاحبہ کوشش کریں کہ صرف یونی کوڈ میں پوسٹ کریں۔ بہت شکریہ!
سب سے غلطی ہو جا تی ہے ،میں تو ناعمہ ہوں

آپ یونی کوڈ کو تفصیل سے بیان کر دیں بھیا پلیزززززز۔
شمشاد — جولائی 29، 2010 7:35 صبح
یونیکوڈ سے مطلب ہے کہ لکھ کر پوسٹ کرنا نہ کہ تصویر پوسٹ کرنا۔
ناعمہ عزیز — جولائی 29، 2010 7:46 صبح
میں بھی پہلے یہی سوچ رہی تھی مگر۔۔۔۔
شمشاد — جولائی 29، 2010 7:51 صبح
مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر کیا ہوا؟
ناعمہ عزیز — جولائی 29، 2010 8:22 صبح
مگر ٹائم نہیں تھا

mfdarvesh — جولائی 29، 2010 8:51 صبح
شکریہ کم لوگ تنقید برداشت کرتے ہیں۔ بابر اعوان کو کچھ کہہ کی دیکھیں
شمشاد — جولائی 29، 2010 9:00 صبح
مگر ٹائم نہیں تھا
لیکن اتنی جلدی تھی کاہے کی؟
سویدا — جولائی 29، 2010 9:12 صبح
یہ تحریر معروف ہندوستانی مصنف مولانا وحید الدین خان کی ہے
مجاز — جولائی 29، 2010 12:28 شام
بہت اچھی پوسٹ ہے۔ شکریہ

عظیم اللہ قریشی — جولائی 29، 2010 2:38 شام
میرے پاس آدھا اسکین صفحہ دکھائی دے رہا ہے
محترم راجہ صاحب آپ مندرجہ ذیل پروگرامز اسنٹال کرلیں تو پھر آپ کو تصویر پوری نظر آئے گی۔
Microsoft NET Framework 2
jxpiinstall-6u11-fcs-bin-b90-windows-i586-25_nov_2008
VBRunALL
جاویداقبال — جولائی 29، 2010 3:13 شام
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
بہن ناعمہ، یہ میں نےیونی کوڈمیں کنورٹ کردیاہے۔
تنقید کوسن کر
خلیفہ ہارون الرشید(193-170ھ)نےایک باراپنےوزیرسےکہاکہ مجھ کوکسی بزرگ کےپاس لےچلو۔ وہ خلیفہ کوالفیصل بن عیاض (187-105ھ)کےپاس لےگیا۔ اس سلسلہ میں لمباقصہ کتابوں میں نقل ہواہے۔
خلیفہ کے ساتھ اس کے کئی درباری تھے انہوں نے فضیل سے مصافحہ کیا خلیفہ نے بھی مصافحہ کیا خلیفہ نے اپنا ہاتھ جب فضیل کےہاتھ میں رکھاتوانھوں نےکہاکہ کتنازیادہ نرم ہاتھ ہےیہ ہاتھ اگرکل دن وہ اللہ کےعذاب سےبھی بچ جائے (یالھامن کف ماالینھاء ان بخت غذامن عذاب اللہ عزوجل)
اس کےبعدخلیفہ نےفضیل سےکہاکہ کچھ نصیحت کیجئے انھوں نےتلخ نصیحت کےاندازکچھ کلمات کہے۔خلیفہ نے کہااورکچھ فرمائیے۔ فضیل نےمزیدکچھ کہا۔اس طرح وہ سخت تنقیدی اندازمیں دیرتک خلیفہ کوڈرانےوالےباتیں کرتے رہے۔خلیفہ ان کی نصیحتوں کوسن کرروپڑا۔ آخرمیں اس نےاپنےوزیرسےکہاکہ جب تم مجھ کوکسی آدمی کےپاس لےجاؤتواسی طرح کےآدمی کےپاس لےچلو۔یہ مسلمانوں کےسردارہی ں(ادادللتنی علی رجل فدلی علی مثل ھذا،ھذاسیدالمسلمین)
آدمی کےاندراگرصحیح مزاج ہوتووہ نصیحت کوسن کراس سےسبق لےگا،خواہ یہ نصحیت کتنےہی سخت تنقیدی الفاظ میں کی گئی ہو۔ایساآدمی نصحیت کواس کےمعنوی اعتبارسےدیکھےگانہ کہ اس کےلفظی اعتبار سےدیکھےگانہ کہ اس کےلفظی اعتبارسے،وہ اس کواصولی حیثیت سےلےگانہ کہ ذاتی حیثیت سے۔
صحیح مزاج اگربادشاہ کےاندرہوتووہ بھی تنقیدکوسن کراسےبرداشت کرےگا۔اورایک معمولی آدمی بھی اگرصحیح مزاج نہ رکھتاہوتووہ تنقیدکوسن کربگڑجائےگا۔تنقیدکسی آدمی کوپہنچاننےکی سب سےزیادہ یقینی کسوٹی ہے۔تنقیدکوسن کرجوآدمی اپنےذہنی توازن کونہ کھوئےوہی اعلی انسان ہے۔اورجوشخص تنقیدکوسن کربگڑجائے۔اس کےمتعلق یہ کہنامشکل ہےکہ وہ اپنےاندراعلی انسان والی خصوصیات رکھتاہے۔
تنقیدکسی آدمی کی انسانیت اوراس کےتقوی کی پہنچان کراتی ہے۔
والسلام
جاویداقبال
فرخ منظور — جولائی 29، 2010 3:45 شام
جزاک اللہ جاوید صاحب!
عظیم اللہ قریشی — جولائی 29، 2010 4:02 شام
لو جی سخنور صاحب کی طبعیت میں بشاشت در آئی
ناعمہ عزیز — جولائی 29، 2010 4:58 شام
لیکن اتنی جلدی تھی کاہے کی؟
دراصل اس وقت بلال بھائی آئے ہی تھے گھر، تو چونکہ کمپیوٹر ان کے کمرے میں ہے اور ان کے آرام کا وقت تھا اس لیے مجھے جانا پڑا