نظام الدین — فروری 17، 2015 10:19 صبح
’’ہم لڑکیوں کی قوم بہت بے وقوف ہوتی ہے۔ دوسروں کے تجربات سے فائدہ نہیں اٹھاتی اور جب آنکھوں پر نام نہاد محبت کی پٹی بندھی ہو تو ہر سیدھا راستہ دکھانے والا دشمن ہی لگتا ہے۔ شاید ابنِ آدم کے پاس خوشنما لفظوں کا ایسا جال ہوتا ہے جس سے بنتِ حوا چاہتے ہوئے بھی نکلنا نہیں چاہتی اور ساری عمر کے لئے آنسوؤں کا تحفہ دینے والے کو ہی پوجتی ہے اور ساری زندگی اس حصار سے نہیں نکلتی۔‘‘
(صائمہ اکرم چوہدری کے ناول ’’تمہیں کتنا چاہتے ہیں‘‘ سے اقتباس)
bilal260 — فروری 17، 2015 10:45 صبح
کیا نفسیات بیان کی ہے ایک لڑکی نے سب لڑکیوں کی اکثر ایسا ہی ہوتا تھا ۔
اب نہیں ہوتا ایسا۔
اب بیلنس کسی بھائی سے ڈلواتی ہے اور لمبی گپ شپ کسی اور سے۔(ہاہاہا)۔
x boy — فروری 17، 2015 1:05 شام
لڑکیوں کی قوم کی ذمہ داری ان کی ماں پر ہے
نان نفقہ باپ پر،،، نظر رکھنا دونوں پر،
لڑکیاں اپنے باپ سے بہت پیار کرتی ہیں
اور ماں سے بہت کچھ سیکھتی ہیں
اسمارٹ فون لڑکیوں کی مستقبل کی قاتل ہے
لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر میں والدین کی نگرانی ہونی چاہیے
جمعے کی نماز اور عیدین پر لے جانا چاہیے
اسلامی کلاس ، دینی لیکچر اور کلاسس جو صرف اور صرف قرآن اور احادیث سے
دی جائے اس کی حاضری کروانا چاہیے۔ بچپن سے ہی گھر میں دینی پروگرام سے تربیت
کرنی چاہیے ورنہ بہت دور اس دور میں نکل سکتی ہیں واپسی کا راستہ ہوتا والدین قبول کرسکتے ہیں
لیکن معاشرہ نہیں کرتا۔
سید زبیر — فروری 17، 2015 2:22 شام
کیا نفسیات بیان کی ہے ایک لڑکی نے سب لڑکیوں کی اکثر ایسا ہی ہوتا تھا ۔
اب نہیں ہوتا ایسا۔
اب بیلنس کسی بھائی سے ڈلواتی ہے اور لمبی گپ شپ کسی اور سے۔(ہاہاہا)۔
آمین ثم آمین رب کائنات آپ کے رزق حلال میں کشادگی اور فراخی عطا فرمائےآمین