پہنچے ہوئے بزرگ

ام نور العين — جولائی 6، 2012 5:16 شام
فٹ پاتھ پر ميرے دائيں جانب ٹيلى فون بوتھ نظر آئے تو ميں اپنی نشست سے اٹھا جيب ميں سے سكے نكالے اور لاہور كا نمبر ملا ديا ۔ دوسرى طرف ميرا بيٹا ياسر تھا يہ سائنسدان بھی بہت " پہنچے ہوئے بزرگ " ہيں ۔ ميں گھر سے ہزاروں ميل دور سنگاپور كے ايك ريستوران ميں بيٹھا ہوا ہوں اور ميرا بيٹا لاہور كے علامہ اقبال ٹاؤن ميں ہے درميان ميں سمندر اور صحرا حائل ہيں اور ہم ايك دوسرے سے اس طرح باتيں كر رہے ہيں جيسے آمنے سامنے بيٹھے ہوں ۔ جس بزرگ نے ٹيلى فون ايجاد كيا اس كے مقابلے ميں ميں سائیں کوڈے شاہ كى بزرگى كا كيسے قائل ہوں جاؤں جو بھنگ پی كر سويا رہتا ہے اور جب جاگتا ہے تو لوگوں كو سلانے كى كوشش كرتا ہے؟
ميں نے فون پر على اور عمر كى چہکاريں سنيں اور پيشتر اس كے كہ نازى سے بات ہوتى ميرى جيب سكوں سے خالى ہو گئی اور اس كے ساتھ ہی رابطہ منقطع ہو گيا ۔ حقيقتوں اور توہمات ميں سے توہمات كو بس يہی برترى حاصل ہے كہ اس ميں جہالت كا سكہ چل جاتا ہے چنانچہ جيب خالى بھی ہو تو ايك سُوٹا لگا كر كہيں بھی اور كسى سے بھی بات ہو سكتى ہے !
عطاءالحق قاسمی
اقتباس از : دنيا خوب صورت ہے۔
الف عین — جولائی 7، 2012 7:58 صبح
ام نور العین کا یہ پہلو پسند آیا۔ مزید کچھ؟
محمداحمد — جولائی 7، 2012 8:00 صبح
بہت خوب۔۔۔۔!
خوش رہیے۔
ام نور العين — جولائی 7، 2012 12:24 شام
انكل شايد آپ كى نظر نہيں پڑی ورنہ ميں كم سہی ليكن اقتباسات شيئر كرتى رہتى ہوں
اسى كتاب كا ايك اور اقتباس
www.urduweb.org/mehfil/threads/شعر-معر.29852/
مزيد كى فرصت ہوئى تو ضرور ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%DB%92-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%D8%A8%D8%B2%D8%B1%DA%AF.52519/