السلام علیکم، مطالعہ کے شائق تمام حضرات مثلاً جناب وارث صاحب، سخنور صاحب، مغل صاحب اور دیگر کرم فرماؤں سے استفسار ہے کہ کیا مشتاق احمد یوسفی کی کتاب ' آب گم' کے بعد کوئی نئی کتاب مارکیٹ میں آئی ہے؟ جواب کے لئے پیشگی شکر گذار ہوں۔
السلام علیکم، مطالعہ کے شائق تمام حضرات مثلاً جناب وارث صاحب، سخنور صاحب، مغل صاحب اور دیگر کرم فرماؤں سے استفسار ہے کہ کیا مشتاق احمد یوسفی کی کتاب ' آب گم' کے بعد کوئی نئی کتاب مارکیٹ میں آئی ہے؟ جواب کے لئے پیشگی شکر گذار ہوں۔
جی ابھی تک تو نہیں آئی۔ اور میں خود بہت مشتاق ہوں ان کی نئی کتاب پڑھنے کے لئے۔ خیر اس بارے میں، میں ایک دوست سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مشتاق احمد یوسفی سے خود پوچھ کر بتائیں کہ ان کی نئی کتاب کب آرہی ہے اور جو بھی اطلاع ملے گی یہاں گوش گذار کر دوں گا۔
تلمیذ — مئی 4، 2009 11:37 صبح
فاروق صاحب،
آپ کی اردو کی تصحیح کے لئے معافی چاہتا ہوں۔ غالبآ آپ
'معذرت چاہتے ہوئے' لکھنا چاہتے تھے۔
تلمیذ — مئی 4، 2009 11:40 صبح
سخنور صاحب جواب کے لئے بے حد شکریہ۔
میں آپ کے اگلے جواب کا منتظر رہوں گا۔
جن احباب کو مشتاق احمد یوسفی سے دلچسپی ہے ان سے گذارش ہے کہ یوسفی صاحب کے لئے ایک سوالنامہ مرتب کرنے میں مدد دیں۔ میرے ایک دوست نے یوسفی صاحب سے ملنے جانا ہے اور اسکا کہنا ہے کہ کچھ مناسب سوالات ہوں تو گفتگو زیادہ بہتر ہوجائے گیا۔ آپ تمام احباب سے گذارش ہے کہ یوسفی صاحب سے اگر وہ کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو یہاں لکھ دیں تاکہ ایک سوالنامہ مرتب کیا جا سکے۔ بہت نوازش ہوگی!
نبیل — مئی 7، 2009 5:02 شام
سب سے بڑا اور اہم سوال:
یوسفی صاحب، کیا آپ کی کوئی نئی کتاب منظر عام پر آنے والی ہے؟ اس پر آپ کتنے عرصے سے کام کر رہے ہیں؟
خرم — مئی 7، 2009 5:06 شام
میرا سوال یہ ہے "جیسی محنت زبان و بیان کی درستی کے لئے آپ اپنی کتب و مضامین میں کرتے رہے، ایسی محنت موجودہ دور کے ادباء میں نظر نہیں آتی۔ کیا کبھی سوچا کہ اردو کو اس کی اصل صحت میں محفوظ کرنے کی کوئی اداراتی کوشش کی جائے تاکہ اس کے حسن کو دیگر زبانوں بالخصوص انگریزی کی یلغار کے اثرات سے محفوظ کیا جا سکے؟"
محمد وارث — مئی 7، 2009 6:49 شام
آب گم کے دیباچے میں انہوں نے لکھا ہے ایک مسودے سے دو کتابیں نکالنے کا ارادہ ہے یعنی وہ ضرور اس پر کام کر رہے ہونگے لیکن بہت سال بیت گئے اور یوسفی کا کمال بھی یہی ہے، چالیس سال میں چار کتابیں، وہ یقیناً ایک ایک لفظ، ایک ایک جملے اور ایک ایک پیراگراف پر مہینوں سوچتے ہیں
الف عین — مئی 8، 2009 10:47 صبح
یہی سوال اقبال صاحب .مصحف اقبال توصیفی. نے یوسفی سے پوچھا تھا، اس وقت. غالبآ اکتوبر 2008 میں موصوف زر گزشت کے دوسرے حصے کا پلان بنا رہے تھے.
باذوق — مئی 13، 2009 11:15 صبح
1۔ کرنل محمد خان نے اپنی ساری مزاحیہ کتب کو ایک کتاب "تصنیفاتِ کرنل محمد خان" میں جمع کر دیا ہے۔ کیا ہم یوسفی صاحب سے بھی ایسی توقع رکھ سکتے ہیں؟ اس طرح یوسفی صاحب کو پڑھنے اور ان پر لکھنے والوں کو سہولت بھی ہو جائے گی۔
2۔ یوسفی صاحب کے فن و شخصیت پر لکھے گئے اب تک 10 سے زائد اہم مضامین مطالعے سے گزرے ہیں۔ کیا یوسفی صاحب نے اس قسم کے مضامین کا ریکارڈ رکھا ہے؟ تاکہ کبھی یہ مواد بھی کتابی شکل میں سامنے آئے۔
3۔ کیا یوسفی صاحب کے فن و شخصیت پر پی-ایچ-ڈی کا مقالہ تحریر کرنے کے لیے کوئی اُن تک رجوع ہوا ہے؟
محسن حجازی — مئی 13، 2009 11:47 صبح
ہمارے سوالات بھی یوسفی صاحب تک پہنچ جائیں تو کیا ہی بات ہے۔ مزاح نگاری میں آمد کو کس قدر عمل دخل ہے؟
اگر ہے تو خارجی و داخلی انتشار کے سبب بنجر دور کا سامنا کرنا پڑا؟
ایسی کیفیات سے باہر نکلنے کا کیا راستہ اختیار کرتے ہیں؟
مزاح کے تکنیکی پہلو کیا ہیں؟ کیا کچھ تکنیک یا کچھ pattrens یا بار بار دہراتے ہوئے محسوس ہوئے؟ کبھی ان کی فہرست یا catalog مرتب کی؟ شاید کچھ سوال زیادہ ہی احمقانہ معلوم ہوں تاہم میرے لیے جاننا ضروری ہے۔
1۔ کرنل محمد خان نے اپنی ساری مزاحیہ کتب کو ایک کتاب "تصنیفاتِ کرنل محمد خان" میں جمع کر دیا ہے۔ کیا ہم یوسفی صاحب سے بھی ایسی توقع رکھ سکتے ہیں؟ اس طرح یوسفی صاحب کو پڑھنے اور ان پر لکھنے والوں کو سہولت بھی ہو جائے گی۔
2۔ یوسفی صاحب کے فن و شخصیت پر لکھے گئے اب تک 10 سے زائد اہم مضامین مطالعے سے گزرے ہیں۔ کیا یوسفی صاحب نے اس قسم کے مضامین کا ریکارڈ رکھا ہے؟ تاکہ کبھی یہ مواد بھی کتابی شکل میں سامنے آئے۔
3۔ کیا یوسفی صاحب کے فن و شخصیت پر پی-ایچ-ڈی کا مقالہ تحریر کرنے کے لیے کوئی اُن تک رجوع ہوا ہے؟
کرنل محمد خان کا تو انتقال ہوچکا ہے۔ اسی لئے ان کا ایک مجموعہ پبلشر نے شائع کر دیا ہے۔ مگر یوسفی صاحب ماشااللہ ابھی بقیدِ حیات ہیں۔ بہرحال آپ کے سوالات یوسفی صاحب تک پہنچا دئیے جائیں گے۔
کرنل محمد خان کا تو انتقال ہوچکا ہے۔ اسی لئے ان کا ایک مجموعہ پبلشر نے شائع کر دیا ہے۔ مگر یوسفی صاحب ماشااللہ ابھی بقیدِ حیات ہیں۔ بہرحال آپ کے سوالات یوسفی صاحب تک پہنچا دئیے جائیں گے۔
شکریہ۔ ہاں ، آپ کا کہنا بھی درست ہے۔ مگر یوسفی صاحب کی چونکہ اب تک صرف 4 کتب ہیں اور اگر وہ اپنی متوقع پانچویں کتب کو بھی ملا کر ایک مجموعہ اپنی ہی نگرانی میں شائع کروا دیں تو یہ ایک نئی روایت قائم ہو جائے گی۔
محمد وارث — مئی 13، 2009 5:00 شام
اپنی زندگی میں ہی اپنے کلیات شائع کروانے کی بھی کئی ایک امثال موجود ہیں
جی بالکل درست فرمایا قبلہ۔ لیکن میرا خیال ہے یوسفی صاحب بہت بالغ نظر ہیں۔
سید محمد نقوی — اگست 31، 2009 2:47 صبح
میں نے یہ دھاگہ آج ہی دیکھا ہے۔ ان سوالات کے جواب کب تک ملیں گے۔ میں یوسفی صاحب کی اگلی کتاب پڑھنے کے لیے بے چین ہوں۔
اگر ان کی کوئی تصویر بھی یہاں پوسٹ کر دی جائے تو بہت اچھا ہوگا.
میں نے یہ دھاگہ آج ہی دیکھا ہے۔ ان سوالات کے جواب کب تک ملیں گے۔ میں یوسفی صاحب کی اگلی کتاب پڑھنے کے لیے بے چین ہوں۔
اگر ان کی کوئی تصویر بھی یہاں پوسٹ کر دی جائے تو بہت اچھا ہوگا.