نظام الدین — ستمبر 3، 2015 12:01 شام
ہم بہت ترقی یافتہ نہیں ہیں۔ بہت پڑھے لکھے بھی نہیں ہیں۔ دھوکہ دہی، رشوت زنی، قتل و غارت اور بہت سی برائیوں میں بھی ملوث ہیں۔ ہمارے ہاں ظلم کھلے عام کیا جاتا ہے اور مظلوم بھی ہم ہی ہوتے ہیں۔ ہم پسماندہ بھی ہیں اور پست ذہن کے بھی۔ لیکن اس کے باوجود جہان سکندر! ہم دل کے برے نہیں ہیں۔ ہمارے دل بہت سادا، بہت معصوم اور بے حد پیارے ہوتے ہیں۔
(نمرہ احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)
آوازِ دوست — ستمبر 3، 2015 12:56 شام
ہم بہت ترقی یافتہ نہیں ہیں۔ بہت پڑھے لکھے بھی نہیں ہیں۔ دھوکہ دہی، رشوت زنی، قتل و غارت اور بہت سی برائیوں میں بھی ملوث ہیں۔ ہمارے ہاں ظلم کھلے عام کیا جاتا ہے اور مظلوم بھی ہم ہی ہوتے ہیں۔ ہم پسماندہ بھی ہیں اور پست ذہن کے بھی۔ لیکن اس کے باوجود جہان سکندر! ہم دل کے برے نہیں ہیں۔ ہمارے دل بہت سادا، بہت معصوم اور بے حد پیارے ہوتے ہیں۔
(نمرہ احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)
تو بقول سہیل وڑائچ کیا یہ کھُلا تضاد نہیں

bilal260 — ستمبر 3، 2015 2:40 شام
میرا ایک جاننے والا حلال بھی کماتا ہے اور حرام بھی اس کی ایک جیب میں حرام کے پیسے اور دوسری میں حلال کے پیسے ہوتے ہیں اور اس کو پتہ ہے کہ نیک جگہوں پر حلال اور غلط اور گناہ کے کاموں میں حرام کے پیسے لگاتا ہے۔
یہ آج سے بارہ سال پہلے کی بات ہے جب اس نے یہ بات مجھے بتائی تھی ۔دراصل وہ بھی میری ہی طرح پانچ وقت نماز پڑھتا تھا اور ہے مسجد میں اس لئے اس سے پانچ وقت ہی تقریبا ملاقات ہوتی تھی۔ تب تو وہ غیر شادی شدہ تھا پھر اب تو تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔
شادی کے بعد اللہ عزووجل نے اسے ہدایت عطا فرمائے اور پھر ٹھیک ہو گیا ۔
واقعی یہ کھلا تضاد ہے
اس طرح توگندگی میں لپٹی ہوئی نیکیاں بھی نامقبول اور رد ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔