جھولی بھردے میرے مالک

نظام الدین — دسمبر 4، 2015 10:29 صبح
یاخدا! تو جانتا ہے کہ میں تیری کائنات کا سب سے حقیر ذرہ ہوں، لیکن میری کم ظرفی کی داستانیں آسمان سے بھی بلند ہیں۔ میری حقیقت سے اور میرے دل میں چھپے ہر چور سے بس تو ہی واقف ہے۔ میرے گناہوں کی فہرست کتنی بھی طویل سہی، تیری بے کراں رحمت سے کم ہے۔ سو، میری منافقت بھری توبہ و معافی کو یہ جانتےہوئے بھی قبول فرما کہ توبہ کرتے وقت بھی میرے دل کا چور مجھے تیری نافرمانی پر مستقل اکساتا رہتا ہے۔ پھر بھی تجھے تیرے پیارے صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ، میری لاج رکھنا۔ میرے عیبوں پر اور میری جہالت پر پردہ ڈالے رکھنا۔ میرے مولا! تیرا ہی آسرا ہے، تو ہی عیبوں کا پردہ دار ہے۔ میری جھولی میں سو چھید ہیں، پھر بھی یہ جھولی تیرے سامنے پھیلی ہوئی ہے۔ اسے بھردے میرے مالک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ہاشم ندیم کے ناول ’’عبداللہ‘‘ سے اقتباس)
حمیرا عدنان — دسمبر 4، 2015 10:38 صبح
یہ ناول پڑھا ہے میں نے اچھا لکھا ہے ہاشم ندیم صاحب نے
اکمل زیدی — دسمبر 4، 2015 10:47 صبح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الٰھی آمین ...

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%84%DB%8C-%D8%A8%DA%BE%D8%B1%D8%AF%DB%92-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9.86218/