جناب اور صاحب
قیصرانی نے کہا:
باذوق نے کہا:
جناب باذوق صاحب
غلط العام ہے یا غلط العوام ؟
ایک بار بچپن میں، امتحان میں “
سنگِ مرمر کا پتھر“ کی ترکیب استعمال کی تو کافی شاباشی

ملی تھی استاد کی طرف سے ۔۔۔
آداب عرض ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا خیال ہے کہ زیف بھائی سے غلطی سے باذوق بھائی کا پیغام اوور رائٹ ہو گیا ہے۔ یعنی اقتباس کی بجائے قطع و برید۔
بےبی ہاتھی
قصرانی صاحب
کیونکہ مجھے اپنی ریسریچ کو کاغذ پر مکمل کرنے میں 6 ماہ سے ایک سال لگ جائے گا
اس لیے میں اس بحث میں حصہ نہیں لے سکتا۔ ہاں اردو کو اردو کہنے سے پہلے اسکو دہلی میں
ریختہ کہا گیا اس سے پہلے اس کو
دکھنی کہا گیا۔ اردو کے اور بھی نام ہیں اور ایک زمانے میں بےنام بھی تھی اور اب بد نام بھی ہے -
ریختہ کہ تم ہی استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوی میر بھی تھا۔
میری ہر بات کو ایک افسانہ کہیں گے
معلوم ہے مجھ کو سب دیوانہ کہیں ہے
انکھوں میں شرارت، ہونٹوں پر مسکراہٹ
کوئی کچھ بھی کہہ دے اِس کو اترانہ کہیں گے
تفسر
(کیوں کہ آپ یہ میری قسط نمبر 5 میں پڑھیں گے اس لئے میں اسکو یہا ں درج کررہا ہوں -
( اگر کسی طرح میں قسط نمبر5 پوسٹ کرسکوں ۔۔۔۔۔ تو وہ ایک دوسری انمول کہانی ہوگئی۔میں نے دوبار آن لائن ایڈیٹنگ کی کوشش کی لیکن آپکی محفل مجھے بتائے بغیر مجھ کو لاگ آوٹ کردیتی ہے - ہر دفعہ مجھے پھر سے ایڈیٹنگ کرنی پڑتی ہے۔ ۔۔۔ میں آپ سے اس کے متعلق علیحدہ سے بات کروں گا اس لنک میں نہیں۔- شیاید آپ کے پاس اس کا جواب موجود ہو۔ )
اسکریپٹ ،
املا ،
ہجوں اور
تلفظ کی غلطیوں کے ساتھ
“صوفی بابا فرید کا انتقال١٢٦٤ ہوا - انہیں اردو کی پہلی نظم لکھنا اور اردو میں پہلی گفتگو کرنے کا امتیاز حاصل ہے ۔ یہ اردو کی ابتدا تھی یہ مانا کہ بابا فرید کے زمانے میں اس زبان کا نام
اردو نہیں تھا - لیکن یہ زبان فارسی کواور مقامی زبانوں کےجوڑ توڑ سے پیدا ہورہی تھی۔ اس زمانے کے معززین (elite ) فارسی بولتے تھے ، متوسط اور نیچلےطبقے کےلوگ مختلف مقامی زبانیں بولتے تھے -
بابا فریدنے اپنےزمانےمیں ان زبانوں کی جوڑ توڑ شروع کی بابا فرید نے
پہلی بار اس زبان کا استعمال صوفی خواجہ برُہان الدین بابا کی ملازمہ پر کیا - ملازمہ کئی مقامی زبان سے واقف تھی اور بابا فرید فارسی کے عالم تھے ، مُقامی زبانوں کوسمجھتے تھے ۔ اس بات کا ہمارے پاس دستاویزی ثبوت موجودہے۔
امیر خسرو (
١٢٥٣-١٣٢٨) کومعزز اور نچلےطبقہ کی مختلف زبانوں کو فارسی سےجوڑ نے کا امتیاز اسلےء ملا کہ انہوں نےبابا فرید کے کام کو بےانتہا ترقی دی۔ امیر خسرو کو فارسی کی شاعری میں مہارت تھی وہ اس زبان (اردو) کے ایک عمدہ شاعر ہیں۔ امیر خسرو کے پہلیاں اور گیت آج بھی شوق سے پڑھے جاتے ہیں ۔
ایک گنی نے یہ گن کینا - ہربل پنجرے میں دیدینا
دیکھو جادوگر کا کمال - ڈارے ہرا نکا لے لال ek guni nay gun keena - Hariyal pinray mein dedeena
Deko jadoogar ka kamal- daray hara nikaalay lal
بالا تھا جب سب کو بھایا - بڑا ہوا کچھو کام نہ آیا
خسرو کیہ دیا اسکا ناؤں - ارتھ کہو نہیں چھاڑو گاوںBaala tha jab sab ko bhaaya - bada huva kuchu kaam na aaya
Khusrau keh diya uska naav - arth karo nahin chaado gaanv
اللہ حافظ
تفسیر
21 جون ، لاس انجیلس