قدرت اللہ شہابخوشامد

ثناءاللہ — مارچ 2، 2006 6:00 شام
خوشامد کی قینچی عقل و فہم کے پر کاٹ کر انسان کو آزادئ پرواز سے محروم کر دیتی ہے
خوشامدیوں میں گھرا ہوا انسان شیرے کے قوام میں پھنسی ہوئی مکھی کی طرح بےبس اور معذور ہوتا ہے۔
رفتہ رفتہ اس کے اپنے حواس معطل ہو جاتے ہیں اور وہ وہی کچھ دیکھتا، سنتا، بولتا، سونگھتااور محسوس کرتا ہے، جو چاپلوسی ٹٹو چاہتے ہیں۔ جو خوشامدی کیڑے کو کُون کی طرح گھس کر اس کے وجود میں پلتے رہتے ہیں۔ جس سربراہ مملکت کی کرسی کو خوشامد کی دیمک لگ جائے وہ پائیدار نہیں رہتی، اس کے فیصلے ناقص ہوتے ہیں اور اس کی رائے دوسروں کے قبضے میں چلی جاتی ہے۔
از قدرت اللہ شہاب
نور- — اکتوبر 15، 2014 5:33 شام
بہت اچھے
لئیق احمد — اکتوبر 15، 2014 6:18 شام
درست فرمایا
Ryan Khan — نومبر 26، 2014 6:06 صبح
بہت عمدہ اقتباس ہے۔۔۔۔۔۔
محمداحمد — نومبر 26، 2014 6:11 صبح
عمدہ انتخاب !

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AE%D9%88%D8%B4%D8%A7%D9%85%D8%AF.1364/