دیارِ ادب ٹیکسلا
سوموار ... ۲۷؍ اگست ۲۰۱۴ء ... شعری اور تنقیدی نشست
صدارت: وحید ناشاد، نظامت: شہزاد عادل، غزل برائے تنقید: محمد یعقوب آسی ؔ ... دیگر شرکائے اجلاس: رانا سعید دوشی، راؤ عارف خیام، نذیر احمد انجم، اظہر محمود، تصور حسین تصور، طارق بصیر۔
محمد یعقوب آسی کی غزل کا مطلع:
کیسا ماحول سازگار ہوا
دل زدوں میں مرا شمار ہوا
غزل پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے رانا سعید دوشی نے کہا: مطلع بہت خوبصورت ہے، چھوٹی بحر میں اور ساز گار شعری ماحول میں کہی گئی ہے۔ عارف خیام راؤ نے آخری شعر کو بہترین قرار دیا اور کہا کہ اس شعر میں خاص طور پر زبان، خیال، بندش، اور بحر کی موزونیت پائی جاتی ہے۔
آگہی آگ ہی تو ہوتی ہے
کوئی کندن کوئی غبار ہوا
عارف خیام راؤ نے مزید کہا کہ دوسرے شعر کا مضمون گھسا پٹا ہے اور اظہار میں بھی کوئی نیاپن نہیں آیا؛ کسی نوآموز کو تو رعایت دی جا سکتی تھی، صاحبِ غزل کو نہیں۔ انہوں نے لفظ ’’ناقابلِ معافی‘‘ استعمال کیا۔ پانچویں شعر میں:
بیڑیاں ذات کی کبھی ٹوٹیں؟
آپ سے کب کوئی فرار ہوا
عارف خیام راؤ نے کہا: اگرچہ اس پر میری صاحبِ غزل سے بات ہو چکی ہے تاہم ’’خود‘‘ کے معانی میں ’’آپ‘‘ یہاں کھَلتا ہے۔ اس کے بعد والے شعر کو راؤ صاحب نے بہت عمدہ قرار دیا اور کہا اس میں بھرپور شعریت ہے:
لفظ تو تیز دھار تھے، سو تھے
اس کا لہجہ بھی آب دار ہوا
شہزاد عادل نے کہا: زیادہ تر امور میں مجھے عارف خیام راؤ سے اتفاق ہے، بشمول ’’آپ‘‘ اور ’’خود‘‘ کی معنویت کے، انہوں نے کہا یہ پنجابی اسلوب ہے۔ غزل کا مجموعی جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا: اچھی غزل ہے، چھوٹی بحر میں مناسب زمین میں کہی گئی یہ غزل سہلِ ممتنع کے بہت قریب ہے۔ رانا سعید دوشی نے ’’آپ‘‘ اور ’’خود‘‘ کے نکتے پر عارف راؤ اور شہزاد عادل سے اتفاق نہیں کہا؛ انہوں نے کہا میں اسے غلط نہیں سمجھتا۔ تاہم مصرع کے آخر میں سوالیہ نشان لگا دینے سے مصرع سوالیہ نہیں بن جایا کرتا؛ بلکہ یہ ایک انداز میں قاری پر جبر ہے۔ سوال لانے کے لئے لہجہ بدلنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا: یعقوب آسیؔ کے ہاں مزید بھی ایسے اشعار ہیں جن کی عبارت میں وہ سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ شعری ادب میں یہ نشانات لگائے جاتے ہیں تاہم میں ان سے مطمئن نہیں ہوں۔
تصور حسین تصور نے نکتہ اٹھایا کہ ’’صاحبِ صدر‘‘ درست ترکیب نہیں ہے؛ احباب کو چاہئے کہ وہ ’’صاحبِ صدارت‘‘ کہیں یا ’’جنابِ صدر‘‘ کہیں۔ انہوں نے کہا: آپ اور خود، ایک ہی بات ہے، تاہم تیسرا شعر مجھ پر نہیں کھل رہا۔
آرزو قبر میں اتار آئے
غم مگر جان پر سوار ہوا
فاضل ناقد کا مؤقف تھا کہ آرزو، خواب، تمنا، جستجو یہ زندگی کی علامات ہیں اور جب زندگی کو قبر میں اتار دیا تو پھر غم کہاں سوار ہو گا، کہ جان تو رہی نہیں۔ شہزاد عادل نے کہا: غم دل پر سوار ہوتا ہے، آرزو کے مر جانے سے طبعی موت واقع نہیں ہوتی۔ فاضل ناقدنے آرزو کو علامتی طور پر زندگی قرار دیا ہے، ایسے میں غم کا جان پر، دل پر سوار ہونا بالکل درست ہے اور یہ ایک عمدہ شعر ہے۔ تصور حسین تصور نے کہا: میں نے زندگی کے حوالے سے بات کی ہے۔ عارف خیام راؤ کا کہنا تھا کہ آرزو کا گلا گھُٹنے پر سب سے پہلا تاثر غم کا ہوتا ہے، جو جان پر سوار ہوتا ہے۔ انہوں نے اس کو بھرپور شعر قرار دیا۔ رانا سعید دوشی کا کہنا تھا کہ آرزو کے مرنے پر مایوسی کی کیفیت کا طاری ہونا بہت بھاری ہوتا ہے۔
غزل پر اپنی تفصیلی رائے دیتے ہوئے طارق بصیر نے کہا: مجھے بھی عارف راؤ کی اکثر باتوں سے اتفاق ہے۔ یعقوب آسیؔ نے ایسی غزلیں بھی کہی ہیں جو سر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں، تاہم اس غزل میں ایسا نہیں ہے، مضامین بھی سارے کھل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ردیف ’’ہُوا‘‘ اس کو ماضی میں لے جاتی ہے اور پہلے سے استعمال شدہ ہے۔ طارق بصیر نے حوالے کے طور پر نوید صادق کا ایک شعر پڑھا۔ ساتویں شعر کو سراہتے ہوئے طارق بصیر نے کہا: اس کے مضامین تو خوب ہیں ہی، لفظیات بھی بہت عمدہ ہیں اور اس میں تکرارکی صنعت بہت خوبی سے آئی ہے۔ انہوں نے چھٹے شعر کو بھی سراہا۔ تیسرے شعر پر اُن کا کہنا تھا کہ یہ فاضل شاعر کے ذاتی حوالے کا شعر ہونے علاوہ ہر محرومی کے حوالے سے خوبصورت اظہار ہے۔ چوتھا شعر:
کرب دل میں چھپا لیا سارا
دوستوں پر مرے جو بار ہوا
اس شعر کو طارق بصیر نے لفظی سطح پر آسان اور محسوساتی سطح پر عمیق قرار دیااور کہا پہلا مصرع محسوس کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔پانچواں شعر انا کے حوالے سے بن سکتا تھا مگر بن نہیں پایا۔ مطلع پر انہوں نے اپنے اِشکال کا اظہار کیا کہ دل زدگی اور ماحول کی سازگاری کا تعلق کیسے بنتا ہے۔ اس پر رانا سعید دوشی نے کہا: میرے نزدیک اس شعر کا مرکزی خیال ہے: ’’عشق دی سب توں وڈی عزت گلی گلی رسوائی اے‘‘ اور میں ابھی تک اِس کے حصار سے نہیں نکل سکا۔
عارف خیام راؤ نے کہا کہ سوالیہ نشان والی بات پر میں رانا صاحب سے متفق نہیں ہوں۔ اس غزل کا اسلوب نہ بیانیہ ہے مکالمہ بلکہ ایک طرح کی خود کلامی ہے جو غزل کے پورے ماحول پر حاوی ہے، اوریہ اس غزل کا حسن ہے۔ رانا صاحب سوالیہ علامات کے حوالے سے اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ شہزاد عادل نے یعقوب آسی کی ایک بہت پرانی غزل کا حوالہ دیا ’’تیرا سر قابلِ معافی ہے؟‘‘ اور کہا کہ یہ فاضل شاعر کا اسلوب ہے، جہاں انہوں نے محسوس کیا کہ قاری کو اِشکال ہو سکتا ہے، انہوں نے علامت ڈال دی، اس میں کوئی قباحت نہیں۔ طارق بصیر اور شہزاد عادل کا مؤقف تھا کہ پڑھنے والے کا لہجہ بھی شعر کو بناتا ہے۔ شہزاد عادل نے مزید کہا کہ جب شاعر پڑھے گا اور جب قاری پڑھے گا تو، فرق تو آئے گا۔
اظہر محمود نے کہا آرزو کے مرنے کا غم انسان پر سوار ہو جایا کرتا ہے، مجھ پر یہ شعر پوری طرح کھُل رہا ہے۔ مطلع بہت عمدہ ہے، چوتھا شعر ایک منظر نامہ بناتا ہے۔ ساتواں شعر بہر لحاظ بہت نمایا ں ہے اس میں شاعر کی مشاقی ظاہر ہو رہی ہے۔ نذیر احمد انجم نے کہا: چھٹا شعر ظاہر کرتا ہے کہ شاعر نے بہت تلخیاں برداشت کی ہیں۔ رانا سعید دوشی نے اس کو دو آتشہ قرار دیا۔
نذیر احمد انجم کی خواہش تھی کہ تصور حسین تصور کے نکتہ پر بات کی جائے، تاہم اکثر احباب کا خیال تھا کہ غزل پر بات مکمل ہو لے، پھر اس پر بات کرتے ہیں، کہ یہ نکتہ غزل سے براہِ راست تعلق نہیں رکھتا۔
صدرِ مجلس جناب وحید ناشاد نے بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا: یہ غزل تفہیم میں خاصی آسان ثابت ہوئی، مطلع پر رانا صاحب کی بات بہت عمدہ ہے، دیگر احباب نے بھی تقریباً ہر پہلو پر سیر حاصل گفتگو کی۔ یہ ایک کامیاب غزل ہے اور میں یقین کے ساتھ اس پر اپنی پسندآوری کا اظہار کر رہا ہوں۔ صاحبِ غزل نے احباب کا شکریہ ادا کیا۔
تصور حسین تصور کے اٹھائے گئے نکتے پر کہ ’’صاحبِ صدر‘‘ کی بجائے ’’صدرِ محفل‘‘ یا ’’صاحبِ صدارت‘‘ کہا جانا چاہئے؛ رانا سعید دوشی، محمد یعقوب آسیؔ اور عارف خیام راؤ نے مکمل اتفاق کااظہار کیا۔ احباب نے کہا کہ بعض تراکیب درست نہ ہوتے ہوئے بھی رائج ہو جایا کرتی ہیں، جیسا کہ ’’صاحبِ صدر‘‘ کے ساتھ ہے؛ اصولی طور پر تصورحسین تصور کا مؤقف درست ہے۔ تصور حسین تصور نے اس پر ممنونیت کا اظہار کیا۔
ناظمِ اجلاس شہزاد عادل نے شعری نشست کا آغاز اپنے اشعار سے کیا:
اسپِ غم پر سوار ہے دنیا
موت کی راہ وار ہے دنیا
زخم ہے مائلِ نمو میرا
کس لئے بے قرار ہے دنیا
اظہر محمود:
اب تو روشن ہوں خد و خال مرے
آئنے ہو گئے نڈھال مرے
ختم ہو جائے گا مرا قصہ
ختم ہوتے نہیں وبال مرے
تصور حسین تصور:
بک بک اتھرو حل ہسے دا
کیہ جیہا پایا پھل ہسے دا
اکھیاں وچوں نظری آندا اے
سینے اند سل ہسے دا
عارف خیام راؤ نے ایک بلاعنوان مختصر نظم پیش کی:
روز کے مسافر کا
راستہ بھی تنگ آ کر
ساتھ چھوڑ دیتا ہے
طارق بصیر:
تیرے کولوں رُس کے میرا ٹر پینا
تیری اکھ دیاں جھڑیاں مینوں لے ڈُبیاں
اکھیاں سانبھ کے رکھیاں بے وس ہو گئیاں
اچی تھانویں لڑیاں مینوں لے ڈُبیاں
رانا سعید دوشی:
میں نے بھی دودھ پیا ہے اسی دھرتی ماں کا
اس لئے ہیں یہ شجر میرے رضاعی بھائی
تیرا دشمن بھی وہی ہے جو مرا دشمن ہے
اب مناسب نہیں آپس میں لڑائی بھائی
محمد یعقوب آسیؔ :
اب کے اس رنگ میں کھلی ہے بہار
رنگ موجود، باس نا موجود
جو بگولوں کو کہہ رہے ہیں نسیم
ان سے کہئے بھی کیا کہ ہے بے سود
صدرِ محفل جناب وحید ناشاد نے نظم پیش کی: ’’کبھی اے کاش ایسا ہو‘‘۔ ان کی پیش کردہ غزل سے دو شعر
جرم جیسے کر دیا ہے میں نے اڑنا سیکھ کر
شہر کے سب لوگ جلتے ہیں مری پرواز سے
آ رہا ہے ڈر مجھے انجام کا آغاز سے
ابتدا سے ہی نظر آتے ہیں وہ ناراض سے
۔۔۔
صدرِ محفل (صدرِ حلقہ) جناب وحید ناشاد کی اجازت سے ناظمِ مالیات نے مختصر رپورٹ پیش کی۔ ناطمِ اجلاس (معتمد عمومی) نے اجلاس کو بتایا کہ مجلس عاملہ نے نومبر ۲۰۱۴ء کے آخری عشرے میں خصوصی محفلِ مشاعرہ منعقد کرنے کی منظوری دے دی ہے، اور اس سلسلے میں ذمہ داریوں کی ابتدائی تقسیم ہو چکی ہے۔ خصوصی مشاعرے پر اٹھنے والے اخراجات کی میں ہر رکن مبلغ دو ہزار روپے زرِ تعاون ادا کرے گا، نذیر احمد انجم صاحب نے کچھ زائد تعاون کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ دیارِ ادب کا سہ ماہی خبرنامہ ’’ادب زار‘‘ سال ۲۰۱۵ء کی پہلی سہ ماہی سے جاری کرنے کے انتظامات کئے جا چکے ہیں۔خصوصی محفلِ مشاعرہ کے بعد اس کو حتمی شکل دی جائے گی۔
طے کیا گیا کہ آج کے بعد دیارِ ادب کے معمول کے ادبی اجلاس ہفتہ وار ہوا کریں گے:ہر ہفتے (سنیچر) کے دن مغرب کی نماز کے بعد اسی کمرے میں؛ اگلا اجلاس ہفتہ یکم نومبر ۲۰۱۴ء کو ہو گا جس میں حاضر شعراء سانحۂ کربلا کے حوالے سے اپنے اشعار پیش کریں گے۔
روداد نگار: ... محمد یعقوب آسیؔ (معتمد نشریات)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل برائے تنقید
۱
کیسا ماحول سازگار ہوا
دل زدوں میں مرا شمار ہوا
۲
یار محوِ شمارِ رنج و طرب
عشق بھی جیسے کاروبار ہوا
۳
آرزو قبر میں اتار آئے
غم مگر جان پر سوار ہوا
۴
کرب دل میں چھپا لیا سارا
دوستوں پر مرے جو بار ہوا
۵
بیڑیاں ذات کی کبھی توٹوٹیں؟
آپ سے کب کوئی فرار ہوا
۶
لفظ تو تیز دھار تھے، سو تھے
اس کا لہجہ بھی آب دار ہوا
۷
آگہی آگ ہی تو ہوتی ہے
کوئی کندن کوئی غبار ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد یعقوب آسیؔ
۔۔۔