سید عاطف علی — نومبر 22، 2020 2:15 شام
میں نے بھی بچپن میں یہی توجیہہ سنی تھی ۔ لیکن یہ ایک محض تمثیلی تفہیم کی غرض سے کی گئی توضیح لگتی ہے ۔ ورنہ مخارج و حروف کا شمس و قمر سے بھلا کیا واسطہ ۔حروفِ قمریہ اور حروفِ شمسیہ :
حروفِ قمریہ کی تعریف :
وہ حروف جن سے پہلے ’’ لامِ تعریف‘‘ پڑھاجائے ۔ ان کو ’’ حروفِ قمریہ ‘‘ کہتے ہیں جیسے اَ لْیَوْمَ، اَ لْکِتَاب حُروفِ قمریہ چودہ ہیں ۔ جن کا مجموعہ ’’اَبْغِ حَجَّکَ وَخَفْ عَقِیْمَہْ ‘‘ ہے ۔
حروفِ قمریہ کو قمریہ کہنے کی وجہ :
قمرکا لغوی معنی ’’چاند ‘‘ جس طرح چاند کی موجودگی میں ستارے موجود رہتے ہیں اسی طرح لام تعریف کے بعدجب حروف قمریہ آجائیں تو لام تعریف بھی موجود رہتاہے ۔ یعنی پڑھاجاتاہے ۔
حروفِ شمسیہ کی تعریف :
وہ حروف جن سے پہلے لامِ تعریف نہ پڑھاجائے بلکہ وہ اپنے بعد والے حروف میں مُدغَم ہوجائے ان کو ’’حروفِ شمسیہ ‘‘ کہتے ہیں جیسے اَلنَّجْمُ حروفِ شمسیہ بھی چودہ ہیں اوروہ یہ ہیں ص، ذ، ث، د، ت، ز، س، ر، ش، ض، ط، ظ، ل، ن
حروفِ شمسیہ کو شمسیہ کہنے کی وجہ :
شمس کا لغوی معنی ’’سورج‘‘ جب سورج نکلتاہے تو ستارے چُھپ جاتے ہیں اسی طرح لامِ تعریف کے بعد حروف شمسیہ آتے ہیں تو لامِ تعریف چُھپ جاتاہے یعنی پڑھانہیں جاتا ۔
اظہارِ قمری اور ادغام شمسی کی تعریف :
حروفِ قمریہ میں لام کا اظہار اورحروفِ شمسیہ میں لام کا ادغام ہوتا ہے ۔ حروفِ قمریہ میں لام کے اظہار ( یعنی لامِ تعریف کو ظاہر کرکے پڑھنے ) کو ’’اظہارِ قمری‘‘ اور حروفِ شمسیہ میں لام کے ادغام کو ’’ادغامِ شمسی ‘‘ کہتے ہیں ۔