قسمت کے دکھ

نظام الدین — جولائی 22، 2015 12:26 شام
بہت سے دکھ ہماری قسمت میں لکھے ہوتے ہیں، وہ ہمیں ملنے ہوتے ہیں۔ بعض سچائیاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ چاہے ہمیں جتنی بھی ناگوار لگیں مگر ہمیں انہیں قبول کرنا پڑتا ہے۔ انسان ہر وقت خود پر ترس کھاتا رہے، اپنی زندگی میں آنے والے دکھوں کے بارے میں سوچتا رہے تو وہ دکھ اس پر حاوی ہوجاتے ہیں۔ پھر اگر اس کی زندگی میں خوشیاں آتی بھی ہیں تو وہ انہیں دیکھ نہیں پاتا۔
(فرحت اشتیاق کے ناول ’’میرے ہمدم میرے دوست‘‘ سے اقتباس)
شزہ مغل — جولائی 22، 2015 12:39 شام
ہم خود تو دکھوں کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہیں مگر ہمارے اردگرد کے لوگ، ہمارے اپنے، ہمارے قریبی، ہمارے رشتے اور ہمارا ماحول جب ہمیں ان اثرات سے نکلنے نہ دیں تو کیا کیا جائے؟؟؟؟
شزہ مغل — جولائی 22، 2015 12:44 شام
ہم اپنے گھر کو ،اپنے رشتوں کو ،اپنے فرائض کو چھوڑ کر بھاگ بھی نہیں سکتے اور ان میں رہ کر دکھوں کے جال سے نکل بھی نہیں سکتے۔ ایسے میں وہ دکھ ہماری اپنی شخصیت میں سرائیت کر جاتے ہیں اور ہم غیر محسوس طریقے سے انہی دکھوں کی تصویر بن جاتے ہیں۔
ایسا کیوں؟؟؟
نظام الدین — جولائی 23، 2015 11:42 صبح
ہم اپنے گھر کو ،اپنے رشتوں کو ،اپنے فرائض کو چھوڑ کر بھاگ بھی نہیں سکتے اور ان میں رہ کر دکھوں کے جال سے نکل بھی نہیں سکتے۔ ایسے میں وہ دکھ ہماری اپنی شخصیت میں سرائیت کر جاتے ہیں اور ہم غیر محسوس طریقے سے انہی دکھوں کی تصویر بن جاتے ہیں۔
ایسا کیوں؟؟؟
بہت خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بالکل درست فرمایا آپ نے۔۔۔۔
شزہ مغل — جولائی 28، 2015 9:34 صبح
بہت خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بالکل درست فرمایا آپ نے۔۔۔۔
اب ہر انسان بغاوت بھی تو نہیں کر سکتا نا
آوازِ دوست — جولائی 28، 2015 9:48 صبح
بہت سے دکھ ہماری قسمت میں لکھے ہوتے ہیں، وہ ہمیں ملنے ہوتے ہیں۔ بعض سچائیاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ چاہے ہمیں جتنی بھی ناگوار لگیں مگر ہمیں انہیں قبول کرنا پڑتا ہے۔ انسان ہر وقت خود پر ترس کھاتا رہے، اپنی زندگی میں آنے والے دکھوں کے بارے میں سوچتا رہے تو وہ دکھ اس پر حاوی ہوجاتے ہیں۔ پھر اگر اس کی زندگی میں خوشیاں آتی بھی ہیں تو وہ انہیں دیکھ نہیں پاتا۔
(فرحت اشتیاق کے ناول ’’میرے ہمدم میرے دوست‘‘ سے اقتباس)
خوشی کی طرح دُکھ بھی لامحدود عمر لے کر نہیں آتے۔ سب فانی ہے، سب مٹ جانا ہے سو نو پرابلم :)
آوازِ دوست — جولائی 28، 2015 9:53 صبح
ہم اپنے گھر کو ،اپنے رشتوں کو ،اپنے فرائض کو چھوڑ کر بھاگ بھی نہیں سکتے اور ان میں رہ کر دکھوں کے جال سے نکل بھی نہیں سکتے۔ ایسے میں وہ دکھ ہماری اپنی شخصیت میں سرائیت کر جاتے ہیں اور ہم غیر محسوس طریقے سے انہی دکھوں کی تصویر بن جاتے ہیں۔
ایسا کیوں؟؟؟
آپ بھاگ سکتے ہیں گھر کو چھوڑ کر، رشتوں اور فرائض کو بھی چھوڑ کر مگر بالاخر آپ خود کو دوبارہ اِنہی اُلجھنوں میں گرفتار دیکھیں گے اور زیادہ احساسِ گرانی کے ساتھ لِہذا اپنے سے نچلی سطح پر موجود لوگوں کو دیکھیں اور شکر ادا کریں۔ یہی زندگی ہے :)
آوازِ دوست — جولائی 28، 2015 9:55 صبح
ہم خود تو دکھوں کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہیں مگر ہمارے اردگرد کے لوگ، ہمارے اپنے، ہمارے قریبی، ہمارے رشتے اور ہمارا ماحول جب ہمیں ان اثرات سے نکلنے نہ دیں تو کیا کیا جائے؟؟؟؟
زندگی میں محو رہیں ، زندگی اپنے راستے خود بنا لیتی ہے :)
آوازِ دوست — جولائی 28، 2015 10:01 صبح
بہت سے دکھ ہماری قسمت میں لکھے ہوتے ہیں، وہ ہمیں ملنے ہوتے ہیں۔ بعض سچائیاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ چاہے ہمیں جتنی بھی ناگوار لگیں مگر ہمیں انہیں قبول کرنا پڑتا ہے۔ انسان ہر وقت خود پر ترس کھاتا رہے، اپنی زندگی میں آنے والے دکھوں کے بارے میں سوچتا رہے تو وہ دکھ اس پر حاوی ہوجاتے ہیں۔ پھر اگر اس کی زندگی میں خوشیاں آتی بھی ہیں تو وہ انہیں دیکھ نہیں پاتا۔
(فرحت اشتیاق کے ناول ’’میرے ہمدم میرے دوست‘‘ سے اقتباس)
بھرے پیٹ والا خالی پیٹ والے کے احساسات نہیں سمجھ سکتا خواہ وہ ایک وقت میں اِس صورتِحال کا سامنا کر بھی چُکا ہو پیٹ بھرتے ہی انسان کی سوچ بدل جاتی ہے۔ اِسی طرح بھوکا انسان چاند کو دیکھ کر بھی روٹی کا ہی سوچتا ہر کسی کا اپنا اپنا سچ ہے اور اپنا اپنا دُکھ یا سُکھ :)
شزہ مغل — جولائی 28، 2015 10:07 صبح
زندگی میں محو رہیں ، زندگی اپنے راستے خود بنا لیتی ہے :)
دکھ سکھ بھی زندگی ہی کا حصہ ہیں۔ زندگی کے دکھ شخصیت کا حصہ بھی بن جاتے ہیں
شزہ مغل — جولائی 28، 2015 10:09 صبح
بھرے پیٹ والا خالی پیٹ والے کے احساسات نہیں سمجھ سکتا خواہ وہ ایک وقت میں اِس صورتِحال کا سامنا کر بھی چُکا ہو پیٹ بھرتے ہی انسان کی سوچ بدل جاتی ہے۔ اِسی طرح بھوکا انسان چاند کو دیکھ کر بھی روٹی کا ہی سوچتا ہر کسی کا اپنا اپنا سچ ہے اور اپنا اپنا دُکھ یا سُکھ :)
بالکل درست
قبر کا حال مردہ ہی جانتا ہے
آوازِ دوست — جولائی 28، 2015 10:12 صبح
دکھ سکھ بھی زندگی ہی کا حصہ ہیں۔ زندگی کے دکھ شخصیت کا حصہ بھی بن جاتے ہیں
با لکل ! بلکہ ہر وہ چیززندگی کا حصہّ بن جاتی ہے جسے ہم اہمیت دیں ۔ دُکھ کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہیں مگرزندگی آگے بڑھتی ہے چھوٹی بڑی خوشیوں یا محض اُن کی اُمید کے سہارے :)
لئیق احمد — جولائی 28، 2015 10:16 صبح
ہم خود تو دکھوں کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہیں مگر ہمارے اردگرد کے لوگ، ہمارے اپنے، ہمارے قریبی، ہمارے رشتے اور ہمارا ماحول جب ہمیں ان اثرات سے نکلنے نہ دیں تو کیا کیا جائے؟؟؟؟
میری والدہ اکثر کہا کرتی ہیں کہ ہر انسان اپنی عقل کے مطابق بات کرتا ہے۔ اس لئے بے عقل کی بات کو اہمیت دے کر خود کو پریشان نہیں کرنا چاہئے۔ :)
لئیق احمد — جولائی 28، 2015 10:17 صبح
خوشی کی طرح دُکھ بھی لامحدود عمر لے کر نہیں آتے۔ سب فانی ہے، سب مٹ جانا ہے سو نو پرابلم :)
اسی لئے تو کہتے ہیں۔ وقت سب سے بڑا مرہم ہے۔ :)
نور وجدان — اگست 15، 2015 10:33 صبح
خوشی کی طرح دُکھ بھی لامحدود عمر لے کر نہیں آتے۔ سب فانی ہے، سب مٹ جانا ہے سو نو پرابلم :)
غیر متفق !!! دُکھ کی عمر ہوتی ہی نہیں ۔
نظام الدین — اگست 15، 2015 10:37 صبح
غیر متفق !!! دُکھ کی عمر ہوتی ہی نہیں ۔
میرا خیال ہے کہ انسان کی عمر کے ساتھ دکھ کی عمر بھی ہوتی ہے۔ جب انسان مٹ گیا تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس کے دکھ بھی ختم ہوگئے
نور وجدان — اگست 15، 2015 10:39 صبح
میرا خیال ہے کہ انسان کی عمر کے ساتھ دکھ کی عمر بھی ہوتی ہے۔ جب انسان مٹ گیا تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس کے دکھ بھی ختم ہوگئے

میں شاید مٹنے سے پہلے کی بات کر رہی تھی مگر آپ نے لاجواب کردیا
لئیق احمد — اگست 15، 2015 11:13 صبح
میرا خیال ہے کہ انسان کی عمر کے ساتھ دکھ کی عمر بھی ہوتی ہے۔ جب انسان مٹ گیا تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس کے دکھ بھی ختم ہوگئے
اچھی بات ہے ۔ کسی کو ناراض نہ کریں :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%82%D8%B3%D9%85%D8%AA-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%DA%A9%DA%BE.83522/