نظام الدین — اگست 8، 2015 10:55 صبح
تدبیر بھی تقدیر کے آگے سرنگوں ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔ مشیتِ ایزدی کے سامنے لبیک کہنا ہی بندگی کا اصل مفہوم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے تمہارے چاہنے، سوچنے یا کرنے سے ہی اگر تمام مسئلے حل ہوسکتے تو پھر خدا کہاں ہے؟ ہم منزل کی سمت قدم بڑھا کر سفر تو شروع کرسکتے ہیں لیکن منزل پالینا ضروری نہیں ٹھہرتا۔ ہر حال میں راضی بہ رضا رہنا ہی منزل کا مفہوم ہے۔
(’’کاجل کوٹھا‘‘ از محمد یحییٰ خان سے اقتباس)
نور وجدان — اگست 8، 2015 11:22 صبح
بڑے اچھے اقتباسات آپ کی طرف سے دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔۔۔۔ آپ کا ذوق بہت عمدہ ہے ۔۔
لیکن منزل کی طرف شروع سفر ختم تو ہوتا ہے جیسے زندگی کا فلسفہ موت ہے ۔۔۔ اس فلسفے کا تعلق کن باتوں سے ہے؟
نظام الدین — اگست 10، 2015 10:40 صبح
بڑے اچھے اقتباسات آپ کی طرف سے دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔۔۔۔ آپ کا ذوق بہت عمدہ ہے ۔۔
لیکن منزل کی طرف شروع سفر ختم تو ہوتا ہے جیسے زندگی کا فلسفہ موت ہے ۔۔۔ اس فلسفے کا تعلق کن باتوں سے ہے؟
مشیتِ ایزدی کے سامنے لبیک کہنا ہی بندگی کا اصل مفہوم ہے