اشفاق احمدضمیر کا سگنل

نظام الدین — جون 18، 2015 11:23 صبح
قدرت نے انسان کو ایک ایسی بڑی نعمت سے نوازا ہے جسے ہم ضمیر کہتے ہیں۔ جب بھی ہم سے کوئی اچھائی یا برائی سرزد ہو تو یہ اپنے خصوصی سگنل جاری کرتا ہے۔ ان سگنلز میں کبھی شرمندگی کا احساس نمایاں ہوتا ہے تو کبھی ضمیر سے آپ کو ’’ویری گڈ‘‘ کی آواز آتی ہے۔ آپ کسی یتیم کے سر پر دست شفقت رکھتے ہیں یا کسی نابینا کو اپنا ضروری کام چھوڑ کر سڑک پار کرواتے ہیں تو آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے ضمیر نے آپ کو شاباش دی ہے، پیار سے تھپکی دی ہے۔ انسان خود میں عجیب طرح کی تازگی اور انرجی محسوس کرتا ہے۔ جب ہم اپنے کسی نوکر کو جھڑکیاں دیتے ہیں، کسی فقیر کو کوستے ہیں یا کوئی بھی ایسا عمل کرتے ہیں جس کی ہمیں ممانعت کی گئی ہے تو یہ ضمیر تنگی محسوس کرتا ہے۔ ایک ایسا سگنل بھیجتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ شاید یہ کام درست نہیں ہوا۔
(’’ضمیر کا سگنل‘‘ از اشفاق احمد سے اقتباس)​
تلمیذ — جون 18، 2015 11:26 صبح
درست۔
یہ تحریر ”اشفاق احمد“ کی ہے یا ”اشفاق حسین “ کی؟
محمداحمد — جون 18، 2015 2:26 شام
قدرت نے انسان کو ایک ایسی بڑی نعمت سے نوازا ہے جسے ہم ضمیر کہتے ہیں۔ جب بھی ہم سے کوئی اچھائی یا برائی سرزد ہو تو یہ اپنے خصوصی سگنل جاری کرتا ہے۔ ان سگنلز میں کبھی شرمندگی کا احساس نمایاں ہوتا ہے تو کبھی ضمیر سے آپ کو ’’ویری گڈ‘‘ کی آواز آتی ہے۔ آپ کسی یتیم کے سر پر دست شفقت رکھتے ہیں یا کسی نابینا کو اپنا ضروری کام چھوڑ کر سڑک پار کرواتے ہیں تو آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے ضمیر نے آپ کو شاباش دی ہے، پیار سے تھپکی دی ہے۔ انسان خود میں عجیب طرح کی تازگی اور انرجی محسوس کرتا ہے۔ جب ہم اپنے کسی نوکر کو جھڑکیاں دیتے ہیں، کسی فقیر کو کوستے ہیں یا کوئی بھی ایسا عمل کرتے ہیں جس کی ہمیں ممانعت کی گئی ہے تو یہ ضمیر تنگی محسوس کرتا ہے۔ ایک ایسا سگنل بھیجتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ شاید یہ کام درست نہیں ہوا۔
(’’ضمیر کا سگنل‘‘ از اشفاق حسین سے اقتباس)​

ہممم
لیکن مستقل نظر انداز کرنے سے یہ سگنلز معدوم ہوتے چلے جاتے ہیں اور ایک دن ان کے ہونے یا نہ ہونے کا احساس بھی نہیں رہتا۔
ایچ اے خان — جون 18، 2015 2:53 شام
ایک اور رائے کے کہ ضمیر کی آواز دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین کردہ فرشتوں کی رائے ہوتی ہے جو اگر بندہ گناہ کرتا رکے تو دور چلے جاتے ہیں
arifkarim — جون 18، 2015 3:25 شام
ایک اور رائے کے کہ ضمیر کی آواز دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین کردہ فرشتوں کی رائے ہوتی ہے جو اگر بندہ گناہ کرتا رکے تو دور چلے جاتے ہیں
اور جو غیر مسلمین فرشتوں پر یقین نہیں رکھتے ، انکے ہاں ضمیر نام کی کوئی شے نہیں ہوتی؟
ایچ اے خان — جون 18، 2015 3:27 شام
اور جو غیر مسلمین فرشتوں پر یقین نہیں رکھتے ، انکے ہاں ضمیر نام کی کوئی شے نہیں ہوتی؟
یقین رکھنا ضروری نہیں ہے
فرشتے حقیقت ہیں
arifkarim — جون 18، 2015 3:37 شام
یقین رکھنا ضروری نہیں ہے
فرشتے حقیقت ہیں
ٹھیک ہے پھر آپ ہی یہ ’’حقیقت‘‘ غیر مسلمین پر واضح کریں۔ :)
ایچ اے خان — جون 18، 2015 3:47 شام
ٹھیک ہے پھر آپ ہی یہ ’’حقیقت‘‘ غیر مسلمین پر واضح کریں۔ :)
وہ بھی کررہا ہوں
arifkarim — جون 18، 2015 3:48 شام
آپ تو ایک طرفہ باتوں سے انہیں مزید دور کر رہے ہیں :)
نظام الدین — جون 19، 2015 11:15 صبح
یہ تحریر ”اشفاق احمد“ کی ہے یا ”اشفاق حسین “ کی؟
نشاندہی کا شکریہ۔۔۔ ٹائپو ہوگیا تھا۔۔۔ پوسٹ میں درستگی کردی گئی ہے۔۔۔۔۔ بہت شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B6%D9%85%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%B3%DA%AF%D9%86%D9%84.82897/