جس ملک میں جائیں وہاں کی زبان سیکھنی چاہیے ۔ جب کوریا میں تھا تو کورین سیکھنے کی کوشش کی ۔ جب ملائشیا میں تھا تو بہاسا۔ اب عرب میں ہوں تو عربی۔
مگر کورین زبان کا اوریجن چائنیز ہے۔ ہماری جڑیں وہاں نہیں۔ بہاسا کی جڑیں فارسی ، ہندی اور عربی میں ہیں۔ مگر وہ رومن میں لکھتے ہیں ۔ بڑی پریشانی کا شکار ہیں
جب عربی سیکھنے کی کوشش کررہاہوں تو معلوم پڑا یہ تو بہت اسان ہے۔ اردو میں ہم بہت سے عربی الفاظ بولتے ہیں۔ اگر عربی زبان پاکستان کی قومی زبان ہو تو ہر کوئی اسکو قبول کرے گا اسانی سے۔ پھر قران پڑھنے میں بھی اسانی۔ پھر کوئ بھی اسانی سےقوم کو بے وقوف نہیں بناسکتا