محمد ہاشمی

سعید احمد اعجاز — مئی 14، 2020 5:48 شام
محمد ہاشمی کی یہ غزل اگر کسی کے پاس ہو تو براہ کرم سینڈ کر دیں ۔
سہم گئے تھے ڈھول بجانے والے بھی
اتنا ٹوٹ کے ناچ رہا تھا اک لڑکا
شفتل کاٹ رہا تھا تیز درانتی سے
نرم و نازک گندم جیسا اک لڑکا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%DB%81%D8%A7%D8%B4%D9%85%DB%8C.111791/