ممتاز مفتی کی "الکھ نگری"

طالب سحر — مارچ 29، 2016 12:56 شام
راقم نے ممتاز مفتی کی"علی پور کا ایلی" تو پڑھی ہے، لیکن "الکھ نگری" پڑھنے کا موقع نہ مل سکا- ایک دوست کا کہنا ہے کہ "شہاب نامہ" کے بعد "الکھ نگری" پڑھنا ضروری ہے- کیا کہتے ہیں احباب اس بارے میں-
فاتح — مارچ 29، 2016 12:58 شام
علی پور کا ایلی نوجوانی میں جنسی چسکوں کی وجہ سے پڑھی تھی لیکن اس کے بعد سنا کہ الکھ نگری میں ویسے جنسی چسکے نہیں تھے اس لیے پڑھنے کی زحمت نہیں کی اس لیے کچھ بتانے سے قاصر ہوں۔ :laughing:
زیک — مارچ 29، 2016 1:32 شام
علی پور کا ایلی نوجوانی میں جنسی چسکوں کی وجہ سے پڑھی تھی لیکن اس کے بعد سنا کہ الکھ نگری میں ویسے جنسی چسکے نہیں تھے اس لیے پڑھنے کی زحمت نہیں کی اس لیے کچھ بتانے سے قاصر ہوں۔ :laughing:
آپ کے ہاں پرون دستیاب نہیں تھی؟
فاتح — مارچ 29، 2016 1:36 شام
آپ کے ہاں پرون دستیاب نہیں تھی؟
ہم خود کو سٹریٹ پورن سے ذرا اوپر کے درجے پر فائز محسوس کرتے تھے اس لیے اہل علم والی پورن پر گزارا کرتے تھے جیسے کہ علی پور کا ایلی اور راجا گدھ :laughing:
راجا گدھ میرپور خاص سے کراچی کے سفر کے دوران پڑھنے کا موقع ملا اور بار بار کن اکھیوں سے ارد گرد بیٹھے لوگوں کو بھی دیکھتا جاتا تھا کہ کہیں کوئی مجھے دیکھ تو نہیں رہا یہ سب کچھ پڑھتے ہوئے۔ :laughing:
مریم افتخار — مارچ 29، 2016 1:46 شام
راقم نے ممتاز مفتی کی"علی پور کا ایلی" تو پڑھی ہے، لیکن "الکھ نگری" پڑھنے کا موقع نہ مل سکا- ایک دوست کا کہنا ہے کہ "شہاب نامہ" کے بعد "الکھ نگری" پڑھنا ضروری ہے- کیا کہتے ہیں احباب اس بارے میں-
شہاب نامہ کے بعد الکھ نگری پڑھنا ضروری ہے اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ الکھ نگری علی پور کا ایلی کا اگلا حصہ ہے، خودنوشت ہے ممتاز مفتی صاحب کی اور اس کے پہلے چند ابواب کے علاوہ باقی سب ابواب میں قدرت اللہ شہاب کا تذکرہ ہے۔ ممتاز مفتی نے الکھ نگری لکھنے کی ضرورت اسی لیے محسوس کی کیونکہ شہاب نامہ کے آخری باب کے متعلق بہت تنقید ہوائی کہ تمام ابواب میں ایک اور انسان نظر آتا ہے اور آخری باب میں کوئی اور۔ آخری باب میل نہیں کھاتا کتاب سے، اس کے علاوہ اسے جھٹلایا بھی گیا۔ ممتاز مفتی ان کے قریبی تھے اس لئے انہوں نے اسی ایک وجہ کو لے کے کتاب لکھی اور شہاب صاحب کی روحانیت واضح کرنے کی کوشش کی اور بہت سے واقعات سے پردہ اٹھایا ، جو شہاب نہیں لکھ سکے۔
یہ میری ذاتی رائے نہیں بلکہ کتاب کے بارے میں بتا رہی ہوں آپکو کہ علی پور کا ایلی کا بنیادی پلاٹ جنسی تھا اور اس کا روحانی۔ نقاد جو بھی کہیں، مگر دونوں ہی کافی "علمی" اور اپنی طرز کی اعلٰی کتب لگیں مجھے تو۔
محمد امین صدیق — مارچ 29، 2016 2:02 شام
راقم نے ممتاز مفتی کی"علی پور کا ایلی" تو پڑھی ہے، لیکن "الکھ نگری" پڑھنے کا موقع نہ مل سکا- ایک دوست کا کہنا ہے کہ "شہاب نامہ" کے بعد "الکھ نگری" پڑھنا ضروری ہے- کیا کہتے ہیں احباب اس بارے میں-
بقول خود مصنف " یہ ناول ،'علی پور کا ایلی' کا تسلسل ہے.":):)
زیک — مارچ 29، 2016 2:03 شام
جنسیت اور روحانیت کافی ملتے جلتے موضوع ہیں۔
مریم افتخار — مارچ 29، 2016 2:14 شام
جنسیت اور روحانیت کافی ملتے جلتے موضوع ہیں۔
میں تَو متفق ہُوں بھئی!
نور وجدان — مارچ 29، 2016 2:26 شام
جنسیت اور روحانیت ایک دوسرے کے قریب اس طرح جیسے انسان روح بھی ہے مادہ بھی ۔۔۔۔۔ باقی ایک اور ٹرم ہے جس کو کہتے جنسی روحانیت -----یہ آج کل پائی جارہی ہے جس سے ہر خاص و عام فائدہ نہیں اٹھا سکتے بس چیدہ چیدہ لوگ ہیں
زیک — مارچ 29، 2016 2:35 شام
باقی ایک اور ٹرم ہے جس کو کہتے جنسی روحانیت -----یہ آج کل پائی جارہی ہے جس سے ہر خاص و عام فائدہ نہیں اٹھا سکتے بس چیدہ چیدہ لوگ ہیں
Hippies?
نور وجدان — مارچ 29، 2016 2:38 شام
نہیں زیک بھائی ۔۔۔۔۔جنسی روحانیت سے مراد وہ لوگ جو آستانے سجاتے ہیں مگر کام نرالے ہوتے ہیں ۔۔اس کو شاید روحانی جنسیت کہنا چاہیے تھا ۔
عبدالقیوم چوہدری — مارچ 29، 2016 2:45 شام
جنسیت اور روحانیت کافی ملتے جلتے موضوع ہیں۔
میں تَو متفق ہُوں بھئی!
یہ آخری 'ی ت' کی وجہ سے یا واقعی ان کے ڈانڈے کہیں جا کر مل جاتے ہیں ؟
مریم افتخار — مارچ 29، 2016 2:55 شام
یہ آخری 'ی ت' کی وجہ سے یا واقعی ان کے ڈانڈے کہیں جا کر مل جاتے ہیں ؟
واقعی :laughing:
زیک — مارچ 29، 2016 3:10 شام
یہ آخری 'ی ت' کی وجہ سے یا واقعی ان کے ڈانڈے کہیں جا کر مل جاتے ہیں ؟
تجربے سے سب آشکار ہو گا۔
عبدالقیوم چوہدری — مارچ 29، 2016 3:12 شام
تجربے سے سب آشکار ہو گا۔
آپ کا مراسلہ دیکھ کر میرے گمان میں یہی خیال آیا تھا، سوچا پوچھ ہی لوں۔
اچھا پھر تو آپ ناتجربہ کار ہیں:cool:
حمیرا عدنان — مارچ 29، 2016 3:15 شام
کافی دفعہ کوشش کی پوری پڑھنے کی لیکن ہر بار علی پور کا ایلی آدھی پڑھ کر چھوڑ دی :)
نور وجدان — مارچ 29، 2016 3:21 شام
کافی دفعہ کوشش کی پوری پڑھنے کی لیکن ہر بار علی پور کا ایلی آدھی پڑھ کر چھوڑ دی :)
یہی میرے ساتھ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو صفحات گزار گزار پڑھنے کے باوجود نہ پڑھ پائی ۔۔۔۔
طالب سحر — مارچ 29، 2016 4:36 شام
بقول خود مصنف " یہ ناول ،'علی پور کا ایلی' کا تسلسل ہے.":):)
جب میں نے 1985 کے لگ بھگ "علی پور کا ایلی" پڑھی تھی، تو یہ کتاب ناول کے طور پر جانی جاتی تھی- کافی بعد میں معلوم ہوا کہ یہ تو موصوف کی خود نوشت سوانح حیات ہے، جس کو انھوں نے فکشن کی طرح لکھا تھا- مجھے کسی نے بتایا ہے کہ پہلی کتاب کے سوانح حیات ہونے کا "اعترف" یا "انکشاف" مصنف نے "الکھ نگری" میں کیا تھا جو کہ نان فکشن کے طور پر شائع ھوئ تھی اور "علی پور کے ایلی" کے حصئہ دوم کے طور پر متعارف ھے-
کافی دفعہ کوشش کی پوری پڑھنے کی لیکن ہر بار علی پور کا ایلی آدھی پڑھ کر چھوڑ دی :)
"علی پور کا ایلی" یقیناً ان کتابوں میں شامل ھے، جس کے پہلے پچاس، سو صفحے پڑھنے میں اچھے نہیں لگتے- اگر اس کے آگے نکل گئے تو پوری کتاب پڑھی جا سکتی ھے۔
محمد وارث — مارچ 29، 2016 4:46 شام
میں نے ایلی، کالج کے زمانے کسی لائبریری سے لے کر پڑھی تھی، پھر لاہور ہاسٹل میں دوستوں نے میری سالگرہ پر مجھے الکھ نگری دی تھی ۔۔یہ ایک لذیذ حکایت ہے پھر کبھی سہی :)۔۔ لیکن بیشتر اس کے میں اسے پڑھتا کوئی اسے لے گیا اورمیں آج تک مغویہ کی راہ دیکھ رہا ہوں۔ ابھی پچھلے سال میں نے علی پور کا ایلی خریدی، پہلے دکھ ہوا کہ اس قیمت میں کئی اچھی کتابیں خرید سکتا تھا اور یہ بھی کہ پڑھی ہوئی ہے لیکن اس عمر میں دوبارہ پڑھ کر زیادہ اچھی لگی۔ الکھ نگری باوجود خواہش کے ابھی تک نہیں پڑھ سکا۔ سنا یہی ہے کہ پڑھنے والی پہلی ہی ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ میں جب پڑھوں تو میری رائے بدل جائے۔
محمد وارث — مارچ 29، 2016 4:49 شام
آپ کے ہاں پرون دستیاب نہیں تھی؟
کالج کے زمانے میں میری دریدہ دہنی اتنی بڑی ہوئی تھی کہ میں نے اس سے ملتی جلتی بات اپنے ڈین صاحب سے کہہ دی تھی، وہ اس وقت دوستانہ رنگ میں تھے سو بس مسکرا کر رہ گئے :)
صفحات: 1 2 3 4

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D9%85%D8%AA%D8%A7%D8%B2-%D9%85%D9%81%D8%AA%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D9%84%DA%A9%DA%BE-%D9%86%DA%AF%D8%B1%DB%8C.88930/