من چاہے کا پرتو

نظام الدین — اپریل 1، 2015 11:59 صبح
کسی من چاہے کا پرتو کب تک یوں سامنے آتا رہتا ہے کہ جیسے وہ سامنے ہو؟ ۔۔۔۔ صرف چند برسوں کے لئے۔ پہلے بدن کا لمس ساتھ چھوڑتا ہے، پھر آواز معدوم ہوتی چلی جاتی لے اور کچھ عرصے بعد آنکھیں بھولتی ہیں، مگر مسکراہٹ بہت دیر تک ساتھ دیتی ہے لیکن ایک روز وہ بھی بجھتی ہوئی لو کی طرح تھرتھراتی ہوئی تاریک ہوجاتی ہے
(مستنصر حسین تارڑ کی کتاب ’’خانہ بدوش‘‘ سے اقتباس)
فاروق احمد بھٹی — اپریل 1، 2015 12:20 شام
سہ سہ جوڑ سنگت دے ویکھے آخر وتھاں پئیاں
جنہاں باجھوں پل نئیں سی لنگدا او شکلاں بھُل گئیاں (میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D9%86-%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D9%BE%D8%B1%D8%AA%D9%88.81117/